پاکستان میں 12 سے 15 نئے صوبوں کی تجویز نے ایک بار پھر انتظامی اصلاحات کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔
ایک طرف چھوٹے صوبوں کو بہتر حکمرانی کا راستہ قرار دیا جا رہا ہے، دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت تقریباً 160 مضبوط مقامی حکومتوں کی ہے۔
بحث کا مرکز اب صوبائی سرحدیں نہیں بلکہ اختیار، وسائل اور احتساب کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔
تقریباً 26 کروڑ آبادی والا پاکستان اب بھی بنیادی طور پر 4 بڑے صوبوں، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
اسی حقیقت نے ایک پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے:
کیا موجودہ صوبے اب اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ ان کا مؤثر انتظام مشکل ہو گیا ہے؟
اور کیا پاکستان کو 4 کے بجائے 12 یا 15 صوبوں کی ضرورت ہے؟
لیکن اس سوال کے پیچھے ایک اور اہم سوال موجود ہے:
اگر اختیار بدستور چند مراکز میں محدود رہے تو نئی سرحدیں کھینچنے سے آخر بدلے گا کیا؟
دو تجاویز، ایک مسئلہ
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حکمرانی کے نظام میں اصلاح کے لیے دو راستوں کی بات کی ہے۔
پہلا راستہ 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کا ہے۔
مزید پڑھیں
دوسرا تقریباً 160 مضبوط مقامی حکومتیں قائم کرنے کا، جن کے پاس حقیقی انتظامی اختیارات اور مالی وسائل ہوں۔
بظاہر دونوں تجاویز مختلف ہیں، لیکن ان کی بنیاد ایک ہی مسئلے پر ہے:
موجودہ نظام اتنی بڑی آبادی کو مؤثر انداز میں خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
پنجاب اکیلا کئی ممالک سے زیادہ آبادی رکھتا ہے، جبکہ سندھ میں ایک طرف کراچی جیسا بڑا شہر ہے اور دوسری طرف وسیع دیہی علاقے، جن کی ضروریات بالکل مختلف ہیں۔
اسی لیے نئے صوبوں کے حامی کہتے ہیں کہ اتنے بڑے علاقوں کو ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے چلانا اب مؤثر نہیں رہا۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد کیا ہوا؟
2010 میں منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے وفاق سے صوبوں کو بڑے پیمانے پر اختیارات منتقل کئے تھے۔
اسے پاکستان کے وفاقی نظام کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک نئی شکایت سامنے آئی۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان میں حکمرانی کا بحران — اہم نکات⌄
- ✓تقریباً 26 کروڑ آبادی والا پاکستان اب بھی بنیادی طور پر چار بڑے صوبوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
- ✓وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے 12 سے 15 صوبوں یا تقریباً 160 مضبوط مقامی حکومتوں کا تصور پیش کیا ہے۔
- ✓بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ مسئلہ صوبوں کے حجم میں ہے یا اختیار اور وسائل کی مرکزیت میں؟
- ✓اٹھارہویں ترمیم نے اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کئے، مگر مقامی سطح تک منتقلی اب بھی سب سے بڑا سوال ہے۔
- ✓نئے صوبے مالی، آئینی اور سیاسی تقسیم کے نئے سوالات بھی پیدا کریں گے۔
- ✓سندھ میں یہ بحث سب سے زیادہ حساس ہے، جبکہ آئینی طور پر صوبائی حدود بدلنا ایک مشکل عمل ہے۔
اختیار اسلام آباد سے عوام تک پہنچنے کے بجائے کئی معاملات میں اسلام آباد سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ تک ہی منتقل ہو گیا۔
یعنی مرکزیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کا مرکز بدل گیا۔
اگر صوبائی حکومتیں خود شہروں، اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات نہ دیں تو نئے صوبے بنانے سے مزید دارالحکومت اور انتظامی مراکز تو بن سکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ حکومت شہری کے زیادہ قریب بھی آ جائے۔
160 مقامی حکومتیں کیوں؟
اسی لیے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نئے صوبوں سے زیادہ ضروری مضبوط مقامی حکومتیں ہیں۔
عام شہری کے روزمرہ مسائل اسکول، اسپتال، صاف پانی، سیوریج، سڑک اور مقامی ٹرانسپورٹ سے متعلق ہوتے ہیں۔
یہ سب بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے معاملات ہیں۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXنئے صوبوں کی بحث — فیکٹ باکس⌄
اگر مقامی ادارے کمزور ہوں اور ان کے پاس بجٹ نہ ہو تو چھوٹے مسائل بھی صوبائی یا وفاقی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔
پاکستان کا آئین آرٹیکل 140-A کے تحت صوبوں کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب نمائندوں تک منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے۔
مسئلہ قانون کی کمی نہیں، بلکہ اس پر مکمل عمل درآمد کا ہے۔
نئے صوبے: حل یا نئی بیوروکریسی؟
نئے صوبوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ صرف صوبے بڑھانے سے حکمرانی بہتر ہونے کی ضمانت نہیں۔
ہر نئے صوبے کو ایک حکومت، اسمبلی، انتظامیہ، محکمے، بجٹ اور نئے سرکاری ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔
اس کے بعد مزید پیچیدہ سوالات سامنے آئیں گے۔
ٹیکس کیسے تقسیم ہوں گے؟ پانی کا حصہ کیا ہوگا؟ قدرتی وسائل کس کے پاس جائیں گے؟ وفاقی مالیاتی وسائل میں نئے صوبوں کا حصہ کیسے طے ہوگا؟
⇄OVERSEAS POST | THE CHOICE15 صوبے یا 160 مقامی حکومتیں؟⌄
12–15 صوبے
ریاست کو اوپر سے دوبارہ منظم کرنے کا ماڈل۔ بڑے صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے صوبائی حکومت کو شہریوں کے قریب لانے کی کوشش۔
چیلنج: نئی اسمبلیاں، حکومتیں، بیوروکریسی اور وسائل کی ازسرنو تقسیم۔
160 مقامی حکومتیں
اختیار کو نیچے شہروں، اضلاع اور بلدیاتی اداروں تک منتقل کرنے کا ماڈل، جہاں روزمرہ خدمات کے فیصلے مقامی سطح پر ہوں۔
چیلنج: صوبائی حکومتوں کا حقیقی مالی و انتظامی اختیار چھوڑنا۔
اس لیے نئے صوبے انتظامی آسانی کے ساتھ ساتھ بڑے مالی اور سیاسی اخراجات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
اور یہ بھی ضروری نہیں کہ چھوٹا صوبہ لازماً کم مرکزیت والا ہو۔
ممکن ہے صرف ایک نیا دارالحکومت پیدا ہو اور دور دراز اضلاع کی شکایات بدستور موجود رہیں۔
کون جیتے گا، کون ہارے گا؟
نئے صوبوں کی بحث کے پیچھے سیاسی مفادات بھی انتہائی اہم ہیں۔
پنجاب میں نئی انتظامی اکائیاں بننے سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا سیاسی وزن اور وسائل کی تقسیم متاثر ہو سکتی ہے۔
سندھ میں معاملہ اور بھی حساس ہے۔
18OVERSEAS POST | CONSTITUTIONاٹھارہویں ترمیم کے بعد کیا بدلا؟⌄
کراچی اور اندرون سندھ کے درمیان سیاسی اور انتظامی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کراچی کو الگ انتظامی حیثیت دینے یا نئی اکائی بنانے کی کوئی بھی تجویز فوراً سیاسی تنازع پیدا کر دیتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے، جبکہ ایم کیو ایم سمیت بعض حلقے کہتے ہیں کہ بڑے شہروں کو زیادہ انتظامی خودمختاری درکار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبے صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی طاقت، انتخابی اثر و رسوخ اور وسائل کی تقسیم کا مسئلہ بھی ہیں۔
سندھ سب سے بڑا امتحان
سندھ اس بحث کا سب سے مشکل میدان بن سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کسی صوبے کی حدود یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتی۔
پاکستانی آئین کے تحت صوبائی سرحد میں تبدیلی کے لیے پارلیمان میں وسیع آئینی حمایت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت بھی درکار ہوتی ہے۔
140OVERSEAS POST | LOCAL POWERآرٹیکل 140-A کیوں اہم ہے؟⌄
پاکستانی آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی و مالی ذمہ داریاں منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر نئے صوبوں کا منصوبہ عملی طور پر انتہائی مشکل ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف بھی متنبہ کر چکی ہے کہ ایسے کسی فیصلے میں جلد بازی وفاق کو کمزور کر سکتی ہے، اور اس کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔
کیا مسئلہ واقعی نقشے میں ہے؟
اصل سوال یہی ہے کہ پاکستان کی حکمرانی کا مسئلہ نقشے میں ہے یا نظام میں؟
ملک کے متعدد علاقے تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کا شکار ہیں، مگر اس کی وجہ ہمیشہ صوبے کا بڑا ہونا نہیں۔
+OVERSEAS POST | POSSIBLE GAINSنئے صوبوں کے ممکنہ فوائد⌄
- 1بہت بڑے صوبوں میں انتظامی فاصلہ کم ہو سکتا ہے اور حکومت دور دراز علاقوں کے قریب آسکتی ہے۔
- 2علاقائی ترقی اور بجٹ کی ترجیحات زیادہ مقامی ضروریات کے مطابق ترتیب دی جاسکتی ہیں۔
- 3بڑے شہری مراکز اور مختلف نوعیت کے دیہی علاقوں کے لیے الگ انتظامی حکمت عملی ممکن ہوسکتی ہے۔
- 4نئے سیاسی اور انتظامی مراکز بعض نظرانداز علاقوں کو زیادہ نمائندگی دے سکتے ہیں۔
بہت سے معاملات میں اصل مسئلہ کمزور انتظامیہ، ناقص احتساب، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور غیر مؤثر مقامی حکومتیں ہیں۔
اگر بجٹ اور فیصلہ سازی محدود سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہی رہے تو طاقت کا مرکز لاہور ہو، ملتان ہو یا بہاولپور، عام شہری کے لیے شاید زیادہ فرق نہ پڑے۔
نئے صوبے
مزید اسمبلیاں،
حکومتیں اور
بیوروکریسی بھی
پیدا کریں گے
15 صوبے یا 160 مقامی حکومتیں؟
یہی پوری بحث کا سب سے اہم سوال ہے۔
کیا پاکستان کو 15 صوبوں کی ضرورت ہے؟
یا 160 مضبوط مقامی حکومتوں کی؟
پہلا راستہ ریاست کو اوپر سے دوبارہ منظم کرتا ہے۔
دوسرا اختیار کو نیچے شہری تک منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ممکن ہے پاکستان کو صرف ایک راستہ منتخب کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
کچھ بڑے اور گنجان آباد علاقوں میں نئی انتظامی اکائیاں واقعی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی تقسیم کی کامیابی کے لیے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ضروری ہوگا۔
آخرکار مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد کا نہیں۔
!OVERSEAS POST | RISKSنئے صوبے — سب سے بڑے خطرات کیا ہیں؟⌄
- !ہر نئے صوبے کو حکومت، اسمبلی، محکمے، سیکریٹریٹ، عملہ اور الگ بجٹ درکار ہوگا۔
- !پانی، ٹیکس، قدرتی وسائل، سرکاری ملازمتوں اور وفاقی فنڈز کی تقسیم نئے تنازعات پیدا کرسکتی ہے۔
- !صوبائی سرحدیں لسانی، تاریخی اور علاقائی شناخت کے حساس سوالات سے جڑی ہوئی ہیں۔
- !چھوٹا صوبہ لازماً کم مرکزیت والا نہیں؛ ایک نیا دارالحکومت بھی دور دراز اضلاع کو نظرانداز کرسکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کون کرے گا، بجٹ کس کے پاس ہوگا اور شہری کس کو جواب دہ ٹھہرائے گا؟
اگر ان سوالات کے جواب نہ بدلے تو پاکستان کے صوبے تو بڑھ سکتے ہیں، مگر مرکزیت پر مبنی نظام وہی رہے گا۔
اور اگر موجودہ بحث اختیارات، وسائل اور احتساب کو شہروں، اضلاع اور بلدیاتی اداروں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بن گئی تو یہی تنازع ایک بڑے انتظامی اصلاحی عمل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
نقشہ بدلنا آسان ہے، اصل امتحان اختیار کو بھی اس نقشے کے ساتھ منتقل کرنا ہے۔