پاکستان ایک بار پھر علاقائی اور عالمی سفارت کاری کے اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں بڑھتا کردار، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون، امریکا اور ایران سے رابطے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بہتر اعتماد اس تبدیلی کی علامت ہیں۔
تاہم اس سفارتی کامیابی کو حقیقی طاقت میں بدلنے کے لئے پاکستان کو دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری جیسے اندرونی مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
چند سال پہلے تک پاکستان اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
معاشی بحران، سکیورٹی چیلنجز اور شدید سیاسی تقسیم نے ملک کی بیرونی تصویر کو کمزور کر دیا تھا۔
آج صورتحال خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اسلام آباد شنگھائی تعاون تنظیم میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی و سکیورٹی تعاون بڑھا رہا ہے، جبکہ چین، امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت رابطے برقرار رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی منڈیوں اور سفارتی حلقوں سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کھویا ہوا کچھ اعتماد دوبارہ حاصل کیا ہے۔
لیکن اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ پاکستان کی عالمی اہمیت بڑھی ہے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد اس سفارتی اہمیت کو حقیقی معاشی، سیاسی اور سکیورٹی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے؟
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان کا سفارتی عروج — اہم نکات ⌄
- پاکستان ایک بار پھر علاقائی اور عالمی سفارت کاری میں نمایاں جگہ حاصل کر رہا ہے۔
- شنگھائی تعاون تنظیم اسلام آباد کو چین، روس، ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑ رہی ہے۔
- سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے علاقائی کردار کو وسعت دے رہا ہے۔
- امریکا اور ایران دونوں سے رابطے پاکستان کو ثالثی کی منفرد گنجائش دیتے ہیں۔
- اصل امتحان دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری پر قابو پانا ہے۔
3 ستمبر کو شائع ہونے والے پاکستانی اخبار ڈان کے اداریے میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ستارہ بظاہر دوبارہ ابھر رہا ہے، مگر سفارتی کامیابیاں اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دے سکتیں جب تک ملک اپنے اندرونی مسائل پر قابو نہ پا لے۔
مزید پڑھیں
بڑی میز پر واپسی
پاکستان کے بڑھتے کردار کا ایک اہم مظہر شنگھائی تعاون تنظیم میں اس کی سرگرم موجودگی ہے۔
یہ تنظیم چین، روس، بھارت، ایران اور وسطی ایشیا کے اہم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔
اس اعتبار سے پاکستان کو ایسے خطے میں سفارتی جگہ ملتی ہے جہاں
آنے والے برسوں میں تجارت، توانائی، سکیورٹی اور زمینی رابطوں کی بڑی سیاست طے ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم صرف ایک سیاسی فورم نہیں۔
اسلام آباد کئی برسوں سے یہ کوشش کر رہا ہے کہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک معاشی اثاثے کے طور پر استعمال کرے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXپاکستان کے پاس اس وقت کیا ہے؟ ⌄
چین کے ساتھ سرحد، وسطی ایشیا سے قربت، بحیرہ عرب تک رسائی اور خلیج کے نزدیک موجودگی پاکستان کو ایک اہم تجارتی راہداری بنا سکتی ہے۔
اگر اسلام آباد شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے تجارت، توانائی، زمینی رابطوں اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں کامیاب ہو گیا تو پاکستان محض ایک جغرافیائی گزرگاہ کے بجائے ایک حقیقی علاقائی اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان خود کو کسی ایک عالمی بلاک تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔
وہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت برقرار رکھتا ہے، امریکا سے تعلقات ختم نہیں کرتا، خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھاتا ہے اور ایران، روس اور ترکی کے ساتھ بھی رابطے مضبوط رکھتا ہے۔
یہ توازن اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سب سے اہم اثاثوں میں شامل ہے۔
خلیج ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے
دوسری اہم تبدیلی خلیجی خطے میں سامنے آئی ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان بڑھتا دفاعی اور سیاسی تعاون اسلام آباد کو روایتی دوطرفہ تعلقات سے کہیں آگے لے جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لئے سعودی عرب صرف ایک سیاسی اتحادی نہیں بلکہ ایک اہم معاشی شراکت دار بھی ہے۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور ان کی ترسیلاتِ زر پاکستان کے زرِمبادلہ کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سفارتی تبدیلی کیوں اہم ہے؟ ⌄
پاکستان کے سامنے موقع ہے کہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو پہلی مرتبہ بڑے معاشی فائدے میں بدلے۔
دوسری جانب ترکی نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت اور علاقائی اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اگر سعودی سرمایہ، ترک دفاعی صلاحیت اور پاکستانی فوجی تجربہ کسی منظم شراکت میں بدلتے ہیں تو اس کے نتائج صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دفاعی صنعت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
پاکستان کے موجودہ سفارتی عروج کا ایک بڑا امتحان یہی ہوگا کہ آیا یہ تعاون عملی اقتصادی اور صنعتی منصوبوں میں تبدیل ہوتا ہے یا نہیں۔
ایران نے پاکستان کی ثالثی کی اہمیت بڑھا دی
پاکستان کی سفارتی قدر سب سے زیادہ واضح امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ہوئی۔
اسلام آباد دونوں ممالک سے رابطے رکھتا ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب اور چین کے ساتھ بھی قریبی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ یہی توازن پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر اہم بناتا ہے۔
↔OVERSEAS POST | DIPLOMACYچار سمتیں.. ایک پاکستان⌄
علاقائی بحرانوں میں ثالث کی اہمیت صرف اس کی فوجی طاقت سے نہیں بنتی، بلکہ اس بات سے بنتی ہے کہ کیا متحارب فریق اسے کسی ایک کی مکمل نمائندگی سمجھتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان کو یہاں ایک منفرد جگہ حاصل ہے۔
وہ واشنگٹن سے بات کرسکتا ہے، تہران سے رابطہ رکھتا ہے، ریاض سے قریبی تعاون جاری رکھتا ہے اور بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات بھی برقرار رکھتا ہے۔
جتنی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، اتنی ہی ایسی ریاست کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کی گنجائش برقرار رکھ سکے۔
معیشت بھی مثبت اشارے دے رہی ہے
سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ پاکستان کی مالی صورتحال سے بھی کچھ بہتر اشارے سامنے آئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی اور اس کے قرضہ جاتی آلات میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماضی کے شدید مالی خطرات کے مقابلے میں اعتماد کچھ بحال ہوا ہے۔
◈OVERSEAS POST | GULFخلیج پاکستان کے لئے کیوں اہم ہے؟⌄
- سعودی عرب پاکستان کا اہم سیاسی اور معاشی شراکت دار ہے۔
- خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔
- ترکی کی دفاعی صلاحیت اور سعودی سرمایہ پاکستان کے لئے نئی صنعتی شراکت پیدا کرسکتے ہیں۔
- خلیج کے قریب محلِ وقوع پاکستان کو تجارت، توانائی اور سکیورٹی میں اضافی وزن دیتا ہے۔
لیکن اس تبدیلی کو ضرورت سے زیادہ بڑا سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔
قرض حاصل کرنے کی صلاحیت اور مضبوط معیشت ایک ہی چیز نہیں۔
حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب بین الاقوامی اعتماد نئی فیکٹریوں، توانائی منصوبوں، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، برآمدات اور روزگار میں تبدیل ہو۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان اپنی بہتر سفارتی تصویر کو استعمال کرکے قرضوں پر انحصار کم کرسکے گا، یا مالی اور سفارتی کامیابیاں حقیقی معیشت سے الگ ہی رہیں گی؟
سکیورٹی سب کچھ برباد کرسکتی ہے
پاکستان کے اس عروج کے سامنے سب سے خطرناک رکاوٹ اب بھی ملک کے اندر موجود ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور مسلسل سکیورٹی مسائل بڑے اقتصادی منصوبوں کے لئے براہِ راست خطرہ ہیں۔
!OVERSEAS POST | RISKپاکستان کے عروج کو سب سے بڑا خطرہ کہاں ہے؟⌄
بلوچستان پاکستان کے اقتصادی نقشے کا کوئی غیر اہم حصہ نہیں۔
یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے کئی اہم منصوبوں کا مرکز ہے اور گوادر بندرگاہ بھی یہیں واقع ہے، جسے اسلام آباد چین اور وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والی بڑی تجارتی گزرگاہ بنانا چاہتا ہے۔
لیکن بڑی سرمایہ کاری وہاں نہیں آتی جہاں کمپنیوں، انجینئروں اور منصوبوں کو مسلسل غیر معمولی سکیورٹی انتظامات درکار ہوں۔
ہر بڑا حملہ صرف سکیورٹی کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ سرمایہ کاری کی لاگت بڑھاتا اور ریاست کی صلاحیت پر نئے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اسی لئے دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی بنیادی شرط بھی ہے۔
دوسری بڑی رکاوٹ سیاست ہے
شدید سیاسی تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
طویل مدتی سرمایہ کاری کے لئے صرف منافع کافی نہیں ہوتا۔
سرمایہ کار یہ بھی دیکھتا ہے کہ قوانین کتنے مستقل ہیں، حکومتوں کی پالیسیاں کتنی دیر قائم رہتی ہیں اور اداروں کے درمیان استحکام کس حد تک موجود ہے۔
$OVERSEAS POST | ECONOMYمالی منڈیوں کا پیغام کیا ہے؟⌄
عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار ماضی کے مقابلے میں دوبارہ کچھ خطرہ لینے کے لئے تیار ہیں۔
اگر داخلی سیاسی کشمکش طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو بیرونی دنیا سے ملنے والے بہت سے مواقع کاغذی کامیابی بن کر رہ سکتے ہیں۔
یہی موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔
کافی عرصے بعد پاکستان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ مکمل طور پر باہر سے آتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
چین تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔
خلیجی ممالک سیاسی اور معاشی دروازے کھول رہے ہیں۔
ترکی دفاعی شراکت بڑھا رہا ہے۔
امریکا اسلام آباد کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایران بھی پاکستان کو ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہے جس کے ذریعے بات چیت ہوسکتی ہے۔
حتیٰ کہ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی پاکستان کو دوبارہ کچھ گنجائش دینے لگی ہیں۔
موقع موجود ہے.. فیصلہ اندر ہوگا
پاکستان اس وقت ایک ایسے موقع کے سامنے کھڑا ہے جو بار بار نہیں آتا۔
اگر اسلام آباد دہشت گردی میں کمی لانے، سیاسی استحکام پیدا کرنے اور معاشی اصلاحات جاری رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کے وسیع سفارتی تعلقات سرمایہ کاری، تجارت اور طویل مدتی اثر و رسوخ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
→OVERSEAS POST | NEXT SCENARIOپاکستان کے سامنے تین ممکنہ راستے⌄
ایسی صورت میں پاکستان کی اہمیت صرف اس کے جغرافیائی محلِ وقوع یا فوجی طاقت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ وہ چین، وسطی ایشیا، خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم معاشی اور سیاسی پل بن سکتا ہے۔
لیکن اگر دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی غیر یقینی برقرار رہی تو پاکستان ایک بار پھر اپنی تاریخ کا جانا پہچانا منظر دیکھ سکتا ہے:
دنیا اس کے لئے ایک بڑا دروازہ کھول دے..
مگر پاکستان خود اس موقع کو اندرونی طاقت میں تبدیل نہ کرسکے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع ⌄
یہ ذرائع رپورٹ کے سفارتی، دفاعی، معاشی اور سکیورٹی پہلوؤں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔