ایامِ تشریق میں رمیِ جمرات حج کا اہم رکن ہے، جس میں حجاج منیٰ میں قیام کرتے ہوئے تینوں جمرات پر 7، 7 کنکریاں مارتے ہیں۔
سنتِ نبویﷺ کے مطابق پہلے دو جمرات کے بعد دعا کی جاتی ہے، جبکہ آخری جمرے کے بعد دعا نہیں کی جاتی۔
شریعت نے کمزور، بیمار اور خواتین کیلئے وکیل مقرر کرنے کی سہولت بھی دی ہے تاکہ حج آسانی اور نظم کے ساتھ ادا کیا جاسکے۔
ایامِ تشریق ’11، 12 اور 13 ذو الحجہ‘ حج کے نہایت اہم ایام ہیں، جن میں حجاجِ کرام منیٰ میں قیام کرتے ہوئے رمیِ جمرات کا عظیم فریضہ ادا کرتے ہیں۔
ان دنوں میں عبادت، ذکر، دعا اور اتباعِ سنت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔
رمیِ جمرات صرف کنکریاں مارنے کا عمل نہیں بلکہ حضرت ابراہیمؑ کی سنت، شیطان سے بیزاری اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا عملی اظہار ہے۔
آج کیا کرنا ہے؟
حجاجِ کرام منیٰ میں اپنی تمام نمازیں اپنے اپنے وقت پر قصر کرکے ادا کریں۔
زوالِ آفتاب کے بعد تینوں جمرات پر بالترتیب رمی کی جائے گی۔
پہلے جمرۂ صغریٰ، پھر جمرۂ وسطیٰ اور آخر میں جمرۂ عقبہ ’کبریٰ‘ پر 7، 7 کنکریاں ماری جائیں گی۔
ہر کنکری مارتے وقت ’اللہ اکبر‘ کہنا مسنون ہے۔
سنت طریقہ یہ ہے کہ رمی کے دوران منیٰ دائیں جانب اور مکہ مکرمہ بائیں جانب ہو۔
پہلے اور دوسرے جمرے کی رمی کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر طویل دعا کی جائے، جبکہ تیسرے جمرے کے بعد دعا کیے بغیر وہاں سے روانہ ہوجانا سنت ہے۔
رمی کا افضل وقت غروبِ آفتاب سے پہلے تک ہے تاہم ضرورت کے تحت رات بھر بھی رمی کی جاسکتی ہے۔
رمیِ جمرات کا وقت اور سنتِ نبوی
احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ایامِ تشریق میں رمیِ جمرات کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: نبی کریمﷺ زوالِ آفتاب کے بعد رمی فرمایا کرتے تھے۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے، پھر رمی کرتے تھے۔
حضرت جابرؓ کی روایت کے مطابق نبی کریمﷺ نے یومِ نحر ’10 ذوالحجہ‘ کی رمی صبح کے وقت ادا فرمائی، جبکہ اس کے بعد تمام ایامِ تشریق میں زوال کے بعد رمی کی۔
جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہی مسنون اور افضل طریقہ ہے۔
رمی میں کنکریوں کی تعداد
یومِ نحر کے بعد ایامِ تشریق کے تین دنوں میں ہر روز تینوں جمرات پر 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 70 کنکریاں مکمل ہوتی ہیں۔
ہر جمرے پر الگ الگ 7 کنکریاں مارنا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص مٹھی بھر کر تمام کنکریاں ایک ساتھ پھینک دے تو رمی ادا نہیں ہوگی۔
رمی کے دوران دعا کا طریقہ
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ پہلے اور دوسرے جمرے پر رمی کے بعد ایک جانب ہٹ کر قبلہ رخ کھڑے ہوتے، ہاتھ اٹھاتے اور طویل دعا فرماتے تھے۔
تاہم جمرۂ عقبہ پر رمی کے بعد دعا کیے بغیر واپس تشریف لے جاتے تھے۔
حشود مليونية، احترافية في التنظيم.#حياكم_الله pic.twitter.com/wFw0QuBboT
— الأمن العام (@security_gov) May 27, 2026
کمزور، بیمار اور خواتین کیلئے وکیل مقرر کرنا
ایامِ حج میں جمرات پر شدید رش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بوڑھوں، بیماروں، کمزور خواتین اور بچوں کیلئے خود رمی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایسی صورت میں شریعت نے آسانی دیتے ہوئے وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی ہے۔
وکیل کیلئے مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے اپنی رمی مکمل کرے، پھر اپنے موکلین کی طرف سے الگ الگ کنکریاں مارے۔
رمیِ جمرات کا اصل پیغام
رمیِ جمرات دراصل انسان کے اپنے نفس، شیطان اور گناہوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
یہ عمل ہمیں حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت کا مظاہرہ کیا۔
حاجی جب ہر کنکری کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہتا ہے تو گویا وہ اپنے دل سے غرور، گناہ اور شیطانی وسوسوں کو نکالنے کا عہد دہراتا ہے۔