ربیع الاول کا
حقیقی تقاضا
سیرتِ رسولﷺ
کو عملی زندگی
میں اپنانا ہے
پوری انسانیت کے لیے پیغام
حضرت محمدﷺ بھٹکی ہوئی انسانیت کو فلاح اور کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے ایسا دستورِ زندگی لے کر تشریف لائے جو ہر قوم، ہر ملک اور ہر زمانے کے لوگوں کے لیے نسخۂ کیمیا ہے۔
اس دستور میں کالے اور گورے، عربی اور عجمی، امیر اور غریب، بادشاہ اور فقیر کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا۔
آپﷺ کی تعلیمات میں انسان کی عزت کا معیار اس کا رنگ، نسل، قوم، زبان، دولت یا خاندانی حیثیت نہیں، بلکہ اس کا تقویٰ، کردار اور عمل ہے۔ کرۂ ارض پر جہاں کہیں بھی انسان آباد ہیں، پیغامِ محمدیﷺ سب کے لیے یکساں طور پر ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے۔
رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے میں انسانی مساوات کا عظیم منشور پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’اے لوگو! خبردار ہوجاؤ، تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ آدم علیہ السلام بھی ایک ہے۔
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، نہ کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ کسی سیاہ فام کو سفید فام پر، سوائے تقویٰ کے‘۔
آپﷺ نے مزید ارشاد فرمایا:
اَلنَّاسُ کُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ
یعنی تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔
یہ اعلان محض ایک خطاب نہیں، بلکہ انسانی مساوات کا دائمی منشور ہے۔
اسلام نے ذات پات، رنگ، نسل، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت کی بنیاد پر قائم تمام تعصبات کو مسترد کرتے ہوئے انسانوں کو برابر قرار دیا۔
عزت کا معیار صرف تقویٰ
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔
بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘۔ (سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قوموں اور قبیلوں کی تقسیم کا مقصد باہمی شناخت ہے، نہ کہ فخر، برتری یا دوسروں کی تحقیر۔
پیدائش کے اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں۔
کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی مخصوص خاندان، نسل، قوم یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔
اسلامی مساوات کا سب سے خوب صورت منظر حج کے موقع پر دکھائی دیتا ہے، جب دنیا کے مختلف ملکوں، قوموں، نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس میں، ایک ہی رب کے حضور اور ایک ہی مقام پر حاضر ہوتے ہیں۔
وہاں بادشاہ اور عام آدمی، دولت مند اور غریب کے درمیان کوئی ظاہری فرق باقی نہیں رہتا۔
آج کی دنیا کے لیے سیرت کا سبق
افسوس کہ آج ترقی اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود دنیا میں نسلی، قومی اور معاشی تعصبات مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔
طاقتور ممالک کمزور اور غریب قوموں کو ظلم اور استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔
حالانکہ جس طرح طاقتور ممالک کے باشندوں کی جان قیمتی ہے، اسی طرح فلسطین، افغانستان، افریقہ اور دنیا کے دوسرے خطوں میں رہنے والے انسانوں کی جان، عزت اور آزادی بھی قابلِ احترام ہے۔
محسنِ کائنات حضرت محمدﷺ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے امن، عدل اور مساوات کا پیغام ہے۔
اس میں مرد و عورت، بوڑھے اور جوان، حاکم اور محکوم، امیر اور غریب—سب کے حقوق محفوظ ہیں۔
ربیع الاول ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ سے اپنی محبت کو عملی کردار میں تبدیل کریں۔
اپنے معاملات میں عدل، اپنے رویوں میں نرمی اور دوسرے انسانوں کے لیے احترام پیدا کریں۔ یہی پیغامِ محمدی ﷺ کی حقیقی روح اور سیرتِ طیبہ سے سچی وابستگی ہے۔