پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے لیے اہم دورہ کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
دونوں فریق جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری تنازع کے حل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کی کوششوں کے تحت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو واشنگٹن پہنچ گئے، جہاں وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال، اور بالخصوص ایران، امریکا مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ مارکو روبیو واشنگٹن میں اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔
مزید پڑھیں
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حالیہ امریکی حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ فریقین کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران ابھی کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، تاہم دونوں فریق معاہدے کے قریب ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور یورینیم افزودگی کا معاملہ اب بھی بنیادی اختلافات میں شامل ہے۔
وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار ان معاملات پر ایک ابتدائی فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ تفصیلی امور بعد کے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ طویل مدت تک ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بار پھر کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم تمام آپشنز اب بھی میز پر موجود ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی سرخ لکیروں میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے زور دے کر کہا کہ تہران کسی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی بیانات کے بجائے سرکاری سفارتی پیغامات کو اہمیت دیتا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق زیر غور مجوزہ معاہدے میں 60 روز کے لیے جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، اور متنازع جوہری معاملات پر مزید مذاکرات شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کی تیل برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیوں کے خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں ایران سے مخصوص ضمانتیں طلب کی جائیں گی۔
تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کا متن ابھی مکمل نہیں ہوا اور نہ ہی اسے حتمی منظوری ملی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران اس معاہدے پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ 28 فروری کو شروع ہونے والے بحران کے بعد امن کی جانب سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی جیسے حساس معاملات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔