اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

ایران، امریکا 60 روزہ جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران معاہدہ

خلاصہ:
امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی نہیں دی۔
مجوزہ معاہدے میں ایرانی جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں پر مذاکرات شامل ہیں، جبکہ خطے میں فوجی کشیدگی بدستور جاری ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے تاہم اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور خطرناک سطح پر برقرار ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں آئندہ 60 روز کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی محور بنایا گیا ہے، جبکہ اس عرصے میں ایران پر عائد بحری پابندیاں نرم کرنے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ تہران 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔

اس کے بدلے میں واشنگٹن ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور انسانی و تجارتی سہولتوں پر بات چیت کے 

لیے آمادگی ظاہر کرے گا۔ معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ، فیس یا ہراسانی کے جاری رہے گی۔

امریکا ایران کشیدگی

امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی زیادہ تر شقوں پر گزشتہ منگل کو اتفاق ہو گیا تھا، لیکن ابھی تک دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کی تفصیلات پر غور کے لیے مزید چند دن چاہتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ 

امریکی فوج نے ایرانی ڈرونز مار گرانے اور جنوبی ایران میں ایک اڈے پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے جواباً ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ 

یہ جھڑپیں 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے بعد سب سے خطرناک تصور کی جا رہی ہیں۔

امریکا ایران معاہدہ
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے خلاف کسی شرط کو قبول نہیں کرے گا

ادھر کویت نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، جنہیں اس نے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ 

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی توانائی منڈیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران شدید خواہش رکھتا ہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے، لیکن واشنگٹن اب تک موصول ہونے والی تجاویز سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یا تو مناسب معاہدہ ہوگا، یا پھر ہمیں معاملہ طاقت سے حل کرنا پڑے گا۔