اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

واشنگٹن کے حملے، تہران کا جوابی وار… آبنائے ہرمز پھر آگ کی لپیٹ میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران کشیدگی

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی، جہاں امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی بحران کے مرکز میں لا کھڑا کیا، جبکہ مذاکراتی عمل مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر اسی دوران خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ 

جنگ بندی کے باوجود امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے نہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا بلکہ مذاکراتی عمل پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا اور جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں ڈرون کنٹرول مرکز پر فضائی حملے کیے۔ 

دوسری جانب تہران نے امریکی اڈے کو نشانہ بنانے اور خطے میں میزائل و ڈرون کارروائیوں کا دعویٰ کیا، جس کے بعد یہ صورتحال 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سب سے خطرناک تصادم تصور کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران نے 27 مئی کی رات کویت کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا، جسے کویتی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کر دیا۔ 

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں 5 خودکش ڈرونز بھیجے تھے، جنہیں امریکی فورسز نے تباہ کر دیا، جبکہ چھٹا ڈرون لانچ ہونے سے 

پہلے بندر عباس میں اس کے کنٹرول اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔

واشنگٹن نے ان کارروائیوں کو ’دفاعی اور محدود‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور امریکی افواج کا تحفظ تھا، تاہم تازہ جھڑپوں نے جنگ بندی کی کمزور حیثیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بندر عباس میں دھماکوں کی تصدیق کی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ 

اسی دوران ایرانی سرکاری ٹی وی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں پر انتباہی فائرنگ کی۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، مگر آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور امریکی بحری و اقتصادی دباؤ نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 

اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں اور عالمی معیشت میں بے چینی پیدا ہو گئی۔

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 03 19 10 م

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بار پھر ایران کو جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تہران شدید خواہش رکھتا ہے کہ معاہدہ ہو، لیکن اب تک پیش کی گئی تجاویز امریکا کے لیے قابل قبول نہیں۔ 

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یا تو معاہدہ ہوگا، یا پھر ہمیں معاملہ طاقت سے حل کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک مبینہ ابتدائی فریم ورک نشر کیا، جس کے مطابق پاکستانی ثالثی کے تحت ایک مجوزہ معاہدے پر کام جاری ہے۔ 

اس مجوزہ سمجھوتے میں ایرانی بندرگاہوں سے امریکی محاصرہ ختم کرنا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا شامل بتایا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس دستاویز کو مکمل طور پر جعلی قرار دے دیا۔

ایران اس وقت 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی کم از کم نصف رقم جاری کر دی جائے۔ 

یہی مسئلہ اور ایرانی جوہری پروگرام دونوں فریقین کے درمیان سب سے بڑے اختلافات میں شمار ہو رہے ہیں۔

ChatGPT Image 28 مايو 2026، 03 17 11 م

واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر ختم کرے، جبکہ تہران جوہری معاملے پر حتمی مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتا ہے۔

ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی وسیع فوجی کارروائی کے لیے اضافی اہداف کی نئی فہرست تیار کر لی ہے۔ 

این بی سی نیوز کے مطابق ایرانی فوج نے اپنی باقی ماندہ تنصیبات کو زیادہ محفوظ، متحرک اور خفیہ بنا لیا ہے، جس کے باعث مستقبل کی کارروائیاں پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوں گی۔

ٹرمپ نے ایران کو
نئی جنگ کی
دھمکی دیتے ہوئے
سخت انتباہ جاری کیا

رپورٹ کے مطابق امریکی اہداف میں شہاب، سجیل اور خرمشہر طرز کے متحرک بیلسٹک میزائل لانچر، زیرِ زمین جوہری تنصیبات خصوصاً فردو، فضائی دفاعی نظام، ڈرون آپریشن مراکز اور آبنائے ہرمز و بندر عباس کے قریب موجود بحری اثاثے شامل ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں ہیج ہاگ اسٹریٹجی اختیار کی ہے، جس کے تحت مستقل فوجی اڈوں پر انحصار کم کرکے متحرک، منتشر اور خفیہ دفاعی نظام اپنایا گیا ہے تاکہ امریکی فضائی حملوں کی مؤثریت کم کی جا سکے۔
امریکی اندازوں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 5 ہزار سے زائد فوجی اہداف پر حملوں کے بعد ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کیا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران اب بھی آبنائے ہرمز میں عالمی تیل سپلائی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔
اگرچہ ابتدائی امریکی حملوں سے ایرانی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی کسی بھی وسیع کارروائی کے لیے نہایت درست انٹیلی جنس، مسلسل نگرانی اور بڑی مقدار میں جدید ہتھیار درکار ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی دباؤ جنگ بندی کو بچانے کی آخری کوششیں کر رہا ہے۔