اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

قیامِ منیٰ کی حکمت: عظیم دن کی تیاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قیامِ منیٰ کی حکمت
منیٰ میں قیام حجاج کرام کے لیے یومِ عرفہ کی روحانی اور ذہنی تیاری کا اہم مرحلہ ہے

آج 8 ذوالحجہ سے حج کے اہم ایام کا آغاز ہوجاتا ہے اور اسی دن حجاج کرام منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ 

جو لوگ حجِ افراد یا حجِ قران کی نیت سے میقات سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آئے ہوتے ہیں، وہ بدستور حالتِ احرام میں رہتے ہیں، کیونکہ وہ عمرے کے بعد احرام نہیں کھولتے۔

جبکہ حجِ تمتع کرنے والے حجاج، جو عمرہ ادا کرکے احرام کھول چکے ہوتے ہیں، وہ 8 ذوالحجہ کو اپنی رہائش گاہ سے دوبارہ حج کا احرام باندھتے ہیں اور منیٰ روانہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

شریعت کے مطابق ظہر سے پہلے منیٰ پہنچنا اور 9 ذوالحجہ کی صبح سورج طلوع ہونے کے بعد عرفات کے لیے روانہ ہونا سنت ہے۔ 

8 ذوالحجہ کے دن حج کا کوئی بنیادی رکن ادا نہیں کیا جاتا، اس لیے منیٰ کا قیام بظاہر آرام اور تیاری کا مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔

 مگر اس کے اندر عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

9 ذوالحجہ یعنی یومِ عرفہ حج کا سب سے اہم دن ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ 

اس عظیم اجتماع میں ہر عمر، ہر حالت اور ہر طبقے کے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن میں کمزور، بیمار اور بزرگ افراد بھی ہوتے ہیں۔ 

ایسے میں منیٰ کا ایک روزہ قیام جسمانی راحت اور ذہنی تیاری کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 11 40 31 م

یہ قیام دراصل روحانی تیاری کا مرحلہ ہے۔ 

جس طرح کوئی شخص کسی عظیم بادشاہ یا بااختیار شخصیت سے ملاقات سے قبل خود کو تیار کرتا ہے، اسی طرح حاجی بھی یومِ عرفہ سے قبل اپنے رب کے حضور حاضری کی تیاری کرتا ہے۔

حاجی یومِ عرفہ
سے قبل اپنے رب
کے حضور حاضری
کی تیاری کرتا ہے

 وہ اپنی گزشتہ زندگی کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی غلطیوں اور گناہوں کو یاد کرتا ہے، اور سوچتا ہے کہ کل عرفات کے میدان میں اپنے پروردگار سے کس انداز میں دعا کرے گا اور کس طرح معافی مانگے گا۔
منیٰ میں یہ انتظار انسان کو دنیا کی حقیقت بھی یاد دلاتا ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے، اور انسان درحقیقت آخرت کے سفر کا مسافر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خود 8 ذوالحجہ کا دن منیٰ میں گزارا اور 9 ذوالحجہ کو عرفات روانہ ہوئے۔
آپ ﷺ نے عرفات میں مقررہ وقت سے پہلے داخل ہونے سے اجتناب فرمایا تاکہ امت اس عمل کو عبادت یا اضافی ثواب نہ سمجھنے لگے۔
اس طرح منیٰ کا قیام صرف قیام نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی تربیت، قلبی تیاری اور یومِ عرفہ کی بے مثال ساعتوں کے استقبال کا مقدس مرحلہ ہے۔