سعودی عرب خودکار گاڑیوں کو تجرباتی مرحلے سے باقاعدہ ٹرانسپورٹ مارکیٹ کی طرف لے جارہا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت ابتدائی لائسنس 180 دن کا ہوگا، جبکہ شرائط پوری ہونے پر 3 سالہ لائسنس مل سکے گا۔
سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ کامیاب حفاظتی اور کارکردگی ٹیسٹ کے بعد خودکار ٹیکسی کو سیفٹی آفیسر کے بغیر چلانے کی اجازت بھی ممکن ہوگی۔
ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کی جانب سے خودکار گاڑیوں کے ذریعے مسافروں کی نقل و حمل کے لیے مقرر کی گئی شرائط اس تبدیلی کا سب سے واضح اشارہ ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت کمپنی کو ابتدا میں 180 دن کے لیے محدود لائسنس دیا جائے گا، جس کے بعد تمام ریگولیٹری اور آپریشنل شرائط پوری کرنے پر 3 سال تک کا بنیادی لائسنس حاصل کیا جاسکے گا۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات ⌄
- ✓
نئے ضوابط کے تحت کمپنی کو ابتدا میں 180 دن کا محدود لائسنس دیا جائے گا۔
- ✓
سرگرمی شروع کرنے کے لیے کم از کم 5 خودکار گاڑیاں ضروری ہوں گی۔
- ✓
ابتدائی مرحلے میں ہر گاڑی کے لیے سیفٹی آفیسر اور اس کا پروفیشنل کارڈ درکار ہوگا۔
- ✓
کارکردگی اور حفاظتی جائزوں کے بعد گاڑی کو سیفٹی آفیسر کے بغیر چلانے کی اجازت ممکن ہوگی۔
- ✓
سائبر حملے، خطرناک تکنیکی خرابی یا ریکال کی صورت میں گاڑی کو فوری طور پر سروس سے ہٹانا ہوگا۔
یہ 6 ماہ صرف انتظامی مدت نہیں بلکہ عملی آزمائش بھی ہوں گے، جس میں کمپنی، گاڑیوں اور خودکار ڈرائیونگ سسٹم کی کارکردگی کو سعودی سڑکوں، ٹریفک، حفاظتی تقاضوں اور سائبر سکیورٹی کے تناظر میں جانچا جائے گا۔
مزید پڑھیں
کم از کم 5 گاڑیاں ضروری
نئے ضوابط کے مطابق سرگرمی شروع کرنے کے لیے کم از کم 5 خودکار گاڑیوں کی شرط رکھی گئی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ انفرادی آپریٹرز کے بجائے ان کمپنیوں کے لیے کھولا جارہا ہے جو مالی، تکنیکی اور آپریشنل صلاحیت رکھتی ہوں۔
گاڑیوں کو خودکار ڈرائیونگ سے متعلق تمام تکنیکی تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن کے معیار کی پابندی کرنا ہوگی۔
سعودی عرب میں خودکار گاڑیوں کے تکنیکی ضوابط کا لازمی نفاذ اپریل 2026 سے شروع ہوچکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب تجرباتی منصوبوں سے نکل کر باقاعدہ ریگولیٹری نظام میں داخل ہورہی ہے۔
کیا ڈرائیور فوراً غائب ہوجائے گا؟
موجودہ مرحلے میں ہر گاڑی کے لیے ایک سیفٹی آفیسر مقرر کرنا ہوگا۔
یہ اہلکار گاڑی کے اندر موجود ہوسکتا ہے یا اسے دور سے مانیٹر کرسکتا ہے، تاہم اسے باقاعدہ پروفیشنل کارڈ حاصل کرنا ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ قواعد میں ایسی گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ مقررہ جائزوں اور کارکردگی کے ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد گاڑی کو سیفٹی آفیسر کے بغیر بھی چلایا جاسکے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXخودکار ٹیکسی: فیکٹ باکس ⌄
یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں ڈرائیور لیس ٹیکسی حقیقت کے زیادہ قریب پہنچ جائے گی۔
اگر خودکار نظام مسلسل محفوظ کارکردگی دکھاتے ہیں تو مستقبل میں ایسی ٹیکسیاں سڑکوں پر آسکتی ہیں جن کے اسٹیئرنگ کے پیچھے کوئی انسان موجود نہ ہو۔
سعودی عرب نے اس سمت میں عملی سفر جولائی 2025 میں شروع کردیا تھا، جب ریاض میں خودکار گاڑیوں کے ابتدائی آپریشن کا آغاز کیا گیا اور کئی کمپنیوں نے اس میں حصہ لیا۔
گاڑی ہیک ہوگئی تو؟
خودکار گاڑیوں کا بڑا انحصار سافٹ ویئر، سینسرز اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن پر ہوتا ہے، اسی لیے سائبر سکیورٹی کو بھی بنیادی حفاظتی شرط بنایا گیا ہے۔
اگر گاڑی یا اس کے کسی اہم نظام کو سائبر حملے یا سکیورٹی خطرے کا سامنا ہو تو آپریٹر کو گاڑی فوری طور پر روکنا ہوگی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ تبدیلی کیوں اہم ہے؟ ⌄
اصل تبدیلی گاڑی کا خود چلنا نہیں، بلکہ اس کے گرد ایک مکمل قانونی، حفاظتی اور کاروباری نظام بننا ہے۔
لائسنس، آپریٹنگ کارڈ اور تکنیکی منظوری واضح کی جارہی ہے۔
سیفٹی آفیسر، انشورنس اور فوری آپریشن معطلی کے قواعد شامل ہیں۔
کم از کم پانچ گاڑیوں کی شرط اس شعبے کو منظم تجارتی سرگرمی بناتی ہے۔
اسی طرح گاڑی بنانے والی کمپنی کی جانب سے ریکال جاری ہونے یا کسی ایسے تکنیکی نقص کی صورت میں بھی اسے سروس سے ہٹانا ہوگا جو مسافروں کی سلامتی پر اثر انداز ہوسکے۔
ہر گاڑی کے لیے الگ آپریٹنگ کارڈ ضروری ہوگا اور اس کی آپریشنل عمر تیاری کے سال سے 10 برس سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔
گاڑی کے لیے ایسا انشورنس بھی لازم ہوگا جو مسافروں اور تیسرے فریق کے حوالے سے شہری ذمہ داری کا احاطہ کرے۔
یہ شق خاص طور پر اہم ہے کیونکہ خودکار گاڑیوں کے حوالے سے سب سے بڑا عالمی سوال یہی رہا ہے کہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
ایپ کے ذریعے بکنگ
خودکار ٹیکسی کی سروس کمپنی کی ایپ یا منظور شدہ رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔
اس کا مطلب ہے کہ مسافر سڑک پر کھڑے ہوکر ہاتھ کے اشارے سے گاڑی روکنے کے بجائے اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بک کرے گا۔
180 OVERSEAS POST | EXPLAINER180 دن کا محدود لائسنس کیا بتاتا ہے؟ ⌄
1داخلہ: کمپنی محدود لائسنس کے ساتھ آپریشن شروع کرے گی۔
2جانچ: گاڑی، سسٹم، سیفٹی اور آپریشنل کارکردگی کو حقیقی حالات میں پرکھا جائے گا۔
3تکمیل: باقی ریگولیٹری اور تکنیکی تقاضے مکمل کرنا ہوں گے۔
4اگلا مرحلہ: شرائط پوری ہونے پر تین سالہ بنیادی لائسنس کی راہ کھلے گی۔
مسافر کی موجودگی میں گاڑی کو چارج کرنے یا اس میں ایندھن بھرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ آپریٹر کو سفر شروع کرنے سے پہلے یقینی بنانا ہوگا کہ گاڑی میں منزل تک پہنچنے کے لیے کافی توانائی موجود ہے۔
کچھ حالات میں سروس فراہم کرنے والے کو سفر سے انکار کا حق بھی ہوگا، جن میں سیٹ بیلٹ نہ لگانا، گاڑی میں سگریٹ نوشی یا غیر واضح منزل کا انتخاب شامل ہوسکتا ہے۔
تجربہ پہلے ہی شروع ہوچکا
سعودی عرب اس شعبے میں صفر سے آغاز نہیں کررہا۔
ریاض میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش 2025 میں شروع ہوچکی تھی اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی مقامات پر ان گاڑیوں کو آزمایا گیا۔
→ OVERSEAS POST | PASSENGER GUIDEمسافر کی خودکار ٹیکسی رائیڈ کیسے ہوگی؟ ⌄
1مسافر کمپنی یا منظور شدہ رائیڈ ہیلنگ ایپ سے گاڑی بک کرے گا۔
2سفر شروع ہونے سے پہلے گاڑی میں کافی ایندھن یا چارج ہونا ضروری ہوگا۔
3سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہوگا؛ بعض خلاف ورزیوں پر سروس فراہم کرنے والا سفر سے انکار کرسکے گا۔
4مسافر کی موجودگی میں گاڑی کو ایندھن یا چارج فراہم نہیں کیا جائے گا۔
اسی سال اکتوبر تک ایک ہزار سے زیادہ مسافر اس سروس کو استعمال کرچکے تھے۔
یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ تھی کہ مقصد صرف ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ اسے مستقبل میں باقاعدہ کاروباری سروس میں تبدیل کرنا ہے۔
ڈرائیور لیس ٹیکسی کب آئے گی؟
نئے ضوابط کسی ایک حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کرتے، لیکن وہ ایک اہم حقیقت واضح کرتے ہیں:
سعودی عرب اب ڈرائیور لیس ٹیکسی کے لیے صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ مکمل قانونی اور آپریشنل ڈھانچہ تیار کررہا ہے۔
⚠ OVERSEAS POST | CYBER SAFETYگاڑی ہیک ہوگئی تو کیا ہوگا؟ ⌄
خودکار گاڑی کا سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل کنکشن اس کی سلامتی کا حصہ ہے، اسی لیے سائبر واقعہ محض آئی ٹی مسئلہ نہیں رہے گا۔
- !
گاڑی یا اس کے سسٹم کو اختراق یا سائبر خطرہ لاحق ہو تو آپریشن فوری روکنا ہوگا۔
- !
مینوفیکچرر کی جانب سے ریکال جاری ہونے پر گاڑی سروس سے ہٹائی جائے گی۔
- !
ایسا تکنیکی نقص جو مسافروں کی سلامتی متاثر کرے، فوری معطلی کا سبب بنے گا۔
گاڑی کے لیے معیار، کمپنی کے لیے لائسنس، آپریٹنگ کارڈ، انشورنس، سائبر سکیورٹی اور مسافروں کی سلامتی کے قواعد طے کئے جارہے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی انسانی نگرانی کے بعد گاڑی کو سیفٹی آفیسر کے بغیر چلانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یوں سوال اب یہ نہیں رہا کہ:
کیا گاڑی خود چل سکتی ہے؟
بلکہ اصل سوال یہ ہے:
وہ وقت کتنا دور ہے جب سعودی شہروں میں ٹیکسی خود چلے گی اور مسافر صرف ایپ پر منزل منتخب کرے گا؟
180 دن کا محدود لائسنس بظاہر ایک ریگولیٹری مدت ہے، لیکن ممکن ہے یہی مدت سعودی عرب کو تجرباتی مرحلے سے حقیقی ڈرائیور لیس ٹرانسپورٹ مارکیٹ تک لے جانے والا اہم پل ثابت ہو۔