خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے آج جمعرات کو منیٰ کے شاہی محل میں سالانہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ اسلامی شخصیات، خادم الحرمین الشریفین کے مہمانوں، سرکاری اداروں کے مہمانوں، حج وفود کے سربراہان اور حجاج امور کے دفاتر کے نمائندوں نے شرکت کی، جنہوں نے اس سال فریضۂ حج ادا کیا۔
استقبالیہ میں شریک نمایاں عالمی شخصیات میں البانیہ کے صدر بیرام بیگائے، چاڈ کے صدر محمد ادریس دیبی ایتنو، ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز، مصر کے وزیرِ اعظم مصطفیٰ مدبولی، مالدیپ کے نائب صدر حسین محمد لطیف، ماریطانیہ کے وزیرِ اعظم المختار اجائے اور گنی کے وزیرِ اعظم امادو اوری باہ شامل تھے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت میں ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں اور عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس مبارک موقع کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر، سلامتی اور امن کا ذریعہ بنائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مملکتِ سعودی عرب کو حرمین شریفین اور مقدس مقامات کی خدمت کا شرف عطا فرمایا ہے، اور ہم اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھیں گے جس کی بنیاد بانیِ مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے رکھی تھی اور جسے سعودی قیادت نے نسل در نسل آگے بڑھایا ہے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ حجاج کرام کے حج اور نیک اعمال قبول فرمائے، انہیں بحفاظت ان کے وطن واپس لوٹائے اور ہمارے ممالک کو امن، استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔
اس موقع پر وزیرِ حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ حج 1447ھ کی تیاریوں کا آغاز گزشتہ سال 12 ذوالحجہ سے ہی خادم الحرمین الشریفین کی نگرانی اور ولی عہد کی براہِ راست رہنمائی میں کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حج کے انتظامات کے لیے 60 سے زائد سرکاری اداروں پر مشتمل نظام نے متحد ہو کر کام کیا۔
پہلی مرتبہ حجاج امور کے دفاتر کے لیے براہِ راست معاہدوں کا نظام متعارف کرایا گیا، جس کے تحت قومی کمپنیوں کے درمیان مسابقتی ماحول پیدا کیا گیا اور ایک ملین سے زائد حجاج کے معاہدے موسمِ حج کے آغاز سے 6 ماہ قبل مکمل کر لیے گئے، جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔
توانائی کے شعبے میں تمام برقی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر خودکار بنایا گیا اور 70 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک نیٹ ورک کے ذریعے سب اسٹیشنوں کو منسلک کیا گیا۔
منیٰ 7 پاور اسٹیشن کو 134 میگا وولٹ کی صلاحیت کے ساتھ فعال کیا گیا جبکہ 130 کلومیٹر سے زیادہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کی بہتری اور توسیع کی گئی۔
پانی کی فراہمی کے حوالے سے مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں 80 لاکھ مکعب میٹر سے زائد پانی فراہم کیا گیا۔
نقل و حمل کے شعبے میں دنیا بھر کے 366 مقامات سے 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد پروازیں وصول کی گئیں۔
حرمین ٹرین کی 5300 سے زائد اور مشاعر ٹرین کی 2000 سے زائد سروسز چلائی گئیں جبکہ 24 ہزار سے زیادہ بسوں نے حجاج کی آمد و رفت میں حصہ لیا۔
صحت کے شعبے میں بستروں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی، جن میں 3800 بستر مشاعر مقدسہ میں مختص کیے گئے۔
اس نظام میں 52 ہزار سے زائد تربیت یافتہ طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ ’صحتی استطاعت‘ سرٹیفکیٹ بھی نافذ کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں 25 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت ’نسک‘ ایپ کو ترقی دے کر 130 سے زائد ڈیجیٹل خدمات شامل کی گئیں، جو حاجی کو اپنے وطن سے روانگی سے لے کر مناسک کی تکمیل تک ہر مرحلے میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔
اسی طرح الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے معاہدوں، ویزا اجراء، نگرانی، ڈیٹا تجزیہ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے حج خدمات کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا گیا۔
تقریب کے اختتام پر تمام مہمانوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور بعد ازاں ان کے ساتھ ظہرانے میں شرکت کی۔