وہ اپنی گزشتہ زندگی کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی غلطیوں اور گناہوں کو یاد کرتا ہے، اور سوچتا ہے کہ کل عرفات کے میدان میں اپنے پروردگار سے کس انداز میں دعا کرے گا اور کس طرح معافی مانگے گا۔
منیٰ میں یہ انتظار انسان کو دنیا کی حقیقت بھی یاد دلاتا ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے، اور انسان درحقیقت آخرت کے سفر کا مسافر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خود 8 ذوالحجہ کا دن منیٰ میں گزارا اور 9 ذوالحجہ کو عرفات روانہ ہوئے۔
آپ ﷺ نے عرفات میں مقررہ وقت سے پہلے داخل ہونے سے اجتناب فرمایا تاکہ امت اس عمل کو عبادت یا اضافی ثواب نہ سمجھنے لگے۔
اس طرح منیٰ کا قیام صرف قیام نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی تربیت، قلبی تیاری اور یومِ عرفہ کی بے مثال ساعتوں کے استقبال کا مقدس مرحلہ ہے۔
قیامِ منیٰ کی حکمت: عظیم دن کی تیاری
Overseas Post