براہ راست نشریات

آبگینوں کا خیال رکھیں: خوش گوار ازدواجی زندگی کا نبوی اصول

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Happy Married Life
خوشگوار ازدواجی زندگی کی تمنا ہے تو اپنے دل میں اس ’آبگینے‘ کو محفوظ کرنا ہوگا

ڈاکٹر بشری تسنیم

شارجہ

کامیاب ازدواجی زندگی صرف مادی آسائشوں سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیاد نرم رویے، میٹھے الفاظ اور باہمی احترام پر ہوتی ہے۔
نبی کریمﷺ نے خواتین کو ’آبگینوں‘ سے تشبیہ دے کر ان کی نزاکت اور جذبات کے تحفظ کا درس دیا۔
بحیثیت شوہر آپﷺ کا اسوہ ہر مسلمان مرد کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

دنیا جیسے جیسے ارتقائی مراحل طے کر رہی ہے، زندگی کے ہر کام اور ہر شعبے میں تخصص یا اسپیشلائزیشن کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ 

انسانی جسم کے کسی خاص عضو یا کسی دوسرے فن میں مہارت رکھنے والا شخص ’اسپیشلسٹ‘ کہلاتا ہے، پھر ہر شعبے کے علم کے مزید مرحلے اور درجے بھی ہوتے ہیں۔

اسی طرح زندگی کا ہر کام، ابتدا سے انجام تک، مہارت اور تخصص کا محتاج ہے۔ 

کسی شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنا یا انسانی جسم کا ماہر معالج بننا یقیناً قابلِ قدر بات ہے، مگر بحیثیت انسان، تعلقات کے مختلف مراحل میں مہارت حاصل کرنا کمال درجے کی قابلِ فخر کامیابی ہے۔

کسی بھی کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک ایسے نمونے یا ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے جسے سامنے رکھ کر مطلوبہ معیار تک پہنچا جا سکے۔ 

یہ بھی ضروری ہے کہ اس تخصص کی تعلیم کسی اعلیٰ درجے کی درس گاہ سے حاصل کی گئی ہو اور علم، کام، منصوبے یا مقالے کی نگرانی کسی بلند پایہ ہستی نے کی ہو۔

ایک منٹ میں مضمون

خوش گوار ازدواجی زندگی صرف مادی آسائشوں سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کی اصل بنیاد نرم رویے، میٹھے الفاظ، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے جذبات کی حفاظت ہے۔ نبی کریمﷺ نے خواتین کو آبگینوں سے تشبیہ دے کر ان کی نزاکت اور عزتِ نفس کا خیال رکھنے کی تعلیم دی۔ جو شوہر اپنی بیوی کے احساسات کو سمجھتا ہے، وہ اپنے گھر کو محبت، اعتماد اور سکون کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ 

گھر کا سربراہ مرد اور بحیثیت شوہر وہ گھر کا پہلا ذمہ دار ہے۔ 

وہ راعی ہے اور اس سے اپنی رعیت کے بارے میں بازپرس کی جائے گی۔

مزید پڑھیں

نمونۂ عمل شوہر بننا ہی گھر اور معاشرے کی اصلاح کا پہلا مرحلہ ہے۔ 

ہم وہ خوش قسمت امت ہیں جسے زندگی گزارنے کے لیے ایک کامل نمونہ عطا کیا گیا ہے:

’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘

ایک مرد کو اپنی زندگی میں معاشی اور معاشرتی حالات کے مطابق شریکِ حیات کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ 

اس رشتے کی کامیابی کے لیے دو جمع دو برابر چار کا کوئی سادہ فارمولا لاگو نہیں ہوتا۔ 

یہ بھی ضروری نہیں کہ شریکِ حیات کا انتخاب ہمیشہ انسان نے خود کیا ہو۔

 بعض اوقات حالات کی مجبوری کے تحت نکاح ہو جاتا ہے۔ 

ایسی صورت میں باہمی سمجھوتا، برداشت اور معاملہ فہمی ہی کامیابی کا مؤثر نسخہ بنتے ہیں۔

بہرحال، جب کوئی مرد شوہر بنتا ہے تو اسے ایک قابلِ تقلید شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لیے کامل نمونہ عطا فرمایا، خود اپنے رسولﷺ کی تربیت فرمائی اور انہیں:

’إِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ‘

کی سند عطا کی۔

اہم نکات
  • گھر اور معاشرے کی اصلاح کا آغاز ذمہ دار اور خوش اخلاق شوہر سے ہوتا ہے۔
  • کامیاب ازدواجی زندگی محبت، برداشت اور باہمی سمجھ بوجھ کا تقاضا کرتی ہے۔
  • نبی کریمﷺ بحیثیت شوہر مسلمان مردوں کے لیے کامل نمونہ ہیں۔
  • بیوی مادی سہولتوں سے بڑھ کر اپنے جذبات کی قدر اور احترام چاہتی ہے۔
  • نرم لہجہ دلوں کو قریب، جبکہ تلخ الفاظ رشتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں بحیثیت ازواج آنے والی خواتین مختلف علاقوں، خاندانوں، حالات اور واقعات سے تعلق رکھتی تھیں۔ 

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا عمر میں بڑی تھیں تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کم عمر تھیں۔ 

کوئی ہم عمر تھیں، کوئی بیوہ اور کوئی مطلقہ تھیں۔ 

کوئی نہایت حسین تھیں تو کوئی عام شکل و صورت کی حامل، کوئی دراز قد تھیں تو کوئی چھوٹے قد کی۔

کوئی معمولی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں تو کوئی سردار کی بیٹی تھیں۔ 

کوئی صحت مند تھیں تو کوئی کمزور صحت کی مالک۔ 

کسی کے مزاج میں تیزی تھی تو کسی کا بھولاپن اس کی خوبی تھا۔ 

کوئی کھانا پکانے میں ماہر تھیں تو کوئی علم میں تخصص کا درجہ رکھتی تھیں۔ 

کسی سے اولاد ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔ 

کوئی بیوہ تھیں اور کوئی مطلقہ ہونے کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ آئیں۔

غرض یہ کہ زندگی کے دوسرے تمام معاملات کی طرح بحیثیت شوہر بھی نبی کریمﷺ مومن مردوں کے لیے کامل ترین نمونہ ہیں۔

فکر انگیز اقتباس
’’الفاظ ہی دل کی نگری کو آباد یا برباد کرتے ہیں؛ انہی سے دل شاد ہوتے ہیں اور انہی سے ناشاد۔‘‘
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

مرد جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، ممکن ہے وہ اپنے حالات، مزاج یا معاملات میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے کسی ایک سے مشابہت رکھتی ہو۔ 

دنیا کی ہر عورت بحیثیت بیوی بنیادی طور پر یکساں انسانی جذبات رکھتی ہے۔ 

ہر انسانی گروہ پر:

’تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ‘

کا اصول کسی نہ کسی انداز میں صادق آتا ہے۔

سیرتِ نبویﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ آپﷺ اپنی ہر زوجہ کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے تھے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ بہترین مومن وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو۔ 

اگر کوئی شخص یہ اعلیٰ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرے، کیونکہ آپﷺ اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے بہتر تھے۔

خوش گوار ازدواجی زندگی کے پانچ اصول
۱ شریکِ حیات کی عزتِ نفس اور جذبات کا احترام کریں۔
۲ اختلاف کے وقت بھی لہجہ نرم اور الفاظ مہذب رکھیں۔
۳ ایک دوسرے کی خوبیوں کو تسلیم کریں اور ان کا اظہار بھی کریں۔
۴ کمزوریوں پر طنز کے بجائے صبر اور حکمت سے کام لیں۔
۵ ازدواجی معاملات میں اسوۂ رسولﷺ کو اپنی رہنمائی بنائیں۔

عموماً بیوی مادی اشیا سے زیادہ ایسا شوہر چاہتی ہے جو اس کے نازک جذبات اور احساسات کا خیال رکھے۔ 

ایسا ہی شوہر اس کا محبوب بن سکتا ہے۔

ذرا تصور کیجیے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ کی زبانِ مبارک سے اپنے لیے ’آبگینہ‘ کا لفظ سن کر اپنے دل میں محبت کا کیسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر محسوس کیا ہوگا۔ سبحان اللہ!

یہی ہر مومن شوہر کے لیے پیغام ہے۔ 

نبی کریمﷺ نے عورت کو آبگینے سے تشبیہ دی تو شوہر کو بھی اس لفظ کی سچائی، اس میں چھپی نزاکت اور اس کی خوب صورتی کو محسوس کرنا چاہئے۔ 

اسے اپنی بیوی کے جذبات کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے جس طرح نبی اکرمﷺ نے محسوس کیا اور اس کا اظہار فرمایا۔

الفاظ ہی دل کی نگری کو آباد یا برباد کرتے ہیں۔ 

انہی سے دل شاد ہوتے ہیں اور انہی سے ناشاد۔ 

جو مرد اپنی بیوی کا دل فتح نہ کر سکا، وہ ساری دنیا بھی فتح کر لے تو ناکام ہے۔

حاصلِ کلام

اگر پُرسکون اور خوش گوار ازدواجی زندگی کی تمنا ہے تو دل میں اس ’’آبگینے‘‘ کو محفوظ، نگاہوں میں احترام اور زبان میں مٹھاس پیدا کرنا ہوگی۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں، بلکہ روزمرہ کے رویے، الفاظ اور باہمی احساس کا نام ہے۔

جو لوگ شادی شدہ ہیں اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی کا کچھ عرصہ گزار چکے ہیں، نیز وہ نوجوان مسلمان جو شریکِ زندگی کے خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ نبی کریمﷺ کے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ نرم رویے، خوب صورت الفاظ کے انتخاب اور نازک جذبات و احساسات کے احترام کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھیں۔

اپنے دل کی دھڑکن میں اس ارتعاش کو محسوس کریں جو اسوۂ رسولﷺ کی محبت سے پیدا ہوتا ہے۔ 

جب دل میں اسوۂ رسولﷺ سے تعلق کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو مومن جان لیتا ہے کہ:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی

اگر پُرسکون اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزارنے کی تمنا ہے تو اپنے دل میں اس ’آبگینے‘ کو محفوظ کرنا ہوگا، نگاہوں میں احترام اور زبان میں مٹھاس لانی ہوگی۔

عورت کی فطرت میں حالات کے مطابق ڈھل جانے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ 

اس فطرت کو رب کی رضا کے مطابق کیسے ڈھالنا ہے، یہ ’قوام‘ کی صلاحیت کا اصل امتحان ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے لیے مکمل اور بھرپور تیاری کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے