عصرِ حاضر میں کامیابی، ترقی، دولت اور ایک مثالی زندگی کا حصول انسان کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
لوگ یہ مانتے ہیں کہ ان اہداف تک پہنچ کر انہیں حقیقی اطمینان ملے گا، تاہم ماہرین نفسیات کے مطابق ان چیزوں کے پیچھے اندھا دھند بھاگنا دراصل انہیں زندگی سے دُور کر دیتا ہے۔
مشہور ماہرِ نفسیات ویکٹر فرانکل اپنی زندگی کے تلخ تجربات اور بقا کی جنگ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ انسان کا بنیادی محرک کامیابی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے مقصد یا ’معنی‘ کی تلاش ہے۔
فرانکل کا یہ فلسفہ آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کامیابی کے تعاقب کا مغالطہ
فرانکل کا مشہور مقولہ ہے کہ کامیابی یا خوشی کا پیچھا نہ کریں، کیونکہ آپ جتنا زیادہ انہیں ہدف بنائیں گے، یہ اتنی ہی دُور ہوتی جائیں گی۔
اُن کے نزدیک کامیابی اور خوشی کو زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ کسی مقصد کے ساتھ جینے کا ضمنی نتیجہ ہوتی ہیں۔
عمل، مقصد اور ضمیر کی آواز
فرانکل کے مطابق انسان کو اپنی کوششوں کے نتائج کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز سننے اور پوری دیانتداری سے بامقصد کام کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
جب کوئی فرد ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر کسی مقصد کے لیے کام کرتا ہے تو کامیابی اور خوشی خود بخود اس کے پاس چلی آتی ہے۔
موازنے کی دوڑ اور ذہنی دباؤ
ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ موجودہ دور میں لوگ کامیابی کے حصول اور دوسروں سے موازنہ کرنے کے جنون میں مبتلا ہو کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
خود کو مسلسل دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش، اصل میں انسان کو اندرونی سکون اور حقیقی خوشی سے محروم کر دیتی ہے، جس سے درحقیقت وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔
حقیقی اطمینان کا حصول
حقیقی اطمینان اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان مادی کامیابیوں کے بجائے اپنے کام، رشتوں اور کسی اعلیٰ مقصد کے لیے خود کو وقف کرتا ہے۔
فرانکل کے نظریات آج کے دور میں مشعلِ راہ ہیں، جہاں لوگ کامیابی کی دوڑ میں اپنی زندگی کا لطف لینا بھول چکے ہیں۔
اس نصیحت سے پتا چلتا ہے کہ کامیابی اور خوشی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بامقصد زندگی گزارنے کا خوشگوار ضمنی اثر ہے۔
جب انسان نتائج کی فکر چھوڑ کر اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کرتا ہے، تو وہ ان چیزوں کو زیادہ گہرائی اور اصلیت کے ساتھ محسوس کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔