براہ راست نشریات

ترسیلات کا نیا ریکارڈ؟ پاکستان 43 ارب ڈالر کی منزل کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان ترسیلات زر 2026

نئے مالی سال کے پہلے مہینے میں پاکستان کی ترسیلاتِ زر سالانہ بنیاد پر 13 فیصد بڑھ کر 3.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔ جولائی کی رفتار پورا سال برقرار رہی تو مجموعی ترسیلات تقریباً 43.2 ارب ڈالر کا نیا ریکارڈ قائم کرسکتی ہیں۔ سعودی عرب سے آنے والی رقم بھی سالانہ 11 ارب ڈالر کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی معیشت کو نئے مالی سال کے آغاز ہی میں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کی جانب سے مضبوط سہارا ملا ہے۔ 

جولائی 2026 کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 13 فیصد اور جون 2026 کے مقابلے میں 4.5 فیصد زیادہ ہیں۔

جولائی کی یہی رفتار باقی 11 ماہ بھی برقرار رہی تو مالی سال 2026-27 کے اختتام تک پاکستان کی سالانہ ترسیلات تقریباً 43.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ 

یہ گزشتہ مالی سال میں موصول ہونے والے ریکارڈ 41.585 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوں گی۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT ترسیلاتِ زر کا نیا ریکارڈ — اہم نکات
  • جولائی 2026 میں پاکستان کو مجموعی طور پر 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
  • ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔
  • سعودی عرب 913.9 ملین ڈالر کے ساتھ پاکستان کی ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
  • جولائی میں پاکستان کو ملنے والے ہر 100 ڈالر میں سے تقریباً 25 ڈالر سعودی عرب سے آئے۔
  • !43.2 ارب ڈالر کا سالانہ ہندسہ موجودہ رفتار پر مبنی حسابی منظرنامہ ہے، سرکاری پیش گوئی نہیں۔
overseaspost.net

تاہم 43.2 ارب ڈالر کا ہندسہ کسی سرکاری ادارے کی پیش گوئی نہیں بلکہ جولائی کی موجودہ رفتار کو بارہ ماہ تک پھیلانے سے حاصل ہونے والا ایک حسابی منظرنامہ ہے۔ 

ترسیلات میں عید، تعطیلات، شرحِ مبادلہ، روزگار اور عالمی معاشی حالات کے باعث ہر ماہ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔

مزید پڑھیں

سعودی عرب سے ہر 4 میں تقریباً ایک ڈالر

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی 2026 میں سب سے زیادہ 913.9 ملین ڈالر سعودی عرب سے موصول ہوئے۔ اس طرح پاکستان کی مجموعی ماہانہ ترسیلات میں سعودی عرب کا حصہ تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔

سادہ الفاظ میں جولائی کے دوران پاکستان کو بیرونِ ملک سے موصول 

ہونے والے ہر 100 ڈالر میں سے تقریباً 25 ڈالر سعودی عرب سے آئے۔

سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات سے 737.3 ملین ڈالر، برطانیہ سے 555.5 ملین ڈالر اور امریکا سے 317.2 ملین ڈالر پاکستان منتقل کیے گئے۔

ملک ترسیلات
سعودی عرب913.9 ملین ڈالر
متحدہ عرب امارات737.3 ملین ڈالر
برطانیہ555.5 ملین ڈالر
امریکا317.2 ملین ڈالر
پاکستان کی مجموعی ترسیلاتتقریباً 3.6 ارب ڈالر

ان 4 ممالک سے آنے والی رقم پاکستان کی مجموعی ترسیلات کے تقریباً 70 فیصد کے مساوی ہے۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا ترسیلاتی نظام بڑی حد تک خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا میں مقیم پاکستانی افرادی قوت پر منحصر ہے۔

سعودی عرب سے ترسیلات میں 11 فیصد اضافہ

جولائی 2025 میں سعودی عرب سے پاکستان کو 823.7 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ جولائی 2026 میں یہ رقم بڑھ کر 913.9 ملین ڈالر ہوگئی۔

یوں ایک سال میں سعودی عرب سے آنے والی ماہانہ ترسیلات میں تقریباً 90 ملین ڈالر یا 11 فیصد اضافہ ہوا۔

i OVERSEAS POST | FACT BOX جولائی 2026 کی ترسیلات: فیکٹ باکس
زیرِ جائزہ مدت
جولائی 2026 — مالی سال 2026-27 کا پہلا مہینہ
مجموعی ترسیلات
3.6 ارب ڈالر
سالانہ اضافہ
13 فیصد
ماہانہ اضافہ
4.5 فیصد
سعودی عرب
913.9 ملین ڈالر
متحدہ عرب امارات
737.3 ملین ڈالر
برطانیہ
555.5 ملین ڈالر
امریکا
317.2 ملین ڈالر
موجودہ رفتار کا سالانہ منظرنامہ
مجموعی طور پر 43.2 ارب ڈالر؛ سعودی عرب سے تقریباً 11 ارب ڈالر
overseaspost.net

جون 2026 میں سعودی عرب سے 829.6 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے تھے۔ 

اس کے مقابلے میں جولائی کی رقم تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔ 

اس اضافے سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی اور جون کے موسمی اتار چڑھاؤ کے بعد سعودی ترسیلات نے نئے مالی سال میں دوبارہ مضبوط رفتار اختیار کی ہے۔

سعودی عرب سے سالانہ 11 ارب ڈالر کا امکان

اگر سعودی عرب سے جولائی کی 913.9 ملین ڈالر ماہانہ رفتار پورے مالی سال میں برقرار رہتی ہے تو مملکت سے پاکستان کو تقریباً 10.97 ارب ڈالر موصول ہوسکتے ہیں۔

اسے گول کرکے تقریباً 11 ارب ڈالر کہا جاسکتا ہے۔

گزشتہ مالی سال 2025-26 میں سعودی عرب سے پاکستان کو 9.783 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں سعودی عرب سے آنے والی سالانہ رقم میں تقریباً 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ تخمینہ بھی جولائی کی رقم کو بارہ سے ضرب دینے پر مبنی ہے۔ 

اسے حتمی پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بعض مہینوں میں رمضان، عیدین، اسکول فیس اور پاکستان میں خاندانی ضروریات کے باعث ترسیلات بڑھ جاتی ہیں، جبکہ دوسرے مہینوں میں ان کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔

43 ارب ڈالر کا ہندسہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر محض بیرونِ ملک کام کرنے والے شہریوں کی جانب سے اپنے خاندانوں کو بھیجی جانے والی رقم نہیں۔ یہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدی ادائیگیوں، روپے کے استحکام اور کرنٹ اکاؤنٹ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی یقینی نہیں؟

مصدقہ نکات

  • جولائی میں پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
  • مجموعی ترسیلات میں سالانہ 13 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
  • ماہانہ بنیاد پر ترسیلات 4.5 فیصد بڑھیں۔
  • سعودی عرب 913.9 ملین ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔

ابھی یقینی نہیں

  • کیا مالی سال کے باقی مہینوں میں جولائی جیسی رفتار برقرار رہے گی؟
  • کیا سالانہ ترسیلات واقعی 43.2 ارب ڈالر تک پہنچیں گی؟
  • کیا سعودی عرب سے پورے سال میں تقریباً 11 ارب ڈالر موصول ہوں گے؟
  • علاقائی کشیدگی، تیل اور خلیجی روزگار کا آئندہ مہینوں پر کیا اثر پڑے گا؟

اہم احتیاط: 43.2 ارب ڈالر اور سعودی عرب سے تقریباً 11 ارب ڈالر کے اعداد جولائی کی رفتار کو بارہ ماہ تک پھیلانے سے حاصل ہوتے ہیں؛ یہ سرکاری پیش گوئیاں نہیں۔

overseaspost.net

اگر پاکستان مالی سال 2026-27 میں 43 ارب ڈالر سے زیادہ ترسیلات حاصل کرلیتا ہے تو یہ:

  • زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے سکتی ہیں۔
  • تیل اور دوسری ضروری درآمدات کی ادائیگی آسان بنا سکتی ہیں۔
  • روپے پر بیرونی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
  • کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے ایک حصے کی تلافی کرسکتی ہیں۔
  • بیرونِ ملک قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر بنا سکتی ہیں۔

اس کے باوجود صرف ترسیلات پر انحصار کسی معیشت کے لیے مستقل حل نہیں۔ 

ترسیلات گھریلو استعمال اور درآمدی ادائیگیوں کو سہارا دیتی ہیں، لیکن طویل مدتی ترقی کے لیے برآمدات، صنعتی پیداوار، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ 

اضافے کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟

سعودی عرب سے ترسیلات میں اضافے کا ایک اہم سبب مملکت میں پاکستانی کارکنوں کی بڑی تعداد ہے۔ 

2025 میں 5 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب گئے تھے، جس سے ترسیلات بھیجنے والے کارکنوں کی بنیاد مزید وسیع ہوئی۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READ ایک منٹ میں پوری کہانی

جولائی 2026 میں پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال سے 13 فیصد اور گزشتہ مہینے سے 4.5 فیصد زیادہ ہیں۔

سعودی عرب 913.9 ملین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ رہا؛ یعنی پاکستان کو موصول ہونے والے ہر 100 ڈالر میں تقریباً 25 ڈالر مملکت سے آئے۔

اگر جولائی کی رفتار پورا سال برقرار رہی تو مجموعی ترسیلات 43.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، مگر یہ حسابی منظرنامہ ہے، سرکاری پیش گوئی نہیں۔

overseaspost.net

دوسرا عامل بینکوں، موبائل ایپس اور لائسنس یافتہ ترسیلی کمپنیوں کے ذریعے رقم بھیجنے کی سہولت میں اضافہ ہے۔ 

قانونی ذرائع آسان ہونے اور غیر قانونی ہنڈی و حوالہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی سے زیادہ رقم سرکاری نظام میں ریکارڈ ہوسکتی ہے۔

شرحِ مبادلہ میں نسبتی استحکام بھی اہم ہے۔ 

جب بیرونِ ملک پاکستانیوں کو روپے کی قدر میں کسی بڑے فوری اتار چڑھاؤ کا خدشہ نہ ہو تو وہ بہتر شرح کے انتظار میں رقم روکنے کے بجائے معمول کے مطابق گھر بھیجتے رہتے ہیں۔

کیا ریکارڈ یقینی ہے؟

جولائی کے اعداد حوصلہ افزا ضرور ہیں، لیکن ابھی مالی سال کے صرف ایک مہینے کا ڈیٹا سامنے آیا ہے۔ 

اس لیے 43.2 ارب ڈالر کا سالانہ ہندسہ ایک ممکنہ راستہ دکھاتا ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔

خلیجی ممالک میں روزگار کی صورتِ حال، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی قیمتیں، ترسیلی اخراجات، پاکستانی روپے کی قدر اور غیر رسمی ذرائع کے خلاف حکومتی پالیسی آنے والے مہینوں میں اصل نتیجے کا تعین کرے گی۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

ایک منٹ میں کہانی

جولائی 2026 میں پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہیں۔ 

سعودی عرب 913.9 ملین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ رہا اور پاکستان کی ہر 100 ڈالر کی ترسیلات میں تقریباً 25 ڈالر مملکت سے آئے۔

اگر جولائی کی رفتار پورا سال برقرار رہی تو پاکستان کی مجموعی ترسیلات تقریباً 43.2 ارب ڈالر اور سعودی عرب سے آنے والی رقم تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ 

مگر یہ موجودہ رفتار پر مبنی حسابی منظرنامہ ہے، سرکاری پیش گوئی نہیں۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

رپورٹ میں سرکاری اعداد اور ان سے اخذ کردہ حسابی منظرنامے کو واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے۔

SOURCES • overseaspost.net