برازیلی فوٹوگرافر ہمبرٹو دا سلوویرا نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سعودی عرب کے تاریخی مقامات، نجدی فنِ تعمیر، بدوی زندگی اور آثارِ قدیمہ کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
1985 میں ریاض آنے کے بعد سعودی عرب ان کی زندگی کا اہم حصہ بن گیا۔
ان کی وفات کے بعد یہ بھی سامنے آیا کہ وہ 2024 میں اسلام قبول کرچکے تھے۔
سعودی عرب برازیلی فوٹوگرافر ہمبرٹو مارٹنز دا سلوویرا کے لیے محض ایک عارضی پڑاؤ نہیں تھا، نہ ہی کوئی ایسا ملک جہاں وہ چند تصاویر بنانے آئے ہوں اور پھر واپس چلے گئے ہوں۔
1980 کی دہائی کے وسط میں ریاض پہنچنے کے بعد مملکت رفتہ رفتہ ان کی پیشہ ورانہ اور جذباتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گئی۔
انہوں نے 4 دہائیوں سے زیادہ عرصہ یہاں گزارا اور اپنے کیمرے سے انسان، مقام، فنِ تعمیر اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرتے رہے۔
ہمبرٹو کے انتقال کے بعد کہانی صرف ایک ایسے عالمی شہرت یافتہ فوٹوگرافر کی وفات تک محدود نہیں رہی جس نے ہزاروں تصاویر اور بصری دستاویزات چھوڑی تھیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت بھی سامنے آئی جس نے ان کی زندگی کو ایک نیا انسانی پہلو دے دیا۔
مزید پڑھیں
معلوم ہوا کہ ہمبرٹو نے 2024 میں اسلام قبول کرلیا تھا، تاہم یہ بات وسیع پیمانے پر لوگوں کے علم میں نہیں تھی۔
وفات کے بعد الدرعیہ کی مسجد العذیبہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی مشیر اور غیر منافع بخش ’التراث‘ فاؤنڈیشن کے بانی و سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے بھی شرکت کی۔
1985 میں شروع ہونے والا سفر
ہمبرٹو دا سلوویرا 1954 میں برازیل میں پیدا ہوئے۔
امریکا، افریقہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک کے سفر کے دوران ان کا تعلق فوٹوگرافی سے مضبوط ہوتا گیا۔
انہوں نے ریو ڈی جنیرو میں فوٹوگرافی کی تعلیم حاصل کی، جبکہ نیویارک میں بھی مختلف تربیتی کورسز کیے۔ بعدازاں برازیل، امریکا اور فرانس میں پیشہ ورانہ طور پر کام کیا اور یورپ میں صحافتی اور پروفیشنل فوٹوگرافی کے تجربات سے بھی گزرے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTہمبرٹو دا سلوویرا — اہم نکات ⌄
- ✓برازیلی فوٹوگرافر ہمبرٹو دا سلوویرا 1985 میں ریاض آئے اور سعودی عرب ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا مرکز بن گیا۔
- ✓انہوں نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سعودی تاریخی ورثے، نجدی فنِ تعمیر اور بدوی زندگی کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
- ✓Najd اور Bedu ان کے سب سے نمایاں فوٹوگرافک منصوبوں میں شمار ہوتے ہیں۔
- ✓ان کی دلچسپی مدائن صالح، قدیم تہذیبوں اور ایسے مقامات کی بصری دستاویز بندی میں تھی جو تیز رفتار تبدیلی سے گزر رہے تھے۔
- ✓ان کی وفات کے بعد سامنے آیا کہ انہوں نے 2024 میں اسلام قبول کیا تھا۔
- ✓الدرعیہ میں اسلامی طریقے کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہزادہ سلطان بن سلمان بھی شریک ہوئے۔
لیکن 1985 ان کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
اسی سال انہیں اسلامی فن سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کے لیے ریاض بلایا گیا۔ یہیں سے ان کے سامنے ایک نئی دنیا کے دروازے کھلے۔
تاریخی مقامات، صحرائی ماحول اور نجدی طرزِ تعمیر ان کے لیے صرف خوبصورت تصویری پس منظر نہیں تھے بلکہ انہوں نے ان میں ایسی تہذیبی کہانی دیکھی جسے طویل عرصے تک محفوظ کیے جانے کی ضرورت تھی۔
اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر اس موضوع پر توجہ مرکوز کی جسے وہ ’بصری تاریخ‘ قرار دیتے تھے۔
قدیم تہذیبوں، روایتی فنِ تعمیر اور ماضی کے طرزِ زندگی کو تصاویر میں محفوظ کرنا ان کے پیشہ ورانہ سفر کا مرکزی حصہ بن گیا۔
’نجد‘.. جب تصویر تاریخی دستاویز بن گئی
سعودی عرب میں ان کے اہم ترین منصوبوں میں مشہور فوٹوگرافی پراجیکٹ ’Najd – نجد‘ شامل ہے۔
اس منصوبے میں 148 تصاویر شامل تھیں جن کے ذریعے سعودی عرب کے روایتی فنِ تعمیر اور مختلف تاریخی ادوار کو محفوظ کیا گیا۔
ان تصاویر میں قدیم آثار سے لے کر انیسویں صدی کی عمارتوں تک متعدد تاریخی پہلو دکھائی دیتے ہیں۔
ہمبرٹو کا مقصد محض خوبصورت تصویر بنانا نہیں تھا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXہمبرٹو دا سلوویرا: فیکٹ باکس ⌄
- پورا نام
- ہمبرٹو مارٹنز دا سلوویرا
- قومیت
- برازیلی
- پیدائش
- 1954، برازیل
- سعودی عرب آمد
- 1985
- نمایاں منصوبہ
- Najd
- نمایاں منصوبہ
- Bedu
- فوٹوگرافی کا مرکزی موضوع
- سعودی تاریخی ورثہ، نجدی فنِ تعمیر، بدوی زندگی اور آثارِ قدیمہ
- اسلام قبول کیا
- 2024
وہ ایسی عمارتوں، علاقوں اور طرزِ زندگی کو محفوظ کرنا چاہتے تھے جن کے بارے میں انہیں احساس تھا کہ تیزی سے ہونے والی شہری اور سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں ان کی اصل شکل بدل سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی تصاویر فن سے آگے بڑھ کر تاریخی دستاویزات بن گئیں اور ایسے مناظر کی گواہی دینے لگیں جن میں سے کئی وقت کے ساتھ تبدیل یا ناپید ہوگئے۔
اس کے بعد انہوں نے ’Bedu – بدو‘ کے عنوان سے ایک اور اہم منصوبہ مکمل کیا، جس میں جزیرہ نمائے عرب کے بدوؤں کی زندگی، صحرائی نقل و حرکت اور ہزاروں سال سے قائم روایتی طرزِ حیات کو فوٹوگرافی کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔
یہ وہ دور تھا جب جدید زندگی بہت سی قدیم بدوی روایات اور طرزِ معاشرت کو تیزی سے تبدیل کر رہی تھی۔
ہمبرٹو کی نظر سے سعودی عرب
ہمبرٹو کے تجربے کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ وہ صرف باہر سے سعودی معاشرے کو دیکھنے والے فوٹوگرافر نہیں رہے۔
مملکت میں کئی دہائیاں گزارنے کے بعد سعودی عرب سے ان کا تعلق ایک پیشہ ورانہ اسائنمنٹ سے کہیں آگے بڑھ چکا تھا۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISہمبرٹو کی کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
ہمبرٹو دا سلوویرا کی کہانی تین سطحوں پر اہم ہے:
انہوں نے سعودی علاقوں، صحراؤں اور تاریخی مقامات کا سفر کیا، قدیم فنِ تعمیر کو قریب سے دیکھا اور ان لوگوں سے تعلق قائم کیا جو اس سرزمین کی زندہ یادداشت کا حصہ تھے۔
انہوں نے غیر منافع بخش التراث فاؤنڈیشن کے ساتھ متعدد کتابوں اور دستاویزی منصوبوں پر بھی کام کیا۔
ان منصوبوں میں سعودی عرب کے کئی بادشاہوں کی زندگیوں سے متعلق بصری کام بھی شامل تھے۔
اسی طرح انہوں نے کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے ساتھ بھی مختلف منصوبوں میں تعاون کیا۔
ان کے نمایاں کاموں میں ’نجد‘، ’بدو‘ اور ’ہجر‘ جیسے منصوبے شامل ہیں۔
ہمبرٹو کا پیشہ ورانہ نظریہ بہت واضح تھا: فوٹوگرافی صرف خوبصورتی دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسی جگہوں اور روایات کو محفوظ کرنے کا وسیلہ بھی ہے جو انسانی تہذیب کے ارتقا کی گواہی دیتی ہیں۔
ان کے نزدیک تصویر وہ دستاویز تھی جو کسی مقام کے بدل جانے کے بعد بھی اس کی یاد کو زندہ رکھ سکتی ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ادارتی احتیاط چاہتا ہے؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- ہمبرٹو 1954 میں برازیل میں پیدا ہوئے۔
- 1985 میں ریاض آنے کے بعد سعودی عرب ان کی فوٹوگرافی کا اہم مرکز بن گیا۔
- Najd اور Bedu ان کے معروف دستاویزی فوٹوگرافی منصوبوں میں شامل ہیں۔
- ان کا کام سعودی ورثے، فنِ تعمیر اور قدیم تہذیبوں کی بصری دستاویز بندی پر مرکوز رہا۔
- رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2024 میں اسلام قبول کیا اور الدرعیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
ادارتی احتیاط
- ان کے اسلام قبول کرنے کے ذاتی حالات اور وجوہات کے بارے میں قیاس آرائی نہ کی جائے۔
- ان کی سعودی عرب سے محبت کو نقلِ قول کے بغیر ان کے ذاتی الفاظ کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
- فوٹوگرافی کے تمام منصوبوں کی تعداد یا مکمل فہرست صرف دستیاب مستند حوالوں تک محدود رکھی جائے۔
- ان کی زندگی کے آخری دنوں سے متعلق غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعووں کو خبر کا حصہ نہ بنایا جائے۔
اہم احتیاط: اس کہانی کا سب سے مضبوط زاویہ ہمبرٹو کا طویل فوٹوگرافک ورثہ اور سعودی عرب سے ان کی وابستگی ہے؛ اسلام قبول کرنے کی خبر کو احترام کے ساتھ، بغیر غیر ضروری قیاس آرائی کے پیش کیا جائے۔
اسی دلچسپی نے انہیں مشرقِ وسطیٰ کی مختلف تہذیبوں اور آثارِ قدیمہ کی جانب متوجہ کیا، جن میں نبطی تہذیب اور سعودی عرب کا تاریخی مقام مدائن صالح بھی شامل تھا۔
40 سالہ سفر کا وہ راز جسے بہت کم لوگ جانتے تھے
اگرچہ ہمبرٹو کئی دہائیوں تک سعودی معاشرے اور اسلامی تہذیب کے انتہائی قریب رہے، لیکن ان کی زندگی کا سب سے نجی باب طویل عرصے تک عوامی نظروں سے اوجھل رہا۔
ان کی وفات کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے مطابق انہوں نے 2024 میں اسلام قبول کرلیا تھا، لیکن انہوں نے اپنے اس فیصلے کو نہ کسی میڈیا ایونٹ میں تبدیل کیا اور نہ ہی عوامی سطح پر اس کی تشہیر کی۔
اگست 2026 میں ان کے انتقال کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی اور الدرعیہ میں اسلامی طریقے کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
یہ وہی تاریخی شہر تھا جس کے فنِ تعمیر اور تہذیبی ورثے نے ان کی بصری زندگی میں اہم مقام حاصل کیا تھا اور جس سے جڑی تاریخ کو انہوں نے اپنی تصاویر میں محفوظ کرنے میں برسوں صرف کیے۔
ان کی نمازِ جنازہ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد، رفقا اور ان کے کام سے وابستہ شخصیات شریک ہوئیں، جبکہ سعودی عرب میں برازیل کے سفیر پاؤلو اوشوآ ریبیرو فیلیو نے بھی تعزیت پیش کی۔
فوٹوگرافر چلا گیا، یادداشت باقی رہ گئی
ہمبرٹو دا سلوویرا کی کہانی صرف ایک ایسے غیر ملکی کی داستان نہیں جس نے سعودی عرب میں طویل عرصہ گزارا۔
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے اس سرزمین کو اپنی زندگی کا بڑا منصوبہ بنا لیا۔
وہ ہاتھ میں کیمرا لے کر آئے تھے، پھر ان کی عدسے نے انہیں دیہات، صحراؤں، آثارِ قدیمہ، عمارتوں اور لوگوں تک پہنچایا۔
وقت کے ساتھ وہ سعودی عرب کو باہر سے دیکھنے والے زائر نہیں رہے بلکہ مملکت کی بصری یادداشت کا حصہ بن گئے۔
چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط سفر ختم ہوا تو ان کے پیچھے ہزاروں تصاویر، کتابیں اور دستاویزی منصوبے رہ گئے، جو نئی نسلوں کو وہ سعودی عرب دکھاتے ہیں جو موجودہ بڑی تبدیلیوں سے پہلے کی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا تھا۔
لیکن ان کی زندگی کا آخری باب پوری کہانی کو ایک اور معنی دے گیا۔
ہمبرٹو سعودی عرب تصویر بنانے آئے تھے، مگر اس سرزمین سے ایسا رشتہ قائم ہوا کہ وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے، اور دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ اسلام قبول کرچکے تھے، جبکہ ان کا کیمرا ایک ایسے وطن کی یادداشت محفوظ کرگیا جسے انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک چاہا۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
هذه البطاقات تحافظ على القالب المعتمد نفسه، بينما تم استبدال المحتوى فقط بما يناسب تقرير همبرتو دا سلوویرا.