سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اب صرف تیل، سیاحت، کھیل یا روایتی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہا۔
مزید پڑھیں
اس کے سرمایہ کاری نقشے پر اب ایلون مسک کی اسپیس ایکس بھی نمایاں ہوچکی ہے، جس نے سعودی سرمایہ کاری حکمت عملی کو ایک نئی اور غیر معمولی سمت دے دی ہے۔
تازہ 13F رپورٹ کے مطابق 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد حجم رکھنے والے فنڈ نے اسپیس ایکس کے تقریباً 15 کروڑ 41 لاکھ کلاس اے حصص اپنے پورٹ فولیو میں شامل کیے ہیں۔
رپورٹ میں ان حصص کی مالیت تقریباً 26.38 ارب ڈالر ظاہر کی گئی ہے۔
🚀
سعودی عرب کو کیا ملے گا؟
اسٹریٹجک فوائد
+
سعودی عرب کو کیا ملے گا؟
اسٹار لنک اور کمرشل اسپیس فلائٹ کی اجارہ دار کمپنی میں شراکت سے خطے میں جدید مواصلات، ریموٹ سینسنگ اور خلائی دفاعی تحقیق تک بلاواسطہ رسائی کا امکان پیدا ہوگا۔
xAI میں 3 ارب ڈالر اور اب اسپیس ایکس کی بدولت سعودی فنڈ مسک کے ہارڈویئر اور اے آئی انفراسٹرکچر کا کلیدی شراکت دار بن کر جدید ترین ایجادات کی صف اول میں شامل ہوچکا ہے۔
135 ڈالر کی ابتدائی لسٹنگ سے لے کر مارکیٹ کی اونچی سطح تک، نیس ڈیک پر خلائی انڈسٹری کی سب سے بڑی کمپنی کے کلاس اے شیئرز فنڈ کے اثاثوں کو مضبوط کیپیٹل تحفظ دیتے ہیں۔
1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد حجم کا فنڈ گیمنگ، ای وی، اے آئی اور اب ایرواسپیس کو ملا کر عالمی اثاثہ جاتی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔
چند ماہ میں تصویر کیسے بدلی؟
یہ پیش رفت اچانک سامنے نہیں آئی۔ اپریل میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ اسپیس ایکس اور سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے درمیان کمپنی کی متوقع اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی اینکر سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی تھی۔
اُس وقت فنڈ کا موجودہ حصہ ایک فیصد سے کچھ کم بتایا گیا تھا۔ بعد ازاں جون میں خلیجی سرمایہ کاروں کی دلچسپی مزید واضح ہوگئی۔
تیل سے خلا تک: سعودی سرمایہ کاری کا نیا سفر
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں میں اربوں ڈالر جھونک دیے
سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے پورٹ فولیو کو مستقبل کی صنعتوں سے جوڑ دیا ہے۔
سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے اسپیس ایکس کے کروڑوں حصص اپنے نام کیے جن کی مجموعی مالیاتی قدر اربوں ڈالر میں بنتی ہے۔
سعودی فنڈ نے مسک کی قائم کردہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی میں بھی اربوں ڈالر کی سٹریٹجک فنڈنگ شامل کر رکھی ہے۔
روایتی شعبوں سے نکل کر جدید اختراعات میں سرمایہ کاری کرنے والے اس سعودی خودمختار دولت فنڈ کا مجموعی مالیاتی حجم دنیا کے سرفہرست فنڈز میں شامل ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
رپورٹس کے مطابق سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی نے اسپیس ایکس کے آئی پی او میں ایک سے 5 ارب ڈالر تک کے حصص خریدنے کے آرڈرز دیے تھے۔
13F انکشاف
فیکٹ باکس: اسپیس ایکس میں سعودی سرمایہ کاری کتنی بڑی ہے؟
▼
فیکٹ باکس: اسپیس ایکس میں سعودی سرمایہ کاری کتنی بڑی ہے؟
اسپیس ایکس شیئرز کی کل مالیت
حاصل کردہ کلاس اے حصص کی تعداد
آئی پی او قیمت اور پہلے دن کا اختتام
سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کا کل حجم
تاریخی آئی پی او، قیمت میں اتار چڑھاؤ
اسپیس ایکس نے 12 جون کو 135 ڈالر فی شیئر کے حساب سے نیس ڈیک پر قدم رکھا اور پہلے کاروباری دن 160.95 ڈالر پر بند ہوا۔
سعودی عرب کی کنگڈم ہولڈنگ کے سرکاری انکشاف سے بھی اس قیمت اور لسٹنگ کی تصدیق ہوتی ہے۔
اس کے بعد اگست تک منظر کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔
سعودی سرمایہ آخر کہاں جارہا ہے؟
امریکی پورٹ فولیو تجزیہ ▾
سعودی سرمایہ آخر کہاں جارہا ہے؟
رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس کا شیئر 141.29 ڈالر تک آیا، تاہم بڑی عالمی سرمایہ کاری کمپنیوں کی دلچسپی برقرار رہی اور سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ تقریباً 15 کروڑ 41 لاکھ حصص کے ساتھ نمایاں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں میں شامل ہوگیا۔
صرف اسپیس ایکس نہیں، پورا پورٹ فولیو اہم
اقتصادی ماہرین کے مطابق سعودی فنڈ کا امریکی کمپنیوں میں سرمایہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔
⚡
اسپیس ایکس کی اصل طاقت کیا ہے؟
◀
اسپیس ایکس کی اصل طاقت کیا ہے؟
فالکن 9 اور اسٹارشپ کے ذریعے خلائی پروازوں کی لاگت کو تاریخ کی کم ترین سطح پر لا کر عالمی لانچ مارکیٹ پر مکمل اجارہ داری قائم کی۔
ہزاروں لو-ارتھ آربٹ سیٹلائٹس کا جھرمٹ جو دنیا بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر کے روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقد کیش فلو پیدا کر رہا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا اور پینٹاگون کے اربوں ڈالر مالیت کے مشنز اور سیکیورٹی پے لوڈز کا بنیادی اور سب سے قابلِ اعتماد پارٹنر۔
فراہم کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس Claritev کے 12 لاکھ 80 ہزار، Electronic Arts کے 2 کروڑ 48 لاکھ، Lucid Group کے 17 کروڑ 71 لاکھ اور Uber Technologies کے 7 کروڑ 28 لاکھ حصص بھی موجود رہے۔
اصل خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فنڈ نے حال ہی میں Electronic Arts کے تمام حصص حاصل کیے ہیں۔
یوں اسپیس ایکس کی سرمایہ کاری ایک الگ تھلگ سودا نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور مستقبل کی صنعتوں میں سعودی سرمایہ بڑھانے کے بڑے رجحان کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
🔭
خلا، اے آئی اور ٹیکنالوجی — سعودی عرب کا اگلا بڑا کھیل
مستقبل کا روڈ میپ
✦
خلا، اے آئی اور ٹیکنالوجی — سعودی عرب کا اگلا بڑا کھیل
پیٹرو ڈالر کا ڈیپ ٹیک میں تبادلہ
تیل کی آمدنی کو روایتی رئیل اسٹیٹ یا اسٹاکس کے بجائے دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش فرانٹیر ٹیکنالوجیز (خلائی تحقیق اور جنریٹو اے آئی) میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کے اداروں سے کثیر الجہتی ہم آہنگی
PIF کے ذیلی ادارے HUMAIN کے ذریعے xAI میں 3 ارب ڈالر اور اب اسپیس ایکس میں 26 ارب ڈالر سے زائد کے شیئرز کا حصول مسک ایکو سسٹم میں غیر معمولی رسوخ کی علامت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا گلوبل ٹیک پاور ہاؤس بننا
یہ سرمایہ کاری صرف مالیاتی اثاثہ نہیں بلکہ خطے میں ہائی ٹیک ڈیٹا سینٹرز، خلائی تحقیق اور خودمختار کمپیوٹیشنل طاقت قائم کرنے کی طویل مدتی پیش رفت کا اہم جزو ہے۔
خلا، اے آئی اور سعودی حکمت عملی
اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو مسک کی مختلف کمپنیوں اور سعودی سرمایے کے بڑھتے رابطے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق PIF سے وابستہ HUMAIN نے مسک کی xAI میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اسپیس ایکس میں 26 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی موجودگی محض خلائی کمپنی کے حصص خریدنے کی کہانی نہیں۔ یہ اس عالمی دوڑ کی جھلک بھی ہے جس میں خلیجی سرمایہ تیل کی آمدنی کو مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور مستقبل کی بڑی کمپنیوں سے جوڑ رہا ہے۔