حافظ محمد ہاشم صدیقی
جمشید پور - بھارت
سیرتِ رسول اللہﷺ حسنِ اخلاق، رحم، مساوات اور انسان دوستی کا کامل نمونہ ہے۔
آپﷺ نے دشمنوں کو معاف کیا، غلاموں اور خادموں کو عزت دی اور اپنی گفتگو و معاشرت سے نرمی، شائستگی اور کشادہ دلی کی ایسی مثال قائم کی جو ہر دور کے انسان کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
2/3
سیرتِ رسول اللہﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ آپﷺ نے انسانی مساوات، عدل اور احترام کی جو تعلیم دی، اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرکے بھی دکھایا۔
آپﷺ نے معاشرے کے غریب، کمزور، غلام، یتیم اور محروم لوگوں کو وہ مقام عطا کیا جس کا اُس وقت کی طبقاتی دنیا میں تصور بھی مشکل تھا۔
آپﷺ کی مجلس میں امیر و غریب، عربی و عجمی اور آقا و غلام کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا۔
آپﷺ کی پوری زندگی حسنِ اخلاق، رحمت، عفو و درگزر اور انسان دوستی کا کامل نمونہ تھی۔
آپﷺ نے صرف اپنے ماننے والوں سے حسنِ سلوک نہیں کیا، بلکہ دشمنوں، مخالفت کرنے والوں اور تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرمایا۔
مزید پڑھیں
عفو و درگزر کا بے مثال کردار
رسول اللہﷺ کو مکہ مکرمہ میں شدید اذیتیں دی گئیں۔ آپﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپﷺ پر پتھر برسائے گئے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور بالآخر آپﷺ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔
لیکن جب فتحِ مکہ کے موقع پر وہی دشمن آپ ﷺ کے سامنے بے بس
کھڑے تھے تو آپﷺ نے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمادیا۔
یہ انسانی تاریخ میں عفو و درگزر کی عظیم مثال ہے۔
دنیا کے فاتحین عموماً اپنے مخالفین سے بدلہ لیتے ہیں، لیکن فاتحِ مکہﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کرکے واضح کردیا کہ اسلام کا مقصد انتقام نہیں، بلکہ انسانوں کی اصلاح اور ہدایت ہے۔
◆OVERSEAS POST | AKHLAQ E MUSTAFAاخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کے اہم نکات⌄
- ✓فتحِ مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کردیا۔
- ✓آپ ﷺ نے غلاموں، خادموں اور کمزور طبقات کو عزت اور مساوی انسانی مقام دیا۔
- ✓رسول اللہ ﷺ کی گفتگو واضح، شائستہ، بامقصد اور غیر ضروری طوالت سے پاک ہوتی تھی۔
- ✓محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا اپنے کردار میں نرمی، درگزر اور حسنِ سلوک پیدا کرنا ہے۔
آپﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔
اگر کسی معاملے میں ناراضی کا اظہار فرماتے تو وہ ذاتی مفاد کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کی پامالی پر ہوتا۔
آپﷺ کا یہ طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ذاتی اختلاف، رنجش یا نقصان کو معاشرتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
کمزوروں اور غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک
اسلام سے پہلے غلاموں کو معاشرے میں نہایت حقیر سمجھا جاتا تھا۔
ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا اور انہیں بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں تھے۔ رسول اللہﷺ نے غلاموں اور خادموں کو عزت دی اور مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ جو خود کھاؤ، انہیں بھی کھلاؤ اور جو خود پہنو، انہیں بھی پہناؤ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے 10 سال رسول اللہﷺ کی خدمت کی۔
وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے اس طویل مدت میں کبھی انہیں اُف تک نہیں کہا اور نہ کسی کام پر یہ فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا یا ایسا کیوں نہیں کیا۔
یہ واقعہ آپﷺ کے حلم، بردباری اور خدمت کرنے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی روشن مثال ہے۔
۞OVERSEAS POST | PROPHETIC CHARACTERنرم خوئی اور کشادہ دلی⌄
’’رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کشادہ رو، خوش مزاج اور نرم اخلاق رہتے تھے۔ آپ ﷺ نہ سخت طبیعت کے تھے، نہ سخت لہجے میں بات کرتے، نہ چلا کر بولتے اور نہ کسی کو عیب لگاتے تھے۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ
آپ ﷺ نے خود کو جھگڑے، تکبر اور غیر ضروری کاموں سے محفوظ رکھا۔ نہ لوگوں کی برائی کرتے، نہ ان کے عیب تلاش کرتے اور نہ پوشیدہ کمزوریوں کے پیچھے پڑتے تھے۔
ایک غلام بیمار ہوا تو رسول اللہﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
جب اس کا انتقال ہوا تو آپﷺ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوئے۔
بعض لوگوں نے حیرت ظاہر کی کہ ایک غلام پر اتنی خصوصی عنایت کیوں کی جارہی ہے۔
آپﷺ نے اپنے طرزِ عمل سے واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و منزلت کا معیار اس کی سماجی حیثیت، دولت یا نسب نہیں، بلکہ تقویٰ اور نیک کردار ہے۔
گفتگو اور معاشرت کا انداز
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے اندازِ گفتگو کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
’آپﷺ اکثر طویل سکوت اختیار فرماتے اور بلا ضرورت گفتگو نہ کرتے تھے۔
آپﷺ کی گفتگو نہایت صاف، واضح اور دوٹوک ہوتی۔ اس میں نہ غیر ضروری طوالت ہوتی اور نہ ایسا اختصار کہ بات سمجھ میں نہ آئے۔‘
آپﷺ نرم مزاج اور نرم گفتار تھے۔
کسی کی اہانت نہیں کرتے تھے اور نہ کسی کو حقیر سمجھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت کی بھی قدر فرماتے اور کسی نعمت کو معمولی قرار نہ دیتے۔
آپﷺ کی گفتگو حکمت، مقصدیت اور خیر خواہی پر مبنی ہوتی تھی۔
◎OVERSEAS POST | MERCY & EQUALITYکمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک⌄
رسول اللہ ﷺ نے غلاموں، خادموں اور معاشرے کے کمزور افراد کو عزت دے کر عملی مساوات قائم کی:
جب کسی طرف اشارہ فرماتے تو محض انگلی سے نہیں، بلکہ پورے ہاتھ سے اشارہ کرتے۔
کسی بات پر ناگواری ہوتی تو رخِ انور پھیر لیتے۔
خوش ہوتے تو نظریں جھکا لیتے۔
آپﷺ کا ہنسنا زیادہ تر تبسم ہوتا اور دندانِ مبارک بارش کے اولوں کی طرح پاک و شفاف دکھائی دیتے۔
نرم خوئی اور کشادہ دلی
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کشادہ رو، خوش مزاج اور نرم اخلاق رہتے تھے۔
آپ ﷺ نہ سخت طبیعت کے تھے، نہ سخت لہجے میں بات کرتے، نہ چلا کر بولتے، نہ کسی کو عیب لگاتے، نہ تنگ دل تھے اور نہ بخیل۔‘
آپﷺ نے خود کو جھگڑے، تکبر اور غیر ضروری کاموں سے محفوظ رکھا تھا۔
دوسروں کے بارے میں نہ برائی کرتے، نہ عیب تلاش کرتے اور نہ لوگوں کی پوشیدہ کمزوریوں کے پیچھے پڑتے تھے۔
آپ ﷺ صرف وہی بات فرماتے جس میں خیر اور ثواب کی امید ہوتی۔
!OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSاخلاقِ مصطفیٰ ﷺ آج کیوں ضروری ہیں؟⌄
سخت لہجے، ذاتی انتقام، طبقاتی تفاخر اور عیب جوئی کے بڑھتے رجحان میں اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ معاشرتی اصلاح کے چار راستے دکھاتے ہیں:
- اختلاف اور ذاتی نقصان کو مستقل دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے عفو و درگزر اپنایا جائے۔
- گفتگو میں نرمی، شائستگی اور مقصدیت رکھی جائے اور کسی کی تحقیر نہ کی جائے۔
- خادم، مزدور، غریب اور کمزور سمیت ہر انسان کی عزت اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔
- محبتِ رسول ﷺ کو زبانی دعووں سے آگے بڑھا کر روزمرہ کردار اور معاملات میں ظاہر کیا جائے۔
جب آپﷺ گفتگو فرماتے تو مجلس میں موجود لوگ انتہائی ادب سے خاموش رہتے۔
ہر شخص کو یوں محسوس ہوتا جیسے آپﷺ اسی کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ آپﷺ کسی کی بات درمیان میں نہیں کاٹتے اور سائل کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
جمال و کمالِ مصطفیٰ ﷺ
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمدﷺ کو حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت، محبت، دل کشی، رعب اور وقار بھی عطا فرمایا تھا۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’رسول اللہﷺ میانہ قد تھے۔
میں نے ایک مرتبہ آپﷺ کو سرخ قبا میں دیکھا۔
میں نے اس سے زیادہ حسین کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔‘
1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں دوسرا حصہ⌄
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی حسنِ اخلاق، رحمت، مساوات اور انسان دوستی کا کامل نمونہ تھی۔
فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنے بدترین دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا۔
آپ ﷺ نے غلاموں، خادموں اور کمزوروں کو عزت دی؛ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دس سال خدمت کی، مگر آپ ﷺ نے کبھی انہیں اُف تک نہیں کہا۔
اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہے کہ ہم گفتگو میں نرمی، معاملات میں درگزر اور ہر انسان کے ساتھ احترام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’میں نے حریر و دیباج کو بھی رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایا اور نہ کبھی آپﷺ کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی خوشبو سونگھی۔‘
رسول اللہﷺ کے اخلاق و شمائل کا یہ مختصر خاکہ بتاتا ہے کہ آپﷺ ظاہری حسن کے ساتھ اخلاق و کردار کی کامل ترین تصویر تھے۔
آپ ﷺ کی نرم خوئی، عفو، سادگی اور انسان دوستی ہر دور کے انسان کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں سخت لہجے، ذاتی انتقام، طبقاتی تفاخر اور دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
ایسے حالات میں سیرتِ مصطفیٰﷺ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں نرمی، گفتگو میں شائستگی، معاملات میں درگزر اور کمزوروں کے ساتھ احترام کو جگہ دیں۔
یہی محبتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا اور ایک پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
جاری ہے۔۔۔