سعودی-کینیڈا تعلقات کی نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ایک ارب ڈالر مالیت کے 13 اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ پیش رفت کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر سامنے آئی ہے۔
توانائی اور معدنیات
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے سعودی-کینیڈا انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ کار توانائی اور کان کنی کے شعبوں تک وسیع ہوگا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر معدنیات کے شعبے میں شراکت داروں کی ضرورت پر زور دیا۔ کارنی کا کہنا تھا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت میں آنے والی تبدیلیاں انتہائی متاثر کن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں سعودی قیادت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کینیڈا اس متحرک معاشی سفر میں ایک اہم شراکت دار بننے کا خواہاں ہے۔
بڑے منصوبے اور تجارتی شراکت داری
اس دورے کے دوران انفرا اسٹرکچر، کان کنی اور صنعت کے شعبوں میں بڑے معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی۔
سمجھوتے کے تحت رائل کمیشن فار ریاض سٹی 440 ملین ڈالر کے 2 معاہدوں پر دستخط کرے گا، جبکہ سعودی کمپنی ’معادن‘ اور کینیڈین فرم ’ہیچ‘ کے درمیان 700 ملین ڈالر کی پارٹنرشپ قائم ہوگی۔
اس موقع پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بھی کینیڈین وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔
اس نشست میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع اور دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی کینیڈا اسٹریٹجک شراکت داری
توانائی، کان کنی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط
کینیڈین کمپنیوں کی دلچسپی اور سعودی مارکیٹ
ملک میں جاری معاشی سرگرمیوں کے پیش نظر 30 سے زائد بڑی کینیڈین کمپنیاں اس فورم میں شریک ہیں۔
یہ کمپنیاں سعودی عرب میں ہونے والے بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبوں، خاص طور پر ورلڈ کپ 2034 اور ایکسپو 2030 کے لیے تیار کیے جانے والے میگا پروجیکٹس میں حصہ لینے کی خواہشمند ہیں۔
سعودی مارکیٹ کینیڈا کے لیے ایک اہم معاشی مرکز بن چکی ہے۔ اس وقت سعودی مالیاتی اور انشورنس کے شعبوں میں کینیڈا کی سرمایہ کاری 177 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی اسٹاک مارکیٹ کی قدر 2.35 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
صنعتی اہداف اور معدنی دولت
صنعتی شعبے میں کینیڈا کا سرمایہ 2.148 بلین ریال تک پہنچ چکا ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً 13 ہزار فیکٹریاں فعال ہیں، جبکہ حکومت کا ہدف 2035 تک صنعتی پیداوار کو 380 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ ضروری ہے۔
مملکت میں معدنیات کی دولت کا تخمینہ 2.5 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے، جہاں 50 سے زائد اقسام کے معدنیات دریافت ہوئی ہیں۔
کینیڈین کمپنی ’ایوانہو الیکٹرک‘ پہلے ہی سعودی عرب میں معدنی منصوبوں میں کام شروع کر چکی ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کی ایک ٹھوس مثال ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور کینیڈا کے مابین یہ حالیہ معاہدے محض ایک تجارتی پیش رفت نہیں، بلکہ وژن 2030 کے تحت مملکت کی عالمی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا عکاس ہیں۔
معدنیات اور توانائی میں کینیڈا کی مہارت اور سعودی عرب کے وسیع وسائل کا امتزاج دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گا۔