حجاجِ کرام ایامِ تشریق کے پہلے دن مشعرِ منیٰ میں رمیِ جمرات، ذکر و دعا اور دیگر مناسکِ حج کی ادائیگی میں مصروف رہے، جبکہ سعودی حکام نے حجاج کی سہولت، سلامتی اور روانی کے لیے مربوط انتظامات اور جدید خدمات فراہم کیں۔
حجاجِ بیت اللہ الحرام آج جمعرات 11 ذوالحجہ کو ایامِ تشریق کے پہلے دن، المعروف ’یومُ القر‘ میں مناسکِ حج کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مشعرِ منیٰ اور جمرات کمپلیکس میں روح پرور ماحول، مربوط انتظامات اور مکمل خدماتی نظام کے تحت حجاج کرام اپنے مناسک اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کر رہے ہیں، جب کہ وہ گزشتہ روز یومِ نحر کے اہم اعمال، جن میں رمیِ جمرہ عقبہ، طوافِ افاضہ اور قربانی شامل ہیں، مکمل کر چکے ہیں۔
جمرات کمپلیکس میں حجاج کی بڑی تعداد نے تینوں جمرات کی رمی کے لیے رخ کیا، جہاں انہوں نے ترتیب کے مطابق پہلے جمرہ صغریٰ، پھر جمرہ وسطیٰ اور آخر میں جمرہ عقبہ کو 7، 7 کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی۔
مزید پڑھیں
اس دوران حجاج کی نقل و حرکت میں غیرمعمولی روانی دیکھنے میں آئی، جس کا سہرا دقیق تفویجی منصوبہ بندی اور مؤثر میدانی انتظامات کو جاتا ہے، جنہوں نے مختلف راستوں اور منزلوں پر حجاج کی منظم تقسیم کو یقینی بنایا۔
سعودی سکیورٹی، صحت اور خدماتی اداروں نے بھی مشعرِ منیٰ میں اپنی میدانی موجودگی مزید مضبوط بنائی۔
تنظیمی ٹیمیں، ایمبولینس سروسز اور سول ڈیفنس کے اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہے تاکہ حجاج کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے اور ہنگامی حالات میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
یہ تمام اقدامات ضیوفِ رحمن کو سہولت اور اطمینان فراہم کرنے کے لیے ایک مربوط آپریشنل نظام کا حصہ ہیں۔
یومُ القر کے دوران حجاج کرام ذکر، دعا اور تلبیہ کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جبکہ ایامِ تشریق حج کے روحانی ماحول کا تسلسل سمجھے جاتے ہیں، جہاں عبادت، عاجزی اور اللہ سے قربت کی کیفیت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
حجاج کرام ایامِ تشریق کے دوران منیٰ میں قیام جاری رکھیں گے، جبکہ جلد واپسی اختیار کرنے والے حجاج کل جمعہ کو رمیِ جمرات اور مسجد الحرام میں طوافِ وداع کے بعد منیٰ سے روانہ ہونا شروع کریں گے۔
شرعی احکام کے مطابق متعجل حاجی کو دوسرے دن رمی مکمل کرکے غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ چھوڑنا ضروری ہوتا ہے، بصورتِ دیگر اسے 13 ذوالحجہ تک قیام اور مزید رمی کرنا لازم ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں متعلقہ اداروں نے متعجل حجاج کے استقبال کے لیے اپنی تیاریاں مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ نقل و حمل، تفویج، ٹھنڈک، پانی، طبی سہولیات، رہنمائی، صفائی اور ماحولیاتی صحت کے شعبوں میں 24 گھنٹے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ حجاج کو ہر ممکن سہولت میسر آ سکے۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ صحت نے حجاج کی مجموعی صحت کی صورتحال کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کسی وبائی مرض یا صحت کے بڑے خطرے کا اندراج نہیں ہوا۔
وزارت کے ترجمان کے مطابق 10 ذوالحجہ تک حجاج کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ شدید دھوپ سے بچاؤ اور متوازن غذا سے متعلق آگاہی مہمات بھی مسلسل جاری ہیں۔
سعودی عرب ہر سال حج کے نظام کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے، جو ضیوفِ رحمن کی خدمت، ان کے تحفظ اور مناسکِ حج کی آسان ادائیگی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔