براہ راست نشریات

مسجد میں عورتوں کی نماز: مسئلہ کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Muslim women in mosques

پروفیسر اختر الواسع

انڈیا

اسلام نے خواتین کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ انہیں مسجد یا گھر میں نماز پڑھنے کا اختیار دیا ہے۔ عہدِ نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں خواتین مسجد نبوی میں نماز، خطبے اور علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں۔
پروفیسر اختر الواسع کے مطابق خواتین کی مسجد میں نماز کوئی حقیقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک غیر ضروری تنازع ہے۔

اسلامی شریعت کے احکام ڈھکے چھپے نہیں۔ 

مسجد میں عورتوں کی نماز کے معاملے میں اسلام نے وسعت اور آزادی دی ہے۔ 

خواتین کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت ابتدا ہی سے حاصل رہی ہے۔ 

رسول اللہﷺ کے زمانے میں خواتین مسجد نبوی میں آکر نماز اور خطبے میں شریک ہوتی تھیں۔ 

حدیث اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں نماز اور علمی مجالس میں شریک ہونے کے ساتھ سوالات بھی کرتی اور اپنی رائے بھی پیش کرتی تھیں۔

یہ طریقہ خلفائے راشدین کے دور میں بھی جاری رہا۔ 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منبر پر عورتوں کے مہر کی حد مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ جس چیز کی حد اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کی، اسے آپ کیسے محدود کر سکتے ہیں؟ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً اس کی بات تسلیم کرتے ہوئے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔ اس واقعے سے واضح ہے کہ خواتین مسجد نبوی میں نماز اور خطبے میں شریک ہوتی اور اظہار رائے کا حق بھی استعمال کرتی تھیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمسجد میں خواتین کی نماز — اہم نکات
  • اسلام میں خواتین کے مسجد جانے اور نماز ادا کرنے کی قطعی ممانعت نہیں۔
  • عہدِ نبوی میں خواتین مسجد نبوی، نماز، خطبے اور علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں۔
  • مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز مردوں کی ذمہ داری، جبکہ خواتین کے لیے اختیار اور سہولت ہے۔
  • گھر میں نماز پڑھنے کی تلقین کا مطلب خواتین کی مسجد میں نماز پر پابندی نہیں۔
  • iخواتین دوسری خواتین کی جماعت اور تراویح کی امامت کر سکتی ہیں۔
overseaspost.net

مزید پڑھیں

اسلام نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو مردوں کی ذمہ داری قرار دیا، لیکن خواتین کے لیے مسجد میں حاضری لازم نہیں کی۔ 

عورتوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کریں یا اپنی سہولت کے مطابق گھر میں پڑھیں۔ 

یہ پابندی نہیں بلکہ اسلامی قانون کی طرف سے دی گئی خصوصی رعایت ہے۔

اسلامی تاریخ کے ہر دور میں خواتین نے اس سہولت کے مطابق نمازیں ادا کی ہیں۔ 

آج بھی مسجد الحرام، مسجد نبوی، دہلی کی جامع مسجد، حیدرآباد کی مکہ مسجد اور دوسری بڑی مساجد میں خواتین نماز پڑھتی ہیں۔ 

بہت سی مقامی مساجد میں بھی جمعے اور رمضان کے موقع پر ان کے لیے الگ انتظام موجود ہوتا ہے۔

یہ درست ہے کہ عہد نبوی کے مقابلے میں موجودہ زمانے کے حالات مختلف ہیں اور خواتین کی سلامتی اور عفت کو خطرات لاحق ہیں۔ 

انہی حالات کے پیش نظر فقہا نے خواتین کو گھروں میں نماز پڑھنے کی تلقین کی، لیکن اس کا مطلب مسجد میں ان کی نماز کو ممنوع قرار دینا نہیں۔ 

آج بھی بہت سی مساجد میں خواتین جمعے، تراویح اور دوسری نمازوں میں شریک ہوتی ہیں۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXخواتین کی نماز: فیکٹ باکس
بنیادی حکم
خواتین کے لیے مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے
عہدِ نبوی
خواتین مسجد نبوی میں نماز اور خطبے میں شریک ہوتی تھیں
مردوں کا معاملہ
مسجد میں باجماعت نماز کی خصوصی تاکید
خواتین کا معاملہ
مسجد یا گھر میں نماز ادا کرنے کا اختیار
علیحدہ انتظام
بہت سی مساجد میں خواتین کے لیے مخصوص جگہ موجود ہے
خواتین کی امامت
خاتون، عورتوں کی جماعت کی امامت کر سکتی ہے
مضمون کا بنیادی مؤقف
سہولت کو محرومی بنا کر پیش کرنا حقیقت کے برعکس ہے
overseaspost.net

بعض لوگ مسجد میں حاضری کے حق کو امامت سے جوڑ دیتے ہیں، حالاں کہ دونوں الگ مسائل ہیں۔ 

اسلامی قانون کے مطابق خواتین، عورتوں کی جماعت کی امامت کر سکتی ہیں۔ 

رمضان المبارک میں حافظۂ قرآن خواتین، عورتوں کو تراویح پڑھاتی ہیں اور مختلف شہروں میں یہ معمول دیکھا جا سکتا ہے۔ 

البتہ مردوں اور عورتوں کی مشترکہ جماعت کی امامت عبادت کے مقررہ طریقے سے متعلق ہے، اسے مساوات یا بنیادی حقوق کی عمومی بحث بنانا درست نہیں۔

ان حقائق سے واضح ہے کہ مسلم سماج میں خواتین کی مسجد میں نماز کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ 

انہیں مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل ہے، لیکن ان پر مسجد میں حاضری لازم نہیں کی گئی۔ اس سہولت کو محرومی بناکر پیش کرنا حقیقت کے برعکس ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ بحث کیوں اہم ہے؟

یہ بحث مذہبی حق، شرعی سہولت اور معاشرتی ضرورت کے درمیان فرق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے:

حق اور فرضمسجد میں نماز کی اجازت موجود ہے، مگر خواتین پر حاضری کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔
تاریخی عملعہدِ نبوی سے خواتین نماز، خطبے، سوال اور علمی مجالس میں شریک رہی ہیں۔
عملی سہولتخواتین حالات، سلامتی اور گھریلو ذمہ داریوں کے مطابق مسجد یا گھر کا انتخاب کر سکتی ہیں۔
بنیادی نکتہ: گھر میں نماز کی اجازت ایک رعایت ہے؛ اسے مسجد سے اخراج یا مذہبی حق سے محرومی کہنا درست تعبیر نہیں۔
overseaspost.net

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض فرقہ پرست تنظیمیں مختلف مذہبی اکائیوں کو باہم الجھائے رکھنا چاہتی ہیں۔ 

مسلمانوں کو تعلیم، روزگار، سماجی ترقی اور ملک کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے غیر ضروری تنازعات میں الجھایا جاتا ہے۔ 

مسلم خواتین اور مردوں کو چاہئے کہ وہ میڈیا کے شور سے متاثر ہونے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کا مطالعہ کریں۔

اسلامی قوانین نے خواتین کو بلند مقام، عزت اور فطری حقوق عطا کئے ہیں۔ 

ضرورت ہے کہ ان حقوق کو درست تناظر میں سمجھا جائے اور خواتین کی تعلیم، تحفظ، وقار اور حقیقی ترقی کے لیے کام کیا جائے۔ 

بے بنیاد تنازعات کے بجائے سچائی اور انصاف پر مبنی گفتگو ہی خواتین اور معاشرے کے مفاد میں ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے