مصر کے محافظہ وادی جدید کے علاقے ’عین السبیل‘ میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک مکمل بازنطینی دور کا رہائشی شہر دریافت کیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اہم کامیابی سپریم کونسل آف اینٹیکویٹیز کے زیر اہتمام ہونے والی کھدائی کے دوران حاصل ہوئی، جس سے قدیم مصری معاشرتی زندگی کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔
منظم تعمیرات اور تاریخی اہمیت
دریافت ہونے والا یہ شہر مکمل طور پر کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا، جس کی ساخت اور فن تعمیر آج بھی محفوظ حالت میں ہیں۔
وزیر سیاحت و آثار قدیمہ شریف فتحی کے مطابق یہ دریافت مصری صحرا میں قدیم تہذیبی تنوع کو اجاگر کرتی ہے، جو سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔
شہر کا آرکیٹیکچرل پلان
سپریم کونسل آف اینٹیکویٹیز کے ماہر ڈاکٹر ضیا زہران نے بتایا کہ شہر کا نقشہ انتہائی منظم اور جدید تھا، جہاں شمال تا جنوب اور مشرق تا مغرب جانے والی سڑکیں بڑے چوکوں اور کھلے میدانوں میں بدل جاتی ہیں۔
اس پورے شہر کے مرکز میں ایک عظیم الشان بازنطینی طرز کی چرچ (بیسیلیکا) واقع ہے۔
شہری سہولیات اور دفاعی نظام
آثار قدیمہ مشن کے سربراہ ڈاکٹر محمود مسعود نے انکشاف کیا کہ شہر میں چوتھی صدی عیسوی کا چرچ، دفاعی برج، مضبوط حصار اور رہائشی مکانات شامل ہیں۔
یہاں تندور، باورچی خانے اور اناج پیسنے کے آلات بھی ملے ہیں، جو اس دور میں ایک مکمل اور خود کفیل معاشرے کے قیام کی تصدیق کرتے ہیں۔
تاریخی کردار اور خفیہ مقامات
کھدائی کے دوران یہاں کے اہم رہائشیوں کے مکانات بھی شناخت ہوئے ہیں، جن میں چرچ کے ڈیکن ’تِیسوس‘ کا گھر شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’تابیپوس‘ نامی شخص کا مکان باقاعدہ چرچ کی تعمیر سے قبل خفیہ عبادات کے لیے بطور گھریلو چرچ استعمال کیا جاتا تھا۔
روزمرہ زندگی کی جھلکیاں
وزارت سیاحت و آثار قدیمہ کے مطابق یہاں سے روزمرہ استعمال کی اشیا برآمد ہوئی ہیں، جن میں مٹی کے برتن، عطر و تیل کی بوتلیں اور چراغ شامل ہیں۔
ان اشیا سے قدیم مکینوں کے معاشی اور روزمرہ کے معمولات کا گہرا مطالعہ کرنے میں بہت مدد مل رہی ہے۔
تاریخی دستاویزات و نوادرات
کھدائی میں 200 کے قریب ’اوستراکا‘ یعنی لکھائی والے مٹی کے ٹکڑے ملے ہیں جن پر قبطی اور یونانی زبانوں میں کاروباری لین دین درج ہے۔
مزید برآں بازنطینی حکمران قسطنطین دوم کے دور کے نایاب سونے و کانسی کے سکے بھی بڑی تعداد میں ملے۔
ایک قدیم تہذیبی ورثہ
یہ دریافت بازنطینی دور کے مصر کی تعمیراتی اور انتظامی وسعت کو ثابت کرتی ہے۔
یہ وہ دور تھا جب مصر میں یونانی ثقافت اور رومی نظام کا امتزاج موجود تھا، جس نے 641 عیسوی میں اسلامی فتح سے قبل یہاں کے صحرائی علاقوں اور نخلستانوں میں تہذیبی نشوونما کو عروج پر پہنچایا تھا۔
وادی جدید کی یہ دریافت محض کھنڈرات نہیں بلکہ بازنطینی دور کے معاشرتی، معاشی اور مذہبی نظام کا ایک مکمل عکاس ہے۔
ایسی دریافتیں نہ صرف عالمی سیاحت کے لیے اہم ہیں بلکہ تاریخ کے ان اوراق کو بھی روشن کرتی ہیں جو صدیوں سے صحرا کی ریت تلے دبے ہوئے تھے۔