اُمتِ مسلمہ کی زبوں حالی: غیروں کی ستم کاریاں اور اپنوں کی بد اعمالیاں
غلام ربانی فدا
نئی دہلی
دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان جنگ، غربت، بے گھری اور سیاسی انتشار کا سامنا کر رہے ہیں۔
مضمون میں اُمتِ مسلمہ کے زوال کے دو بنیادی اسباب—غیروں کی ستم کاریوں اور اپنوں کی بداعمالیوں—کا جائزہ لیتے ہوئے قرآن و سنت، اتحاد، علم اور مضبوط کردار کی طرف واپسی کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔
آج ایشیا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا امریکہ، دنیا کے تقریباً ہر خطے میں اُمتِ مسلمہ مشکلات، انتشار اور بے بسی کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔
جب اس بگڑتی صورتِ حال کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو دو بنیادی عوامل نمایاں دکھائی دیتے ہیں:
ایک غیروں کی ستم کاریاں اور دوسرا اپنوں کی بداعمالیاں۔
یہی دونوں اسباب مل کر اس قوم کو کمزور کر رہے ہیں جو کبھی انسانیت کی رہنمائی اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئی تھی۔
مسلم دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو کہیں جنگ ہے، کہیں بدامنی، کہیں غربت اور کہیں سیاسی انتشار۔
عراق، افغانستان اور فلسطین سمیت متعدد مسلم خطوں نے طویل عرصے تک تباہی، بے گھری اور انسانی المیوں کا سامنا کیا۔
آبادیاں ویران ہوئیں، خاندان اجڑ گئے اور لاکھوں انسان اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہوئے۔
بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
مسلم ممالک کے وسائل بھی کئی مرتبہ بیرونی طاقتوں کے مفادات اور جنگی تجربات کے لیے استعمال کیے گئے۔
مزید پڑھیں
فلسطین آج بھی ظلم و جبر کی ایک دردناک تصویر پیش کر رہا ہے۔
بچے، بوڑھے، مرد اور خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ گھروں، اسپتالوں اور بنیادی سہولتوں کی تباہی نے پورے معاشرے کو ایک مسلسل انسانی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔
قبلۂ اوّل کے گرد بڑھتے خطرات ہر صاحبِ ایمان کو بے چین کرتے ہیں، لیکن مسلم دنیا کا اجتماعی ردعمل اب بھی اس قوت اور اتحاد سے
محروم ہے جس کی موجودہ حالات میں ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظلم کا پنجہ مروڑنے اور مظلوموں کی مدد کرنے والے کہاں چلے گئے؟
ہمارے اسلاف کا مقصدِ حیات مظلوموں کی داد رسی اور ظالموں کی سرکوبی تھا۔
ظلم ہندوستان میں ہوتا یا سندھ میں، افغانستان میں ہوتا یا عربستان میں، مسلمان ایک دوسرے کا دکھ محسوس کرتے تھے۔
وہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود باہمی اتحاد، مضبوط کردار اور ایمان کی بدولت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے تھے۔
چار اہم نکات
- مسلم دنیا کی کمزوری کا سبب صرف بیرونی سازشیں نہیں، اندرونی اختلافات بھی ہیں۔
- فلسطین سمیت مختلف مسلم خطے جنگ، بے گھری اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
- اسلافِ اُمت اتحاد، مضبوط کردار اور مظلوموں کی حمایت کی وجہ سے ممتاز تھے۔
- موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے علم، انصاف، خود احتسابی اور اتحاد ناگزیر ہیں۔
ظلم کرنا ہمارا پیشہ نہیں تھا، ظلم سہنا ہمارا وطیرہ نہیں تھا اور ظالم کے سامنے جھک جانا ہمارا شیوہ نہیں تھا۔
حلم ہمارا اوڑھنا، صبر ہمارا بچھونا، تقدس ہمارا کمال اور تدبر و تفکر ہمارا جمال تھا۔
ہمارا کردار نشانِ منزل اور ہماری سیرت دوسروں کے لیے بہترین رہنما ہوا کرتی تھی۔ ہم اس فرمانِ الٰہی کی عملی تعبیر تھے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ
مگر جب ہمارا کردار بدلا تو ہماری تقدیر بھی بدل گئی۔
کبھی اقوامِ عالم ہمیں قائد اور رہنما سمجھتی تھیں، لیکن آج ہماری کمزوریوں، باہمی اختلافات اور بداعمالیوں کے باعث ہمیں مسائل کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔
مسلم، مسلم سے بیگانہ ہو چکا ہے، اتحاد و اتفاق ناپید اور اخلاقِ نبویؐ فراموش ہوتے جا رہے ہیں۔
ذاتی مفادات، فرقہ واریت، سیاسی کشمکش اور باہمی دشمنیوں نے ہماری اجتماعی قوت کو تقسیم کر دیا ہے۔
ایک منٹ میں مضمون
مسلمان کبھی علم، عدل، اتحاد اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے دنیا کی رہنمائی کرتے تھے، مگر باہمی اختلافات اور عملی کمزوریوں نے ان کی اجتماعی قوت کو نقصان پہنچایا۔ آج بیرونی مظالم کے ساتھ اندرونی بداعمالیاں بھی زوال کا اہم سبب ہیں۔ نجات کا راستہ اپنی غلطیوں کے اعتراف، قرآن و سنت کی پیروی، علم کے فروغ، انصاف کے قیام اور اتحادِ اُمت میں پوشیدہ ہے۔
بقول علامہ اقبالؔ:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
موجودہ حالات میں نجات کی راہ یہ ہے کہ ہم صرف بیرونی سازشوں کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں بلکہ اپنی کمزوریوں، بداعمالیوں اور باہمی اختلافات کا بھی دیانت داری سے جائزہ لیں۔
قرآن و سنت کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنائیں، علم و تحقیق کو فروغ دیں، انصاف قائم کریں اور اتحادِ اُمت کو ذاتی و سیاسی مفادات پر مقدم رکھیں۔
ہمیں اپنے اوراقِ ماضی کی ورق گردانی، اسلافِ کرام کی تاریخ کا مطالعہ اور ان کے بہترین کردار کی پیروی کرنا ہوگی۔
تاریخ سے سبق سیکھنے والی قومیں ہی اپنا مستقبل محفوظ کرتی ہیں۔
بقول شمس گھوسوی:
اپنی تاریخ کو جو قوم بھلا دیتی ہے
صفحۂ دہر سے وہ خود کو مٹا دیتی ہے۔