امریکی ماہرِ غذائیت بریانا ٹوبریٹز ہوفر نے انکشاف کیا ہے کہ بعض ڈبہ بند سبزیاں غذائیت کے اعتبار سے تازہ سبزیوں سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، کدو، چقندر، مکئی، مٹر اور پالک جیسی سبزیوں میں کیننگ کے عمل کے بعد بعض اہم غذائی اجزا زیادہ مؤثر انداز میں جسم کو ملتے ہیں۔
خوراک اور صحت کے ماہرین نے حالیہ برسوں میں اس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ ڈبہ بند سبزیاں صرف ہنگامی یا وقتی متبادل نہیں بلکہ کئی صورتوں میں ایک مکمل غذائی انتخاب بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
امریکی ماہرِ غذائیت بریانا ٹوبریٹز ہوفر کے مطابق جدید کیننگ ٹیکنالوجی نے سبزیوں کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی غذائی اہمیت کو بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تازہ سبزیاں ہمیشہ زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض سبزیوں میں کیننگ کے عمل کے بعد غذائی اجزا جسم میں زیادہ مؤثر انداز میں جذب ہوتے ہیں۔
اس کی ایک بڑی مثال ٹماٹر ہیں، جن میں موجود ’لائیکوپین‘ نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ حرارت ملنے کے بعد زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈبہ بند ٹماٹر دل کی صحت، سوزش میں کمی اور بعض اقسام کے کینسر سے بچاؤ کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈبہ بند کدو بھی غذائیت سے بھرپور انتخاب ہے کیونکہ اس میں فائبر، وٹامن اے اور پوٹاشیم وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
اسی طرح چقندر میں موجود فولک ایسڈ اور پوٹاشیم کیننگ کے باوجود کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں، جو خون کی صحت اور جسمانی توانائی کے لیے اہم مانے جاتے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ مکئی کی پروسیسنگ فصل کی کٹائی کے فوراً بعد کی جاتی ہے، جس کے باعث اس میں موجود فائبر اور وٹامن بی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ رہتے ہیں۔
سبز پھلیاں بھی وٹامن کے اور فائبر کا اچھا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، جو ہڈیوں کی مضبوطی اور نظامِ ہاضمہ کے لیے فائدہ مند ہیں۔
اسی طرح ڈبہ بند پالک کے حوالے سے ماہرین نے دلچسپ انکشاف کیا کہ کیننگ کے دوران پالک پکنے سے ’آکسیلیٹس‘ کم ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ مرکبات ہیں جو آئرن اور کیلشیم کے جذب میں رکاوٹ بنتے ہیں، اس لیے بعض صورتوں میں ڈبہ بند پالک جسم کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
ماہرین نے آرٹچوک اور مٹر کو بھی مفید قرار دیا۔
آرٹچوک میں موجود نباتاتی مرکبات نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ مٹر فائبر اور نباتاتی پروٹین فراہم کرتے ہیں، جو متوازن غذا کے لیے اہم ہیں۔
تاہم ماہرینِ غذائیت نے خبردار کیا کہ تمام ڈبہ بند غذائیں یکساں فائدہ مند نہیں ہوتیں۔
بعض مصنوعات میں نمک، چینی یا بھاری ساسز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے کم نمک یا ’نو سالٹ ایڈڈ‘ مصنوعات خریدنے کی سفارش کی گئی ہے۔
استعمال سے پہلے سبزیوں کو پانی سے دھونے کا مشورہ بھی دیا گیا تاکہ اضافی سوڈیم کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آج کے دور میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں، مصروف طرزِ زندگی اور طویل مدت تک محفوظ رہنے والی غذاؤں کی ضرورت کے باعث ڈبہ بند سبزیاں ایک عملی انتخاب بنتی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تازہ، منجمد اور ڈبہ بند سبزیوں کو متوازن انداز میں استعمال کرنا ہی سال بھر صحت مند غذا برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔