بھارت نے غیر مقیم شہریوں سے 127 ارب ڈالر سے زیادہ کے غیر ملکی کرنسی ڈپازٹس حاصل کرکے روپے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا۔
پاکستان کے تارکینِ وطن بھی ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان کی طویل المدتی بچتوں کو ملکی مالیاتی نظام میں کیوں نہیں لایا جا سکا۔
بھارت نے بیرونِ ملک مقیم اپنے شہریوں کی ترسیلاتِ زر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی بڑی بچتوں کو بھی ملکی مالیاتی نظام کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
دوسری جانب پاکستان بھی ہر سال تارکینِ وطن سے اربوں ڈالر حاصل کرتا ہے، مگر بھارتی تجربہ بتاتا ہے کہ اصل فرق تارکینِ وطن کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کی بچتوں کو طویل المدتی مالی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں ہے۔
ایسے وقت میں جب ایشیائی معیشتیں تیل کی بڑھتی قیمتوں، ڈالر میں اتار چڑھاؤ اور امریکی شرح سود کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، بھارت نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔
بھارتی مرکزی بینک نے روپے پر دباؤ بڑھنے اور پھر اس کے دفاع میں مداخلت کا انتظار کرنے کے بجائے بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں سے غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے کے لیے ایک وسیع راستہ کھولا۔
نتیجہ غیر معمولی تھا۔
مختصر عرصے میں بھارت نے تقریباً 136.38 ارب ڈالر کی رقوم اپنی جانب کھینچ لیں، جن میں سب سے بڑا حصہ، یعنی تقریباً 127.23 ارب ڈالر، غیر مقیم بھارتیوں کے فارن کرنسی ڈپازٹس FCNR(B) سے آیا، جبکہ باقی رقم بھارتی بینکوں اور کمپنیوں کی غیر ملکی کرنسی میں قرض گیری سے حاصل ہوئی۔
مزید پڑھیں
سرمایہ آنے کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ حکام نے اس خصوصی سہولت کو طے شدہ وقت سے پہلے ہی بند کر دیا۔
لیکن اس رقم کی اہمیت محض اس کے حجم میں نہیں۔
اصل کہانی یہ ہے کہ بھارت اپنے بیرونِ ملک شہریوں کی دولت کے ایک بڑے حصے کو غیر ملکی بینکوں میں پڑا رہنے دینے کے بجائے ملکی مالیاتی نظام میں لانے میں کامیاب ہوا، جہاں وہ زرمبادلہ کے ذخائر
مضبوط کرنے اور روپے کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
یہیں سے وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو پاکستان کے لیے براہِ راست اہم ہے:
اگر پاکستان کے پاس بھی لاکھوں تارکینِ وطن ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر بھیجتے ہیں تو پھر وہ ان کی بچتوں کے بڑے حصے کو ایسی مالی ڈھال میں کیوں تبدیل نہیں کر پاتا؟
ترسیلاتِ زر بمقابلہ تارکینِ وطن کی سرمایہ کاری
بھارت نے تارکینِ وطن کی صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار نہیں کیا بلکہ ان کی طویل المدتی بچتوں کو غیر ملکی کرنسی ڈپازٹس کے ذریعے مالیاتی نظام میں کھینچا، جس سے روپے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا۔
پاکستان کو تارکینِ وطن سے ہر سال اربوں ڈالر ملتے ہیں، لیکن ان کی طویل المدتی بچتوں کا بڑا حصہ اب بھی ملکی مالیاتی نظام اور سرمایہ کاری کی مصنوعات سے باہر رہتا ہے۔
ترسیلات اور بچتوں میں اصل فرق
پاکستان کو تارکینِ وطن کی رقوم کی کمی کا سامنا نہیں۔
صرف جولائی 2026 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے تقریباً 3.6 ارب ڈالر وطن بھیجے۔
ان میں سعودی عرب تقریباً 913.9 ملین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ تھا جبکہ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 737.3 ملین ڈالر آئے۔
یعنی صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے ایک ماہ کے دوران تقریباً 1.65 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔
لیکن ان رقوم کا کردار بھارتی ماڈل میں آنے والے سرمائے سے مختلف ہے۔
پاکستانی تارکینِ وطن کی بیشتر ترسیلات خاندانوں کے پاس جاتی ہیں، جہاں یہ خوراک، رہائش، تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات پر خرچ ہوتی ہیں۔
بھارتی ماڈل کا ہدف اس کے برعکس تارکینِ وطن کی بچتیں ہیں۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات⌄
- ✓بھارت نے غیر مقیم شہریوں سے 127.23 ارب ڈالر کے فارن کرنسی ڈپازٹس حاصل کئے۔
- ✓مجموعی غیر ملکی تدفقات تقریباً 136.38 ارب ڈالر تک پہنچے۔
- ✓بھارتی روپے کو سہارا ملا اور زرمبادلہ کے ذخائر مزید مضبوط ہوئے۔
- ✓پاکستان نے صرف جولائی 2026 میں تقریباً 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر حاصل کیں۔
- ✓اصل فرق ترسیلات میں نہیں بلکہ تارکینِ وطن کی طویل المدتی بچتوں کو سرمایہ کاری میں بدلنے کی صلاحیت میں ہے۔
بیرونِ ملک مقیم بھارتی اپنی رقم غیر ملکی کرنسی میں بھارتی بینکوں میں جمع کرا سکتے ہیں، اس پر منافع حاصل کرتے ہیں اور بعد میں اصل رقم اور منافع بھی غیر ملکی کرنسی میں واپس لے سکتے ہیں۔
یوں یہ سرمایہ کئی سال تک مالیاتی نظام میں موجود رہ سکتا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جو پوری تصویر بدل دیتا ہے۔
بھارت کو کیا حاصل ہوا؟
غیر ملکی کرنسی کی بڑی آمد کے اثرات بہت جلد مارکیٹ میں نظر آئے۔
3 ستمبر کو بھارتی روپیہ تقریباً 94.30 روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا، جو تقریباً دو ماہ کی بہترین سطح تھی، جبکہ چند دنوں کے دوران اس نے کئی دوسری ایشیائی کرنسیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
⇄OVERSEAS POST | CORE ANGLEخبر کا مرکزی تقابلی زاویہ⌄
بھارت
تارکینِ وطن کی صرف ترسیلات نہیں، بلکہ ان کی طویل المدتی بچتیں بھی غیر ملکی کرنسی ڈپازٹس کے ذریعے ملکی مالیاتی نظام میں لایا۔
پاکستان
ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات حاصل کرتا ہے، مگر تارکینِ وطن کی بڑی بچتیں اب بھی بیرونِ ملک مالیاتی نظام میں موجود رہتی ہیں۔
اسی دوران بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نئی رقوم شامل ہونے کے بعد یہ 750 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
بھارت جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے یہ ذخائر انتہائی اہم حفاظتی دیوار ہیں۔
خام تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درآمد کنندگان کی ڈالر کی طلب بڑھاتا ہے اور مقامی کرنسی پر دباؤ ڈالتا ہے۔
جتنے بڑے ذخائر ہوں گے، مرکزی بینک کے پاس ایسے جھٹکوں سے نمٹنے کی اتنی ہی زیادہ صلاحیت ہوگی۔
پاکستان کے پاس بھی ذریعہ موجود ہے.. مگر حجم بہت کم
اسلام آباد نے بھی اسی نوعیت کی ایک کوشش Roshan Digital Account کے ذریعے کی ہے۔
یہ نظام بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ملک میں بینک اکاؤنٹ کھولنے اور مختلف مالیاتی مصنوعات میں سرمایہ کاری کی سہولت دیتا ہے۔
جولائی 2026 کے اختتام تک Roshan Digital Account کی تعداد تقریباً 9 لاکھ 57 ہزار تک پہنچ چکی تھی، جبکہ اس پروگرام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً 13.65 ارب ڈالر پاکستان آ چکے تھے۔
یہ رقم اہم ضرور ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ فرق بھی واضح کرتی ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXاعداد ایک نظر میں⌄
بھارت نے ایک خصوصی محدود مدت کی سہولت کے ذریعے تارکینِ وطن سے 127 ارب ڈالر سے زیادہ کے ڈپازٹس حاصل کئے، جبکہ پاکستان کے Roshan Digital Account میں 2020 سے اب تک آنے والی مجموعی رقم اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
یقیناً دونوں ممالک کا براہِ راست موازنہ مکمل طور پر یکساں نہیں۔
بھارتی معیشت کہیں بڑی ہے، اس کی بیرونِ ملک آبادی بھی زیادہ ہے اور اعلیٰ آمدن رکھنے والے تارکینِ وطن کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
لیکن صرف حجم کا فرق پوری کہانی بیان نہیں کرتا۔
بھارت کامیاب کیوں ہوا؟
ایسا تارکِ وطن جس کے پاس 50 ہزار، ایک لاکھ یا اس سے زیادہ ڈالر ہوں، وہ صرف قومی جذبے کی بنیاد پر اپنی بچت کئی سال کے لیے کسی ملک میں نہیں رکھتا۔
اس کے سوال بالکل واضح ہوتے ہیں:
مجھے کتنا منافع ملے گا؟
کیا میں اپنی رقم ڈالر میں واپس لے سکوں گا؟
اگر مقامی کرنسی گر گئی تو کیا ہوگا؟
اور اگر مجھے اپنی رقم واپس بیرونِ ملک منتقل کرنا پڑے تو کیا کوئی پابندی تو نہیں ہوگی؟
₹OVERSEAS POST | INDIA MODELبھارت نے کیا مختلف کیا؟⌄
بھارت نے ایسی پراڈکٹ پیش کی جس میں ان خدشات کا بڑا حصہ کم ہو جاتا ہے، کیونکہ رقم غیر ملکی کرنسی میں ہی برقرار رہتی ہے۔
یوں سرمایہ کار مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کے بڑے خطرے سے نسبتاً محفوظ رہتا ہے۔
پاکستان کے لیے چیلنج صرف زیادہ منافع دینا نہیں۔
اصل مسئلہ اعتماد، پالیسی کا تسلسل اور قواعد کا طویل المدتی استحکام ہے۔
بیرونِ ملک سرمایہ کار یہ یقین چاہتا ہے کہ اگر پاکستان کو زرمبادلہ کے بحران کا سامنا ہو تو اچانک رقم بیرونِ ملک منتقل کرنے کے قواعد تبدیل نہیں ہوں گے۔
سب سے بڑا موقع خلیج میں
اگر پاکستان اس ماڈل کو زیادہ بڑے پیمانے پر آگے بڑھانا چاہتا ہے تو سب سے منطقی نقطۂ آغاز خلیجی ممالک ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی پاکستان کی ترسیلاتِ زر کے سب سے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔
PKOVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کہاں کھڑا ہے؟⌄
- 1پاکستان کو تارکینِ وطن سے ہر ماہ اربوں ڈالر ملتے ہیں اور یہ زرمبادلہ کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
- 2Roshan Digital Account نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کا راستہ دیا، مگر حجم بھارتی ماڈل سے بہت چھوٹا ہے۔
- 3اصل چیلنج زیادہ منافع سے بڑھ کر پالیسی کے تسلسل، رقم کی واپسی اور سرمایہ کار کے اعتماد کا ہے۔
- 4پاکستان کے لیے چند اضافی ارب ڈالر بھی نسبتاً بڑا اثر ڈال سکتے ہیں کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بھارت سے کہیں کم ہیں۔
مگر خطے میں لاکھوں پاکستانی کارکنوں، پروفیشنلز اور کاروباری افراد کے پاس صرف ماہانہ آمدن نہیں بلکہ ایسی بچتیں بھی ہیں جو پاکستان کے مالیاتی نظام میں داخل ہی نہیں ہوتیں۔
ان رقوم کا بڑا حصہ بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس، جائیداد، سونے یا عالمی مالیاتی منڈیوں میں موجود رہتا ہے۔
اس لیے پاکستانی پالیسی سازوں کے سامنے سوال یہ نہیں کہ ان لوگوں کو اپنے خاندانوں کے لیے مزید رقم بھیجنے پر کیسے آمادہ کیا جائے، کیونکہ وہ پہلے ہی ایسا کر رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
انہیں کیسے قائل کیا جائے کہ اپنی طویل المدتی بچت کا ایک حصہ ایسی پاکستانی سرمایہ کاری میں رکھیں جو محفوظ، منافع بخش اور ڈالر میں واپس حاصل کی جا سکے؟
اگر اسلام آباد اس راستے سے صرف چند ارب ڈالر اضافی بھی حاصل کر لے تو اس کے اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھارت کے مقابلے میں کہیں کم ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے ہر اضافی ایک ارب ڈالر کی اہمیت نسبتاً کہیں زیادہ ہے۔
بھارتی ماڈل خطرات سے خالی نہیں
تاہم بھارتی تجربے کو مفت کی رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
آج آنے والے یہ ڈپازٹس مستقبل میں ایسی مالی ذمہ داریاں بنیں گے جن کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
اسی طرح بڑے پیمانے پر آنے والے ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی فراہمی بڑھنے سے بھارتی بینکاری نظام میں اضافی لیکویڈیٹی پیدا ہوئی ہے۔
اب مرکزی بینک کے سامنے یہ چیلنج بھی ہے کہ اس اضافی رقم کو کس طرح جذب کیا جائے تاکہ مستقبل میں مہنگائی کا دباؤ نہ بڑھے۔
GCCOVERSEAS POST | GULF ANGLEسب سے بڑا موقع خلیج میں کیوں؟⌄
یعنی اس ماڈل کے لیے انتہائی محتاط مالیاتی انتظام ضروری ہے۔
لیکن بنیادی سبق پھر بھی واضح ہے۔
بھارت نے اپنے بیرونِ ملک شہریوں کو صرف ماہانہ ترسیلات بھیجنے والے افراد کے طور پر نہیں دیکھا۔
اس نے انہیں سرمایہ کار، ڈپازٹر اور غیر ملکی کرنسی کا اسٹریٹجک ذریعہ سمجھا۔
اور شاید یہی پاکستان کے لیے اس تجربے کا سب سے اہم سبق ہے۔
پاکستانی تارکینِ وطن پہلے ہی رقم بھیج رہے ہیں، اپنے خاندانوں کا سہارا بن رہے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر ملکی معیشت میں شامل کر رہے ہیں۔
لیکن ان کی طویل المدتی دولت اور بچتوں کا بڑا حصہ اب بھی پاکستانی مالیاتی نظام سے باہر ہے۔
اس لیے پاکستان کی اگلی معاشی جنگ صرف ترسیلاتِ زر بڑھانے کی نہیں۔
اس سے بڑا سوال یہ ہے:
پاکستان اپنے تارکینِ وطن کو صرف رقم بھیجنے پر نہیں بلکہ اتنا اعتماد کرنے پر کیسے آمادہ کرے کہ وہ اپنی بچتیں بھی برسوں کے لیے پاکستان میں رکھیں؟