امریکا میں ایک جوڑے کے ہاتھوں مٹی سونے سے بھی زیادہ قیمتی ثابت ہوئی، جب ان کے گھر کے پچھلے باغ سے ملنے والا ایک عام سا پتھر دراصل تقریباً 1900 سال پرانا نادر رومی تاریخی نوادر نکلا۔
سائنسی ویب سائٹ ’سائنس الرٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جسے العربیہ نے بھی نقل کیا ہے، امریکی جوڑا اپنے گھر کے پچھواڑے کی صفائی کر رہا تھا کہ انہیں ایک سنگِ مرمر کی تختی ملی، جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت ہے۔
مزید پڑھیں
ارواحِ مردگان
لاطینی زبان میں کندہ اس سنگِ مرمر پر ’ارواحِ مردگان‘ کے الفاظ درج تھے۔
پہلی نظر میں یہ محض باغ کی سجاوٹ کے لیے تیار کی گئی ایک عام آرائشی تختی محسوس ہوئی لیکن نیو اورلینز کے تاریخی علاقے کیرولٹن
میں رہنے والی ماہرِ بشریات ڈینیلا سانتورو کو اس پر شک ہوا۔
یہ پتھر گھاس میں آدھا دبا ہوا ملا تھا، جس پر سانتورو اور ان کے شوہر آرون لوپیز کو ابتدا میں خدشہ ہوا کہ شاید انہوں نے کسی قدیم قبر کا سراغ لگا لیا ہے۔
سانتورو نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس پر لاطینی زبان میں تحریر درج تھی۔
جب آپ ایسی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام شے نہیں۔
بعد ازاں سانتورو نے ماہرین سے رابطہ کیا جنہوں نے اس پتھر اور اس پر کندہ تحریر کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس تحقیق میں ٹولین یونیورسٹی کی ماہرِ آثارِ قدیمہ سوزان لوسنیا اور یونیورسٹی آف نیو اورلینز کے ماہرِ بشریات ڈاکٹر ریان گرے بھی شامل تھے۔
تحقیق کاروں کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ دریافت کتنی غیر معمولی ہے۔
لاطینی عبارت کا آغاز ’Dis Manibus‘ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ’ارواحِ مردگان کے نام‘ ہے۔ یہ جملہ قدیم رومی قبروں اور کتبوں پر عام طور پر لکھا جاتا تھا۔
رومی تدفینی روایات میں یہ عبارت مرنے والوں کی روحوں کے لیے بطور خراجِ عقیدت لکھی جاتی تھی، اور آج بھی سابق رومی سلطنت کے علاقوں میں ایسی ہزاروں تحریریں محفوظ ہیں۔
مزید ترجمے سے معلوم ہوا کہ یہ کتبہ ایک رومی فوجی ’سیکسٹس کونجینیئس ویروس‘ کی یاد میں نصب کیا گیا تھا۔
اس تحریر کے مطابق وہ 42 برس کی عمر میں وفات پا گیا تھا اور اس سے قبل 22 سال فوجی خدمات انجام دے چکا تھا۔
یعنی سانتورو اور لوپیز نے اپنے باغ میں جس پتھر کو دریافت کیا، وہ تقریباً 1900 سال قبل وفات پانے والے ایک رومی سپاہی کی قبر کا کتبہ تھا۔
قومی آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر کا حصہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پتھر پہلی بار دریافت نہیں ہوا تھا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں اسے اٹلی کے ساحلی شہر چیویتاویکیا کے قومی آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر کی کلیکشن کا حصہ قرار دیا گیا تھا، جہاں یہ ایک چھوٹے قبرستان میں نصب تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1943 اور 1944 میں اتحادی افواج کی بمباری سے عجائب گھر کو شدید نقصان پہنچا اور بے شمار تاریخی نوادرات یا تو تباہ ہوگئے یا پھر مختلف مقامات پر منتقل کر دیے گئے۔
جنگ اور لوٹ مار کے باعث پورے یورپ میں لاتعداد تاریخی اشیا بکھر گئیں، جن میں سے بہت سی آج تک لاپتہ ہیں۔
یہ رومی کتبہ بھی بعد میں گمشدہ نوادرات کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔
عجائب گھر کے ریکارڈ میں درج اس کی پیمائشیں بالکل وہی تھیں جو سانتورو اور لوپیز کے باغ سے ملنے والی تختی کی تھیں۔
تاہم یہ آج بھی ایک معمہ ہے کہ یہ تاریخی پتھر جنگ کے دوران اٹلی سے امریکا کے شہر نیو اورلینز کے نواحی علاقے تک کیسے پہنچا۔
سابقہ مالک ایرین اسکاٹ اوبرائن کے مطابق یہ پتھر ان کے دادا چارلس پیڈوک جونیئر کے گھر میں رکھا ہوا تھا۔
چارلس پیڈوک دوسری جنگِ عظیم کے دوران اٹلی میں تعینات ایک امریکی فوجی تھے۔
ان کی وفات کے بعد یہ پتھر خاندان کے پاس محفوظ رہا۔
جب اوبرائن نے نئی صدی کے آغاز میں یہ گھر سنبھالا تو ان کی والدہ نے یہ پتھر انہیں تحفے میں دے دیا۔
اوبرائن نے بتایا کہ جب ہم نے گھر میں پہلی بار ایک درخت لگایا تو سوچا کہ اسے باغ کی زینت بناتے ہیں، اس لیے ہم نے یہ پتھر بھی وہیں رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی تھی کہ یہ محض ایک خوبصورت آرائشی چیز ہے، مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ تقریباً دو ہزار سال پرانا تاریخی نوادر ہے۔
آج، عجائب گھر کی تباہی کو 8 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اس داستان کے بیشتر کردار دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن ایک رومی سپاہی کی یادگار اچانک ایک امریکی گھر کے باغ سے دوبارہ سامنے آ کر تاریخ کے ایک گمشدہ باب کو زندہ کر گئی۔