اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کا اعلان: ایران کا بحری محاصرہ ختم، حتمی فیصلے کا وقت آ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران بحری محاصرہ
ٹرمپ نے ایران سے متعلق ’حتمی فیصلہ‘ کے لیے سچویشن روم میں اجلاس طلب کیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعہ کے روز ایران پر عائد بحری محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے بغیر کسی فیس کے کھول دے۔ 

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ بحری محاصرے کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہاز اب اپنی منزلوں کی جانب واپسی کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ 

ان کے مطابق امریکہ نے خطے میں نافذ بحری پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی صدر نے اس کے بدلے ایران پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دونوں سمتوں میں بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دے اور کسی قسم کی گزرگاہ فیس عائد نہ کرے۔ 

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ اگر آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔ 

ٹرمپ کے مطابق امریکی مائن سویپرز متعدد بارودی سرنگوں کو 

تباہ کر چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ سرنگوں کی صفائی ایران کو مکمل کرنا ہوگی۔

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 03 17 11 م

جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ زیرِ زمین موجود افزودہ جوہری مواد کو امریکہ، ایران اور انٹرنیشنل ایٹمی ایجنسی کے تعاون سے نکال کر مکمل طور پر تلف کیا جائے گا۔

ایرانی منجمد اثاثوں کے بارے میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ فی الحال کسی قسم کی رقم کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا، اگرچہ دیگر نسبتاً کم اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ اب وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ جنگ اور مجوزہ معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔