لیے آمادگی ظاہر کرے گا۔ معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ، فیس یا ہراسانی کے جاری رہے گی۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی زیادہ تر شقوں پر گزشتہ منگل کو اتفاق ہو گیا تھا، لیکن ابھی تک دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کی تفصیلات پر غور کے لیے مزید چند دن چاہتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی فوج نے ایرانی ڈرونز مار گرانے اور جنوبی ایران میں ایک اڈے پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے جواباً ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔
یہ جھڑپیں 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے بعد سب سے خطرناک تصور کی جا رہی ہیں۔
ادھر کویت نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، جنہیں اس نے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی توانائی منڈیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران شدید خواہش رکھتا ہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے، لیکن واشنگٹن اب تک موصول ہونے والی تجاویز سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یا تو مناسب معاہدہ ہوگا، یا پھر ہمیں معاملہ طاقت سے حل کرنا پڑے گا۔