امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی، جہاں امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی بحران کے مرکز میں لا کھڑا کیا، جبکہ مذاکراتی عمل مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اہداف میں شہاب، سجیل اور خرمشہر طرز کے متحرک بیلسٹک میزائل لانچر، زیرِ زمین جوہری تنصیبات خصوصاً فردو، فضائی دفاعی نظام، ڈرون آپریشن مراکز اور آبنائے ہرمز و بندر عباس کے قریب موجود بحری اثاثے شامل ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں ہیج ہاگ اسٹریٹجی اختیار کی ہے، جس کے تحت مستقل فوجی اڈوں پر انحصار کم کرکے متحرک، منتشر اور خفیہ دفاعی نظام اپنایا گیا ہے تاکہ امریکی فضائی حملوں کی مؤثریت کم کی جا سکے۔
امریکی اندازوں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 5 ہزار سے زائد فوجی اہداف پر حملوں کے بعد ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کیا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران اب بھی آبنائے ہرمز میں عالمی تیل سپلائی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔
اگرچہ ابتدائی امریکی حملوں سے ایرانی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی کسی بھی وسیع کارروائی کے لیے نہایت درست انٹیلی جنس، مسلسل نگرانی اور بڑی مقدار میں جدید ہتھیار درکار ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی دباؤ جنگ بندی کو بچانے کی آخری کوششیں کر رہا ہے۔