اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

ایران امریکہ ممکنہ معاہدے میں تاخیر کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ معاہدہ اور سفارتی مذاکرات کا علامتی منظر
امریکہ اسرائیلی تحفظات کے باعث ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جو ایران کے سامنے جھکنے سے تعبیر کیا جائے (فوٹو: رائٹرز)

واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک جامع معاہدے کے قریب پہنچنے کے باوجود باضابطہ اعلان میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس تعطل کی بنیادی وجہ پیچیدہ اسٹریٹیجک کیلکولیشن اور دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے اختلافات ہیں جو تاحال مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔

مذاکرات کے حالیہ دور میں ایک ابتدائی فریم ورک پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس میں 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع شامل ہے۔

اس مسودے کے تحت آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے 

اور ایرانی جوہری پروگرام پر وسیع مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس پیشرفت میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز اب بھی سب سے بڑی رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔

واشنگٹن افزودہ یورینیم کے ذخائر میں بڑی کٹوتی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ تہران اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے اور بحری گزرگاہ پر کسی قسم کی فیس کی ادائیگی سے انکاری ہے۔

ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
ٹرمپ کے اختیارات کے خلاف رائے شماری میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے تجویز مسترد کی گئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو محض ایک تصفیہ کے بجائے ایک بڑی تزویراتی فتح کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

وہ آخری لمحات تک زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ اسے امریکی مفادات کے لیے بہترین سودا ثابت کر سکیں۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران نے 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس کے بدلے میں امریکہ منجمد اثاثوں کی بحالی، پابندیوں میں بتدریج نرمی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی پر غور کر رہا ہے۔

فی الحال سفارتی پیش رفت کے باوجود میدان میں کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ 

سیاسی ماہرین اسے ’متوازی دباؤ‘ کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جہاں ہر فریق مذاکراتی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے فوجی دباؤ بڑھاتا ہے۔

تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دوسری جانب پاکستان اس حساس معاملے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات لیک کی گئی ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان لیکس کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کے قریب تو ہیں لیکن تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال دستخط کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، یہاں تک کہ سفارتی کوششوں کی ناکامی کا امکان بھی موجود ہے۔

دریں اثنا لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور علاقائی سلامتی کے خدشات بھی اس معاہدے کے اعلان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اسی طرح امریکہ اسرائیل کے سیکیورٹی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا جسے ایران کے سامنے جھکنے سے تعبیر کیا جائے۔

تھامس فریڈمین کا ٹرمپ کی پالیسی اور آبنائے ہرمز پر تجزیہ
فریڈمین نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو خودپسند اور غیر محتاط قرار دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ دنوں توانائی کی عالمی منڈیوں کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے سخت موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے سلطنت عمان کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بحری گزرگاہ پر کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس عائد کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی صدر ٹرمپ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ گزرگاہ پر فیس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

اس دھمکی آمیز لہجے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس سے سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل کے حوالے سے 3 ممکنہ منظرنامے سامنے آ رہے ہیں جن میں فوری معاہدہ، عارضی تصفیہ یا مذاکرات کی مکمل ناکامی شامل ہے۔ 

فی الحال تمام نظریں امریکی صدر کے سیاسی فیصلے پر لگی ہیں جو اس پورے عمل کا رخ متعین کرے گا۔