براہ راست نشریات

تنخواہ بعد میں، رقم پہلے—ہنڈی نے پاکستانیوں کو کیسے جکڑ لیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ہنڈی سے پاکستان کو نقصان

گھر کو روپے، پاکستان کو ڈالر نہیں—ہنڈی سالانہ اربوں کیسے نگل رہی ہے؟

پاکستان کو مالی سال 2025-26 میں قانونی ذرائع سے 41.58 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، لیکن غیر رسمی ذرائع سے بھیجی جانے والی رقم کا حجم محتاط اندازوں کے مطابق سالانہ 8.3 سے 20.8 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔
یہ پوری رقم براہِ راست قومی نقصان نہیں، تاہم اس کا بڑا حصہ پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ نظام میں داخل نہیں ہوتا۔

بہتر ریٹ، فوری نقدی 

اور ’پہلے رقم، تنخواہ پر ادائیگی‘ نے ہنڈی کو متوازی مالی نظام بنادیا 

مگر سعودی عرب میں یہی سہولت 

کارکن کے اقامے، آزادی اور مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے

OVERSEAS POST  |  PREMIUM ECONOMIC REPORT

ریاض میں کام کرنے والے ایک پاکستانی مزدور کی تنخواہ آنے میں 10 دن باقی ہیں۔ 

پاکستان سے فون آتا ہے کہ والد کے فوری علاج کے لیے دو لاکھ روپے درکار ہیں، مگر اس کے اکاؤنٹ میں رقم موجود نہیں۔ 

قانونی منی ٹرانسفر کمپنی صرف وہی رقم بھیج سکتی ہے جو وہ اسی وقت ادا کرے۔

وہ ایک واقف ہنڈی والے کو فون کرتا ہے۔ 

چند منٹ بعد خاندان کو روپے مل جاتے ہیں اور مزدور تنخواہ آنے پر ریال ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ 

گھر کی مشکل حل ہوگئی، مگر اسی لمحے کارکن کی مجبوری، غیر قانونی مالی نیٹ ورک، پاکستان کا زرمبادلہ اور سعودی قانون ایک دوسرے سے جڑ گئے۔

ریکارڈ ترسیلات، مگر پوری تصویر نہیں

مالی سال 2025-26 میں بیرون ملک پاکستانیوں نے قانونی ذرائع سے ریکارڈ 41.58 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو حکومت پاکستان کے مطابق ملکی تاریخ میں زرمبادلہ کا سب سے بڑا واحد ذریعہ تھا۔ 

ایک سال پہلے یہ ترسیلات 38.3 ارب ڈالر تھیں۔ 

اسٹیٹ بینک کے مطابق تقریباً 8 ارب ڈالر کے اضافے نے پاکستان کو 14 برس بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کرنے میں اہم مدد دی۔

مزید پڑھیں

مگر یہ پوری تصویر نہیں۔ 

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر شائع تجزیے کے مطابق ہنڈی اور دوسرے غیر رسمی ذرائع کا حجم قانونی ترسیلات کے 20 سے 50 فیصد کے برابر ہوسکتا ہے۔

اس تناسب کو 41.58 ارب ڈالر پر لاگو کیا جائے تو تقریباً 8.3 سے 20.8 ارب ڈالر سالانہ رسمی نظام سے باہر رہنے کا امکان بنتا ہے، جو تقریباً

 2.3 سے 5.8 ٹریلین روپے کے برابر ہے۔

یہ حتمی سرکاری نقصان نہیں بلکہ حسابی تخمینہ ہے، کیونکہ خفیہ اور غیر دستاویزی مارکیٹ کا مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں۔ 

آخر پاکستانی ہنڈی کیوں استعمال کرتے ہیں؟

قانونی بینک اور موبائل ایپس موجود ہونے کے باوجود ہنڈی کی پہلی کشش بہتر شرح مبادلہ ہے۔ 

غیر رسمی ایجنٹ بعض اوقات قانونی ادارے سے زیادہ روپے دیتا ہے۔ 

کم تنخواہ والے کارکن کے لیے ایک ہزار ریال پر چند ہزار اضافی روپے بھی اہم ہوتے ہیں۔

6 اہم نکات
  1. پاکستان کو مالی سال 2025-26 میں قانونی ذرائع سے ریکارڈ 41.58 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
  2. غیر رسمی بہاؤ قانونی ترسیلات کے 20 سے 50 فیصد کے برابر ہوسکتا ہے۔
  3. ممکنہ طور پر 8.3 سے 20.8 ارب ڈالر سالانہ رسمی نظام سے باہر رہتے ہیں۔
  4. بہتر ریٹ، فوری نقدی اور گھر تک ادائیگی ہنڈی کی بنیادی کشش ہیں۔
  5. بعض ایجنٹ رقم پہلے بھیجتے اور تنخواہ آنے کے بعد ریال وصول کرتے ہیں۔
  6. سعودی عرب میں ہنڈی چلانا غیر مجاز مالی سرگرمی اور سنگین قانونی خطرہ ہے۔

دوسری وجہ رفتار اور رسائی ہے۔ 

بعض نیٹ ورک چند گھنٹوں میں دور دراز گاؤں تک نقد رقم پہنچا دیتے ہیں۔ 

بزرگ والدین یا بینک اکاؤنٹ نہ رکھنے والے خاندان کو برانچ اور ڈیجیٹل تصدیق سے نہیں گزرنا پڑتا۔

تیسری وجہ ذاتی اعتماد ہے۔ 

ایجنٹ اکثر اسی علاقے یا برادری سے ہوتا ہے۔ 

کارکن مانوس شخص کو مالی ایپ سے زیادہ قابل اعتماد سمجھتا ہے، خواہ قانونی تحفظ کے لحاظ سے حقیقت اس کے برعکس ہو۔ 

بعض ایجنٹ
رقم پہلے بھیج کر
کارکن سے تنخواہ
ملنے کے بعد
وصول کرتے ہیں

پہلے رقم، تنخواہ پر ادائیگی

ہنڈی کی سب سے اہم مگر کم بیان ہونے والی کشش ادھار پر ترسیل ہے۔
قانونی ادارہ مکمل رقم ملنے پر ترسیل کرتا ہے، جبکہ ہنڈی والا قابل اعتماد گاہک کے خاندان کو پہلے روپے دے کر کارکن سے تنخواہ آنے کے بعد ریال وصول کرسکتا ہے۔
علاج، اسکول فیس، کرایے یا وفات کے اخراجات میں یہ سہولت فیصلہ کن بن جاتی ہے۔
یہ فوری ترسیل اور مختصر مدتی غیر رسمی قرض کا مجموعہ ہے، مگر شفاف معاہدہ اور صارف تحفظ موجود نہیں۔
ایجنٹ من مانی شرح یا اضافی رقم مانگ سکتا ہے اور رقم ضائع ہونے پر کارکن کے پاس مضبوط قانونی ثبوت نہیں ہوتا۔

گھر والوں کو روپے ملے تو پاکستان کا نقصان کیسے؟

ہنڈی میں سعودی عرب سے دیے گئے ریال لازماً پاکستان نہیں پہنچتے۔ 

ایجنٹ یہاں ریال لیتا ہے، جبکہ پاکستان میں اس کا ساتھی اپنے روپے خاندان کو دے دیتا ہے۔ 

دونوں طرف کا حساب بعد میں تجارت، کرنسی یا دوسرے غیر رسمی لین دین سے برابر ہوتا ہے۔

فیکٹ باکس
قانونی ترسیلات 2025-2641.58 ارب ڈالر
قانونی ترسیلات 2024-2538.3 ارب ڈالر
ممکنہ غیر رسمی بہاؤ8.3 سے 20.8 ارب ڈالر
روپوں میں ممکنہ مالیت2.3 سے 5.8 ٹریلین روپے
سعودی عرب میں حیثیتغیر مجاز مالی سرگرمی
اہم وضاحتغیر رسمی بہاؤ حتمی سرکاری عدد نہیں

یوں خاندان کو روپے ملتے ہیں، مگر اصل کرنسی پاکستان کے ذخائر میں شامل نہیں ہوتی۔

پاکستان کو درآمدات اور بیرونی قرضوں کے لیے ڈالر چاہئیں۔ 

رقم قانونی نظام سے باہر رہے تو ذخائر، روپے اور سرکاری حسابات متاثر ہوتے ہیں۔

تاہم پوری رقم کو قومی دولت کا براہ راست نقصان کہنا درست نہیں، کیونکہ خاندان کو روپے مل چکے ہوتے ہیں۔ 

درست تعبیر یہ ہے کہ پاکستان ممکنہ زرمبادلہ، مالی دستاویز بندی اور نگرانی سے محروم رہتا ہے۔

سعودی عرب میں ہنڈی کی قانونی حیثیت

سعودی قانون میں عموماً ’ہنڈی‘ کا الگ نام نہیں، مگر لوگوں سے رقم لے کر دوسرے ملک میں مساوی ادائیگی کرانا بغیر لائسنس مالی خدمت کے دائرے میں آتا ہے۔

نافذ نظام المدفوعات وخدماتها کی دفعہ 4 کسی شخص کو سعودی سینٹرل بینک کے لائسنس کے بغیر ادائیگی کا نظام چلانے یا ادائیگی کی خدمت دینے سے روکتی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان کو تیل، ادویات، مشینری اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ ہنڈی سے خاندان کو روپے مل جاتے ہیں، مگر بیرون ملک ادا کیے گئے ریال یا ڈالر پاکستان کے بینکاری نظام میں داخل نہیں ہوتے۔
نتیجتاً پاکستان ممکنہ زرمبادلہ، مالی دستاویز بندی اور سرکاری نگرانی سے محروم رہتا ہے۔

دفعہ 12 کے تحت خلاف ورزی کی شدت کے مطابق تنبیہ، سرگرمی بند کرنے کا حکم اور 25 ملین ریال تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ 

ہر مقدمے میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ نہیں لگتا، سزا کردار، رقم، تکرار اور حقائق سے طے ہوتی ہے۔

کارکن اور ایجنٹ ایک درجے میں نہیں

اپنی جائز تنخواہ ہنڈی سے بھیجنے والا کارکن اور لوگوں سے رقم جمع کرکے کمیشن لینے والا ایجنٹ ایک قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔

اپنی رقم غیر مجاز ذریعے کو دینے والا کارکن خود بخود منی لانڈرر نہیں بنتا، رقم کا مجرمانہ ذریعہ، علم، ارادہ یا جرم میں معاونت ثابت ہونا اہم ہے۔ 

تاہم اسے پوچھ گچھ، رقم کا ذریعہ ثابت کرنے اور اکاؤنٹ یا رابطوں کی تفتیش کا سامنا ہوسکتا ہے۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ
ہنڈی صرف زیادہ شرحِ مبادلہ کا معاملہ نہیں۔ یہ فوری ترسیل، مختصر مدت کے قرض، گھر تک نقد رقم اور برادری کے ذاتی اعتماد پر قائم متوازی مالی نظام ہے۔
صارف کی بنیادی ضرورت پوری کیے بغیر صرف چھاپوں اور گرفتاریوں سے ہنڈی کو مستقل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔

اگر کارکن دوسروں سے رقم جمع کرے، اپنا اکاؤنٹ استعمال کرائے، گاہک تلاش کرے، کمیشن لے یا رقم کی اصل ملکیت چھپانے میں مدد دے تو اس کی حیثیت سہولت کار یا ایجنٹ میں بدل سکتی ہے۔

سعودی سینٹرل بینک بھی نامعلوم افراد کے لیے اکاؤنٹ سے رقم منتقل کرنے سے خبردار کرتا ہے، کیونکہ اس طرح کوئی شخص لاعلمی یا غفلت میں مشتبہ مالی سرگرمی کا حصہ بن سکتا ہے۔ 

ایجنٹ کے لیے خطرہ کہیں بڑا ہے

لوگوں سے ریال جمع کرکے پاکستان میں روپے دلوانے والا شخص بغیر لائسنس مالی خدمت فراہم کرنے والا بن سکتا ہے۔ 

غیر ملکی کارکن پر اپنے حساب پر کاروبار کرنے کی خلاف ورزی بھی لگ سکتی ہے۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ کے مطابق اپنے حساب پر کام کرنے والے غیر ملکی کے خلاف 50 ہزار ریال تک جرمانہ، 6 ماہ تک قید اور ملک بدری کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ 

یہ ادائیگی کے قانون یا منی لانڈرنگ کی ممکنہ کارروائی سے الگ ہے۔

ہنڈی کیسے کام کرتی ہے؟
1کارکن سعودی عرب میں ہنڈی ایجنٹ کو ریال دیتا ہے۔
2ایجنٹ پاکستان میں اپنے ساتھی کو ادائیگی کی ہدایت کرتا ہے۔
3پاکستان میں خاندان کو مقامی روپے مل جاتے ہیں۔
4دونوں ایجنٹ بعد میں تجارت یا دوسرے غیر رسمی لین دین سے حساب برابر کرتے ہیں۔
خاندان کو روپے ملے، مگر سعودی عرب میں دیے گئے ریال پاکستان نہیں پہنچے

اگر جرم سے حاصل شدہ رقم کو جانتے ہوئے منتقل کرنے، چھپانے یا اس میں مدد دینے کا ثبوت ملے تو بنیادی سزا دو سے 10 سال قید اور 50 لاکھ ریال تک جرمانہ ہوسکتی ہے۔

سنگین حالات میں یہ 3 سے 15 سال قید اور 70 لاکھ ریال تک جرمانے تک پہنچ سکتی ہے۔ غیر سعودی کو سزا کے بعد ملک بدر کرکے واپسی سے روکا جاسکتا ہے اور متعلقہ رقم عدالتی حکم سے ضبط ہوسکتی ہے۔ 

اپنی جائز تنخواہ بھی خطرے میں کیسے پڑ سکتی ہے؟

کارکن یہ سمجھ سکتا ہے کہ چونکہ رقم اس کی قانونی تنخواہ ہے، اس لیے غیر رسمی راستہ استعمال کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں۔

لیکن تفتیش صرف رقم کے پہلے ذریعے تک محدود نہیں رہتی، حکام یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ رقم کس شخص کو دی گئی، پاکستان میں ادائیگی کس نے کی، کن اکاؤنٹس سے گزری اور نیٹ ورک کے دوسرے لین دین کس نوعیت کے تھے۔

قانونی بینک یا منظور شدہ ترسیلی کمپنی کی رسید بھیجنے والے، وصول کنندہ، رقم اور تاریخ کا قابل تصدیق ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔ 

ہنڈی میں عموماً واٹس ایپ پیغام، زبانی وعدہ یا غیر رسمی پرچی رہ جاتی ہے۔

ایجنٹ گرفتار ہوجائے، فون بند کردے یا ادائیگی سے انکار کرے تو کارکن کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ رقم ذاتی تنخواہ تھی اور صرف خاندان کے خرچ کے لیے بھیجی گئی تھی۔

پاکستانی ہنڈی کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟
بہتر ریٹقانونی ادارے سے زیادہ روپے ملنے کی پیشکش۔
فوری ادائیگیچند منٹ یا گھنٹوں میں رقم کی ترسیل۔
گھر تک نقدیبینک یا موبائل اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔
ذاتی اعتمادایجنٹ اسی علاقے یا برادری سے ہوتا ہے۔
کم کارروائیشناختی اور بینکاری مراحل سے بچنے کی خواہش۔
ادھار ترسیلرقم پہلے، ادائیگی تنخواہ ملنے کے بعد۔

اسی لیے اصل خطرہ صرف منی لانڈرنگ کی سزا نہیں، جائز کمائی کا پھنس جانا، اکاؤنٹ کی جانچ، طویل پوچھ گچھ اور ملازمت یا اقامے پر بالواسطہ اثر بھی ہوسکتا ہے۔

ہر ہنڈی صارف مجرم نہیں، مگر راستہ خطرناک ہے

ہر صارف اسمگلر یا منی لانڈرر نہیں، لیکن اس کی رقم اسی غیر شفاف نیٹ ورک میں شامل ہوتی ہے جو غیر قانونی تجارت یا مجرمانہ رقم کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

غیررسمی
ترسیلات کا ممکنہ حجم 8.3 سے
20.8 ارب ڈالر
سالانہ ہوسکتا ہے

اسے معلوم نہیں ہوتا کہ خاندان کو ملنے والے روپے کہاں سے آئے یا اس کے ریال بعد میں کہاں استعمال ہوں گے۔
معمولی فائدہ اسے ایسے مقدمے سے جوڑ سکتا ہے جس کی وسعت کا اسے اندازہ نہ ہو۔
یہی ہنڈی کا سب سے خطرناک پہلو ہے:
ایک عام کارکن خاندان کی ضرورت کے لیے رقم بھیج رہا ہوتا ہے، لیکن وہ جس نیٹ ورک کو استعمال کرتا ہے اس کے دوسرے حصوں، گاہکوں اور مالی ذرائع سے مکمل طور پر بے خبر ہوتا ہے۔
ہنڈی صرف چھاپوں سے ختم نہیں ہوگی۔
جب تک وہ بہتر ریٹ، فوری نقدی، دیہی رسائی اور تنخواہ کے بعد ادائیگی دیتی رہے گی، نئے ایجنٹ سامنے آتے رہیں گے۔
قانونی اداروں کو فیس واضح، ترسیل فوری اور پاکستان میں نقد رقم کی وصولی آسان بنانا ہوگی۔

پہلے رقم، تنخواہ پر ادائیگی
ہنگامی ضرورت میں ہنڈی والا پاکستان میں رقم پہلے ادا کردیتا ہے، جبکہ بیرون ملک کارکن تنخواہ ملنے کے بعد اسے ریال یا درہم دیتا ہے۔
یہ صرف ترسیل نہیں بلکہ فوری بین الاقوامی ادائیگی اور مختصر مدتی غیر رسمی قرض کا مشترکہ نظام ہے۔
مگر اس میں شفاف معاہدہ، مقررہ کمیشن، شکایت کا مؤثر راستہ اور قانونی صارف تحفظ موجود نہیں ہوتا۔

سب سے اہم ضرورت کم آمدنی والے تارکین وطن کے لیے شفاف، کم لاگت اور تنخواہ سے منسلک ہنگامی ترسیلی قرض ہے۔

اس کے ذریعے علاج یا دوسری فوری ضرورت میں رقم پہلے بھیجی اور بعد میں واضح اقساط سے ادا کی جاسکے گی۔

یہی وہ سہولت ہے جس پر آج ہنڈی والے کی سب سے مضبوط گرفت ہے۔

قانونی ذرائع کو بیرون ملک کارکن سے صرف حب الوطنی کی اپیل نہیں کرنی چاہیے، انہیں قیمت، رفتار، سہولت اور اعتماد میں بھی غیر رسمی نیٹ ورک کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اصل مقابلہ ریٹ، رفتار اور ضرورت کا ہے

ہنڈی اعتماد، قرض، نقدی، رفتار اور بہتر ریٹ پر قائم متوازی مالی نظام ہے۔ 

پاکستان کو تارکین وطن کی حقیقی مشکل سمجھنا ہوگی، جبکہ سعودی عرب میں کارکن کو جاننا چاہئے کہ چند اضافی روپوں کے بدلے اس کا اکاؤنٹ، اقامہ، آزادی اور مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔

سعودی عرب میں ہنڈی کی قانونی حیثیت
سعودی قانون میں عموماً ’’ہنڈی‘‘ کا الگ نام استعمال نہیں ہوتا، لیکن لوگوں سے رقم لے کر دوسرے ملک میں مساوی ادائیگی کرانا بغیر لائسنس رقم منتقلی کی خدمت کے دائرے میں آتا ہے۔
نظام المدفوعات وخدماتها کی دفعہ 4 سعودی سینٹرل بینک کے لائسنس کے بغیر ادائیگی کا نظام چلانے یا ادائیگی کی خدمت فراہم کرنے سے روکتی ہے۔

محنت کش کے سامنے سوال سادہ ہے: 

گھر میں رقم آج چاہئے، تنخواہ دس دن بعد آئے گی۔

جب تک قانونی نظام اس کا محفوظ، فوری اور سستا جواب نہیں دیتا، ہنڈی والا موجود رہے گا۔ مگر اس غیر قانونی راستے کی آخری قیمت چند ہزار روپے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

اقامہ، ویزا، ملازمت اور قانونی معاملات کی مستند رہنمائی