بھارت نے جولائی 2026 میں روس سے یومیہ 24 لاکھ 70 ہزار بیرل خام تیل درآمد کیا۔
رعایتی قیمت اور خلیجی سمندری راستوں کو لاحق خطرات نے روس کو بھارتی منڈی میں ریکارڈ برتری دلائی، تاہم امریکی محصولات کا خدشہ بھارت کو دوبارہ سعودی عرب، امارات اور عراق کی جانب لے جاسکتا ہے۔
اس تبدیلی کے اثرات پاکستان کی تیل قیمتوں، درآمدی اخراجات اور توانائی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔
بھارت کے لیے تیل اب محض ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی، مہنگائی اور خارجہ تعلقات سنبھالنے کا اہم ذریعہ ہے۔
جولائی 2026 میں روس نے دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کنندہ کو ملنے والے خام تیل میں نصف سے زیادہ حصہ حاصل کر لیا۔
رائٹرز کے مطابق بھارتی ریفائنریوں نے جولائی میں روس سے یومیہ 24 لاکھ 70 ہزار بیرل تیل درآمد کیا، جو مجموعی درآمدات کا ریکارڈ 50.83 فیصد ہے۔
یہ مقدار گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 62.4 فیصد زیادہ، تاہم جون کے ریکارڈ 26 لاکھ بیرل یومیہ سے 4.8 فیصد کم تھی۔
بھارت روسی تیل کی جانب کیوں بڑھا؟
بھارت اپنی 90 فیصد سے زیادہ تیل ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے۔
روس یوکرین جنگ کے بعد اس نے ماسکو کے رعایتی خام تیل سے فائدہ اٹھایا، لیکن حالیہ اضافہ صرف کم قیمت کا نتیجہ نہیں۔
مزید پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور باب المندب کے خطرات نے بھارتی ریفائنریوں کو محفوظ متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
بعض ٹینڈرز میں سپلائرز کو ہرمز اور بحیرۂ احمر سے گریز کی ہدایت دی گئی۔
روسی تیل ان حساس راستوں کے بغیر پہنچ سکتا ہے، یوں بھارت کو
رعایتی قیمت، بڑی مقدار اور نسبتاً محفوظ ترسیل مل رہی ہے۔
خلیج کا حصہ کیوں گھٹا؟
اپریل سے جولائی 2026 کے دوران بھارتی درآمدات میں روس کا حصہ گزشتہ سال کے 37 فیصد سے بڑھ کر 43.25 فیصد ہوگیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کا حصہ 43 سے گھٹ کر 30 فیصد رہ گیا۔ یعنی سعودی عرب، عراق، امارات اور کویت نے مختصر مدت میں اہم مارکیٹ شیئر کھویا۔
تاہم یہ خلیجی تیل سے مستقل علیحدگی نہیں۔
سعودی عرب اور امارات کو قربت، وسیع پیداوار، طویل معاہدوں اور گہرے تجارتی تعلقات کا فائدہ حاصل ہے۔
کئی بھارتی ریفائنریاں خلیجی خام تیل کے لیے بنائی گئی ہیں۔
⏱️ایک منٹ میں کہانی⌄
جولائی 2026 میں روس نے بھارت کی خام تیل درآمدات کا ریکارڈ 50.83 فیصد حصہ حاصل کرلیا۔ رعایتی قیمت اور خلیجی سمندری راستوں کے خطرات نے ماسکو کو برتری دی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کا حصہ 43 سے گھٹ کر 30 فیصد رہ گیا۔ امریکی دباؤ صورتحال بدل سکتا ہے اور اس کے اثرات پاکستان کی توانائی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے جولائی میں تقریباً 4 لاکھ 64 ہزار بیرل یومیہ فراہم کیے اور اس کا حصہ 7 سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگیا۔
اس لیے موجودہ کمی مستقل شکست کے بجائے جنگ اور نقل و حمل کے خطرات سے بھی جڑی ہے۔
خام تیل سے تیار ایندھن تک بھارتی منافع
بھارت کے بڑے ریفائننگ نظام میں روسی خام تیل کو ڈیزل، پٹرول اور طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کرکے ایشیا، افریقہ اور مغرب کو فروخت کیا جاتا ہے۔
یوں وہ سستا خام مال خرید کر تیار مصنوعات عالمی نرخوں پر بیچتا ہے۔
جولائی میں بھارت، ترکی اور چند دیگر ملکوں کی روسی خام تیل استعمال کرنے والی ریفائنریوں نے پابندیاں عائد کرنے والے ملکوں کو 63 کروڑ 30 لاکھ یورو کی مصنوعات برآمد کیں۔
توانائی و صاف ہوا تحقیقی مرکز کے مطابق ان میں تقریباً 28 کروڑ 40 لاکھ یورو کی مصنوعات روسی تیل سے تیار ہوئی تھیں۔
📊رپورٹ کے اہم اعداد⌄
- روس سے درآمد: 24 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ
- بھارتی درآمدات میں روس کا حصہ: 50.83 فیصد
- سالانہ اضافہ: 62.4 فیصد
- مشرقِ وسطیٰ کا حصہ: 43 سے 30 فیصد
- لاطینی امریکا کا حصہ: 3.5 سے 12.7 فیصد
یہ منافع اب محفوظ نہیں۔
یورپی یونین نے تیسرے ملک میں روسی تیل سے بنی مصنوعات محدود کردی ہیں۔
بھارتی ریفائنریوں کو مغربی منڈیوں کے ایندھن میں استعمال شدہ خام تیل کا ذریعہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔
امریکی دباؤ اور نئے سپلائرز
امریکی سینیٹ نے ایسے مسودے کی منظوری دی ہے جو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ملکوں کی مصنوعات پر 100 فیصد تک محصولات کی اجازت دیتا ہے۔
یہ ابھی نافذ قانون نہیں، لیکن بھارت کے لیے بڑا خطرہ ہے کیونکہ امریکا اس کی اہم برآمدی منڈی ہے۔
اگر محصولات کی لاگت روسی رعایت سے بڑھ گئی تو بھارتی ریفائنریاں سعودی عرب، امارات اور عراق کی جانب دوبارہ رجوع کرسکتی ہیں۔
🛢️خلیج کا حصہ کیوں گھٹا؟⌄
روسی خام تیل کی رعایتی قیمت، بڑی مقدار اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر سے بچنے والے راستوں نے بھارت کو متبادل دیا۔ تاہم یہ خلیجی تیل سے مستقل علیحدگی نہیں؛ سعودی عرب اور امارات کو قربت، طویل معاہدوں اور وسیع پیداواری صلاحیت کا فائدہ حاصل ہے۔ سعودی حصہ جولائی میں تقریباً 10 فیصد تک واپس آیا۔
مشرقِ وسطیٰ کا پورا حصہ روس نے نہیں لیا۔
لاطینی امریکا کی شراکت 3.5 سے بڑھ کر 12.7 فیصد ہوگئی۔
نئی دہلی متنوع سپلائرز کے ذریعے بہتر قیمت اور علاقائی رکاوٹوں سے تحفظ چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا مطلب
پاکستان زیادہ کمزور مقام پر ہے۔
وہ سعودی و اماراتی سپلائی اور آبنائے ہرمز سے منسلک راستوں پر انحصار کرتا ہے۔
2026 کے بحران میں حکومت کو پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنا پڑا، جس سے مہنگائی بڑھی۔
بھارتی طلب کم ہونے سے کچھ خلیجی تیل دوسرے خریداروں کو مل سکتا اور اسلام آباد کو بہتر شرائط حاصل ہوسکتی ہیں۔
بھارتی ڈیزل اور پٹرول برآمدات بڑھنے سے علاقائی قلت بھی کم ہوسکتی ہے۔
🏭بھارت منافع کیسے کما رہا ہے؟⌄
بھارتی ریفائنریاں سستا روسی خام تیل خرید کر اسے ڈیزل، پٹرول اور طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کرتی اور تیار مصنوعات عالمی نرخوں پر فروخت کرتی ہیں۔
جولائی میں روسی تیل استعمال کرنے والی مختلف ریفائنریوں نے پابندیاں عائد کرنے والے ملکوں کو 63 کروڑ 30 لاکھ یورو کی پٹرولیم مصنوعات برآمد کیں، لیکن یورپی قواعد اس کاروبار کو محدود کرسکتے ہیں۔
اگر امریکی دباؤ بھارت کو روسی تیل چھوڑنے پر مجبور کرے تو نئی دہلی خلیجی بازار میں واپس آئے گا۔
پاکستان کو کہیں زیادہ مالی طاقت رکھنے والے خریدار سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
محدود ریفائنری صلاحیت، ادائیگی کے مسائل، کم زرمبادلہ اور پابندیاں اسے بھارتی تجربہ دہرانے سے روکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے فوری سبق یہ ہے کہ صرف سستا تیل تلاش کرنا کافی نہیں۔
اسے جدید ریفائنری صلاحیت، زیادہ اسٹریٹجک ذخائر، مختلف ملکوں سے طویل مدتی معاہدوں اور محفوظ ادائیگی کے نظام پر کام کرنا ہوگا۔
سعودی عرب اور امارات کے ساتھ مؤخر ادائیگی کی سہولت اہم رہ سکتی ہے، لیکن روس، وسطی ایشیا اور دیگر منڈیوں تک رسائی بھی ضروری ہے، تاکہ اگلی علاقائی کشیدگی پوری معیشت کو دوبارہ ایندھن کے شدید جھٹکے سے دوچار نہ کردے۔
آگے کے 3 امکانات
پہلے منظرنامے میں روسی برتری اس وقت تک جاری رہے گی جب تک رعایتیں پرکشش اور خلیجی راستے خطرے میں رہتے ہیں۔
دوسرے میں امریکی دباؤ بھارت کو روسی خریداری کم کرنے پر مجبور کرے گا اور سعودی عرب، امارات و عراق اپنا حصہ واپس حاصل کریں گے۔
🇵🇰پاکستان پر کیا اثر ہوگا؟⌄
- بھارتی طلب کم رہنے سے پاکستان کو کچھ خلیجی تیل بہتر شرائط پر مل سکتا ہے۔
- بھارتی ڈیزل اور پٹرول کی برآمدات علاقائی قلت کم کرسکتی ہیں۔
- بھارت روسی تیل چھوڑ دے تو خلیجی منڈی میں مقابلہ سخت ہوگا۔
- پاکستان کو جدید ریفائنری، اسٹریٹجک ذخائر اور متنوع سپلائرز درکار ہیں۔
زیادہ ممکن تیسرا منظرنامہ ہے، جس میں بھارت روسی رعایتی تیل، مستحکم خلیجی سپلائی اور امریکا و لاطینی امریکا کی اضافی کھیپوں پر مشتمل متنوع نظام برقرار رکھے گا۔
روس کا 50.83 فیصد حصہ خلیجی پروڈیوسروں کے لیے انتباہ ہے، مستقل شکست نہیں۔
اب قیمت، پابندیاں، محفوظ راستے اور فوری متبادل فیصلہ کن ہیں۔
بھارت مقابلے سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ پاکستان مہنگائی اور زرمبادلہ کے دباؤ کی صورت میں قیمت ادا کرسکتا ہے۔
تیل بردار ہر جہاز کا بدلا راستہ کسی ملک کا منافع، بجٹ اور اتحاد بدل سکتا ہے۔