براہ راست نشریات

عدلِ اجتماعی—اسلامی معاشرے کی اساس

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Social Justice in Islam

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اسلام آباد

عدلِ اجتماعی اسلامی معاشرے کی بنیادی قدر ہے، جس کا مقصد ہر فرد کو اس کا حق دینا اور معاشرتی نظام کو ظلم و استحصال سے پاک کرنا ہے۔
اسلام انفرادی اصلاح کے ساتھ ایسے منصفانہ اجتماعی نظام پر زور دیتا ہے جس میں حکمران، ادارے اور شہری سب اپنی حدود اور ذمہ داریوں کے پابند ہوں۔
نظامِ صلوٰۃ و زکوٰۃ، سود کی حرمت اور ترقی کے یکساں مواقع اسلامی معاشی عدل کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اسلامی نظامِ حیات نے ایسی جامع اقدار متعارف کرائی ہیں جو نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

سیاسی نظام ہو یا اقتصادی ڈھانچہ، عبادات ہوں یا معاشرتی روایات، یہ اقدار ہر شعبۂ زندگی کی رہنمائی کرتی ہیں۔ 

انسانی زندگی کی الجھی ہوئی معاشی و معاشرتی ڈور کا سرا اگر ان اقدار کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو بہت سے پیچیدہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

عدل کا مفہوم

’عدل‘ کے معنی سیدھا کرنے، مناسب تقسیم اور توازن قائم کرنے کے ہیں۔ 

اس میں حقدار کو اس کا حق دینا بھی شامل ہے۔ 

ظلم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی فرد یا ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرے۔ 

اللہ تعالیٰ نے افراد، خاندان، آجر و اجیر اور حکمرانوں کے حقوق اور ذمہ داریاں متعین کردی ہیں۔ 

ان حدود کا احترام عدل اور انہیں توڑنا ظلم ہے۔

مضمون کے اہم نکات
  • عدل کا مطلب ہر حقدار کو اس کا حق دینا اور توازن قائم کرنا ہے۔
  • اسلام انفرادی اصلاح کے ساتھ اجتماعی نظام کی درستگی پر بھی زور دیتا ہے۔
  • قرآن ذاتی مفاد اور دشمنی سے بالاتر ہوکر انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔
  • معاشی عدل کا مقصد استحصال اور شدید معاشی تفاوت کم کرنا ہے۔
  • زکوٰۃ، سود کی حرمت اور ترقی کے منصفانہ مواقع اسلامی عدل کے ستون ہیں۔

مزید پڑھیں

انفرادی عدل

عدل کی دو بنیادی قسمیں ہیں: 

انفرادی عدل اور عدلِ اجتماعی۔ 

انفرادی عدل سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کردار میں انصاف کا دامن تھامے رکھے۔ 

انسان گھر، مسجد، دفتر، کاروبار اور بازار میں مختلف کردار ادا کرتا ہے۔ 

اگر وہ ہر مقام پر اپنے حقوق و فرائض کا خیال رکھے اور نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرے تو معاشرے کی اصلاح میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔

عدلِ اجتماعی

عدلِ اجتماعی سے مراد پورے معاشرے اور اس کے نظام میں انصاف کا قیام ہے۔ 

صرف افراد کی اصلاح کافی نہیں، کیونکہ ہر شخص کو ایک اجتماعی نظام کے تحت زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ 

نظام درست ہو تو غلط رویے کا حامل شخص بھی قانون کی پابندی پر مجبور ہوتا ہے، لیکن نظام خراب ہو تو دیانت دار فرد کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

قرآن کا حکم: ہر حال میں انصاف
امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل سے کام لو۔ النساء: 58
انصاف کے علمبردار بنو، خواہ گواہی اپنی ذات، والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ النساء: 135
کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے؛ عدل تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ المائدہ: 8

منظم ٹریفک میں ڈرائیور اشارے کی پابندی کرتے ہیں، مگر قانون شکنی کے ماحول میں ذمہ دار شخص پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ 

اسی لیے اسلام نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے ساتھ نکاح، طلاق، وراثت اور عدالت کو بھی اجتماعی نظم سے مربوط کیا ہے۔

قرآن اور عدل

قرآن مجید بار بار انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل سے کام لو۔  (النساء: 58)

اہلِ ایمان کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ انصاف کے علمبردار بنو، خواہ گواہی اپنی ذات، والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔  (النساء: 135)

معاشی عدل کیا ہے؟
معاشی عدل کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگوں کے پاس یکساں دولت ہو۔ اس کا مقصد آجر اور اجیر، مالک اور مزدور، غریب اور دولت مند کے درمیان تفاوت کم کرنا، استحصال روکنا اور ہر شخص کو تعلیم، علاج اور ترقی کے منصفانہ مواقع دینا ہے۔ اسلامی تصور: دولت کی جبری مساوات نہیں، بلکہ حقوق، مواقع اور بنیادی ضروریات کی منصفانہ فراہمی۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے، کیونکہ عدل تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔(المائدہ: 8)

اللہ تعالیٰ عدل، احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا اور بدی، بے حیائی اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔(النحل: 90) 

عدل کے ذریعے معاشرے میں باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

معاشی عدل کا اسلامی تصور

عدلِ اجتماعی کا سب سے اہم پہلو معاشی عدل ہے۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے کے تمام افراد کے پاس یکساں دولت ہو، کیونکہ لوگوں کی صلاحیتیں، ذمہ داریاں اور معاشی حالات مختلف ہوتے ہیں۔

اسلامی معاشی عدل کا مقصد دولت کا جبری مساواتی بٹوارا نہیں بلکہ آجر اور اجیر، مالک اور مزدور، غریب اور دولت مند کے درمیان تفاوت کو کم کرنا، استحصال روکنا اور ہر شخص کے لیے بنیادی ضروریات اور ترقی کے منصفانہ مواقع یقینی بنانا ہے۔ 

اسلام معیارِ زندگی بلند کرنے کی اندھی دوڑ کے بجائے معیارِ اخلاق بلند کرنے پر زور دیتا ہے۔

معاشی عدل کا عملی نقشہ

جب معاشرے کے تمام طبقات ایک ہی صف میں نماز پڑھیں، ایک ہی وقت میں روزہ رکھیں اور افطار کریں اور ایک دوسرے کے پڑوسی بن کر رہیں تو طبقاتی فاصلے کم ہوتے ہیں۔

جب غریب اور دولت مند کے لیے معیاری علاج دستیاب ہو، دونوں کے بچے ایک ہی تعلیمی ادارے میں ایک ہی بنچ پر بیٹھ سکیں اور سب کو آگے بڑھنے کے برابر مواقع حاصل ہوں تو حقیقی معاشی عدل وجود میں آتا ہے۔

اسلامی معاشی نظام کے ستون
نظامِ زکوٰۃ دولت کو معاشرے میں گردش دیتا اور کمزور طبقات کی مدد کرتا ہے۔
سود کی حرمت قرض کے ذریعے کمزور انسان کے معاشی استحصال کا راستہ روکتی ہے۔
ناجائز منافع خوری کی ممانعت ضروری اشیا کو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے سے بچاتی ہے۔
یکساں مواقع تعلیم، علاج اور ترقی کے دروازے تمام طبقات کے لیے کھولتے ہیں۔

زکوٰۃ دولت کو معاشرے میں گردش دیتی، سود کمزور طبقے کے استحصال کا راستہ کھولتا اور ناجائز منافع خوری ضروری اشیا عام آدمی کی پہنچ سے دور کردیتی ہے۔ 

اسی لیے اسلام زکوٰۃ کو قائم، سود کو حرام اور ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

معاشی عدلِ اجتماعی کا بہترین عملی نمونہ دورِ خلافتِ راشدہ میں نظر آتا ہے، جب حکمران خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے اور ریاست کمزور طبقات کی کفالت کو اپنی ذمہ داری قرار دیتی تھی۔

ایک منصفانہ اسلامی معاشرے میں تمام طبقات مل کر استحصال کا خاتمہ کرتے ہیں۔ 

جس معاشرے میں سود، ناجائز منافع خوری اور معیارِ زندگی کی اندھی دوڑ نہ ہو اور نظامِ صلوٰۃ و زکوٰۃ قائم ہو، وہاں معاشی عدلِ اجتماعی کی مضبوط بنیاد کیوں قائم نہ ہوگی؟

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے