مسجد نبویﷺ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی نے حج 1447 کے خطبۂ عرفہ میں زور دے کر کہا کہ حج خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، اسے سیاسی نعروں، جماعتی وابستگیوں یا گروہی مطالبات کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حج اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل عاجزی، رسول اکرمﷺ کی سنت کی پیروی، ظاہری و باطنی پاکیزگی، عہد و پیمان کی پاسداری اور حقوق کی ادائیگی پر قائم عظیم عبادت ہے۔
مباشر واس
— واس العام (@SPAregions) May 26, 2026
خطبة عرفة وصلاتا الظهر والعصر بمسجد نمرة.#حياكم_الله | #واس_حج47 https://t.co/eg73dp0Lq8
شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے اپنے خطبے میں کہا کہ دنیا بھر سے حجاج کرام اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے اجر و ثواب کے حصول کے لیے بیت اللہ اور مشاعر مقدسہ کی طرف آتے ہیں۔
وہ مختلف زبانوں، رنگوں اور ممالک سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک امت بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ حج کا موسم مسلمانوں کے درمیان باہمی تعارف، محبت، تعاون اور اخوت کو مضبوط کرنے کا عظیم موقع فراہم کرتا ہے، جہاں پوری امتِ مسلمہ اتحاد اور بھائی چارے کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔
شیخ الحذیفی نے حجاج کرام کو سکون، تحمل اور نرمی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے دھکم پیل اور بدنظمی سے بچنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے حجاج پر زور دیا کہ وہ متعلقہ اداروں کی ہدایات، تفویج کے منصوبوں اور مقررہ راستوں کی پابندی کریں، تاکہ عمومی مفاد، نظم و ضبط اور انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور مناسک کی ادائیگی آسانی سے انجام پائے۔
خطبۂ عرفہ میں متعدد روحانی اور دینی نصائح بھی شامل تھیں۔
ڈاکٹر علی الحذیفی نے حجاج کرام کو تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ اللہ تعالیٰ کے خوف، اطاعت اور پرہیزگاری میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یومِ قیامت کی تیاری کا سب سے بڑا ذریعہ توحید کو مضبوط کرنا، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، نیک اعمال اختیار کرنا اور گناہوں اور نافرمانیوں سے مکمل اجتناب کرنا ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ حقیقی تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان عبادات میں خلوص اختیار کرے، اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائے اور اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے نیکیوں سے آراستہ کرے۔