سعودی عرب سے غیر ملکیوں نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 85.291 ارب ریال بیرونِ ملک منتقل کئے۔
اسی مدت میں پاکستان کو 5.068 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 19 ارب ریال موصول ہوئے۔
یہ رقم گزشتہ سال کی اسی مدت سے تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔
22.3 فیصد کا تناسب حسابی موازنہ ہے، پاکستانی شہریوں کی سرکاری حصہ داری نہیں۔
ساما اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کا مشترکہ جائزہ
2026 کی پہلی ششماہی میں سعودی عرب سے پاکستان کو
تقریباً 19 ارب ریال کے مساوی ترسیلات موصول ہوئیں
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کی ترسیلاتِ زر کا معاملہ محض اس رقم تک محدود نہیں جو مملکت سے بیرونِ ملک منتقل ہوتی ہے۔
جب سعودی اعداد و شمار کو پاکستان کے سرکاری ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان قائم سب سے بڑے مالیاتی راستوں میں پاکستانی کارکنوں کے کردار کی ایک اہم تصویر سامنے آتی ہے۔
سعودی مرکزی بینک ’ساما‘ کے جون 2026 کے ماہانہ شماریاتی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کی ذاتی ترسیلاتِ زر 85.291 ارب ریال رہیں۔
2025 کی اسی مدت میں یہ رقم 83.659 ارب ریال تھی۔
یوں سالانہ بنیاد پر 1.95 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صرف جون 2026 میں غیر ملکیوں نے 13.697 ارب ریال بیرونِ ملک بھیجے۔
یہ رقم جون 2025 کے 13.827 ارب ریال کے مقابلے میں 0.94 فیصد کم، جبکہ مئی 2026 کے 14.149 ارب ریال کے مقابلے میں 3.2 فیصد کم تھی۔
یعنی ایک ماہ کے اعداد و شمار محدود کمی دکھاتے ہیں، لیکن مکمل ششماہی کا موازنہ ترسیلات میں مسلسل اضافے کی نشان دہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان کو تقریباً 19 ارب ریال کے مساوی رقم موصول
پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کا سب سے اہم پہلو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار میں سامنے آتا ہے۔
جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہنے والے مالی سال 2025-26 کے دوران سعودی عرب سے پاکستان کو 9.783 ارب ڈالر کی
ترسیلات موصول ہوئیں۔
گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 9.345 ارب ڈالر تھی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ ہوا۔
💸خلاصہ ⌄
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 85.291 ارب ریال بیرونِ ملک بھیجے۔ اسی مدت میں پاکستان کو سعودی عرب سے 5.068 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 19 ارب ریال کے مساوی ترسیلات موصول ہوئیں۔ یہ گزشتہ سال سے تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔
پاکستان کو موصول ہونے والی رقم غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات کے 22.3 فیصد کے مساوی ہے، لیکن یہ قومیت کے لحاظ سے ساما کی جاری کردہ سرکاری تقسیم نہیں۔
تاہم پاکستان کا مالی سال، ساما کے زیرِ جائزہ جنوری سے جون کی مدت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دونوں ملکوں کے اعداد و شمار کا یکساں مدت کے لیے موازنہ کرنے کی غرض سے جولائی تا دسمبر 2025 میں سعودی عرب سے موصول ہونے والے 4.715 ارب ڈالر کو پورے مالی سال کی رقم سے منہا کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے جولائی 2026 کے شماریاتی بلیٹن اور جنوری 2026 کے بلیٹن کی بنیاد پر کیے گئے اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران پاکستان کو سعودی عرب سے تقریباً 5.068 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
ڈالر کے مقابلے میں ریال کی 3.75 کی مقررہ شرح سے یہ رقم تقریباً 19.005 ارب سعودی ریال بنتی ہے۔
📌5 اہم نکات ⌄
- 85.291 ارب ریال: جنوری تا جون غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات۔
- 5.068 ارب ڈالر: اسی مدت میں پاکستان کو سعودی عرب سے موصول رقم۔
- 19.005 ارب ریال: پاکستانی وصولیوں کی سعودی ریال میں مساوی قدر۔
- 22.3 فیصد: دونوں ملکوں کے ڈیٹا کا حسابی تناسب، قومیت کی تقسیم نہیں۔
- 9.783 ارب ڈالر: پورے مالی سال میں سعودی عرب سے پاکستان آنے والی ترسیلات۔
جنوری سے جون 2025 کے دوران سعودی عرب سے پاکستان کو 4.922 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔
یوں 2026 کی پہلی ششماہی میں ان ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان کی
ترسیلات میں
سعودی عرب
پھر سرفہرست
سالانہ رقم
9.78 ارب ڈالر
کیا غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات میں پاکستان کا حصہ 22 فیصد تھا؟
پاکستان کو موصول ہونے والی رقم کے مساوی 19.005 ارب ریال کا سعودی عرب سے غیر ملکیوں کی مجموعی 85.291 ارب ریال ترسیلات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو 22.3 فیصد کی ایک حسابی نسبت سامنے آتی ہے۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو 2026 کی پہلی ششماہی میں سعودی عرب سے غیر ملکیوں کے بھیجے گئے ہر 100 ریال کے مقابلے میں پاکستان کو مملکت سے تقریباً 22 ریال کے مساوی رقم موصول ہوئی۔
لیکن اس تناسب کو دو ملکوں کے سرکاری اعداد و شمار کے درمیان ایک تخمینی اور تجزیاتی موازنہ سمجھنا ضروری ہے۔
یہ رقم بھیجنے والوں کی قومیت کے لحاظ سے ساما کی جاری کردہ کوئی سرکاری تقسیم نہیں ہے۔
ساما کا ڈیٹا سعودی عرب میں مقیم غیر سعودی افراد کی بیرونِ ملک ذاتی ترسیلات کو شمار کرتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا ڈیٹا ان ورکرز ریمیٹنسز کی پیمائش کرتا ہے جو پاکستان کو موصول ہوئیں اور جن کا ماخذ سعودی عرب درج کیا گیا۔
📊فیکٹ باکس ⌄
| اشاریہ | رقم یا شرح |
|---|---|
| غیر ملکیوں کی ششماہی ترسیلات | 85.291 ارب ریال |
| سالانہ اضافہ | 1.95 فیصد |
| جون 2026 کی ترسیلات | 13.697 ارب ریال |
| پاکستان کو چھ ماہ میں موصول رقم | 5.068 ارب ڈالر |
| سعودی ریال میں مساوی رقم | 19.005 ارب ریال |
| پاکستان آنے والی رقم میں اضافہ | تقریباً 3 فیصد |
| حسابی تناسب | 22.3 فیصد |
| سعودی عرب کا سالانہ حصہ | 23.5 فیصد |
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ساما نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانیوں نے تمام غیر ملکیوں کی ترسیلات کا 22.3 فیصد بھیجا۔
درست اور محتاط تعبیر یہ ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب سے موصول ہونے والی ریکارڈ شدہ رقم، اسی مدت میں سعودی عرب سے غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات کے تقریباً 22.3 فیصد کے مساوی تھی۔
جون کی ماہانہ کمی طویل مدتی رجحان کا خاتمہ نہیں
اسٹیٹ بینک کے جون 2026 کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو اس مہینے سعودی عرب سے 829.6 ملین ڈالر موصول ہوئے۔
جون 2025 میں یہ رقم 823.2 ملین ڈالر تھی۔ یوں سالانہ بنیاد پر تقریباً 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔
البتہ مئی 2026 میں سعودی عرب سے موصول ہونے والی تقریباً 1.025 ارب ڈالر کی غیر معمولی رقم کے مقابلے میں جون کی ترسیلات تقریباً 19 فیصد کم رہیں۔
🎯یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف روزگار کی بڑی منڈی نہیں بلکہ زرمبادلہ کا سب سے اہم انفرادی ذریعہ بھی ہے۔ مملکت میں ملازمتوں، اجرتوں، ترسیلی فیس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تبدیلیاں براہِ راست پاکستانی خاندانوں کی آمدنی، زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدی صلاحیت اور روپے کے استحکام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہ کمی بڑی حد تک مئی میں عیدالاضحیٰ اور خاندانوں کی اضافی ضروریات کے سبب آنے والی موسمی تیزی کے بعد ترسیلات کے معمول کی سطح پر واپس آنے کی عکاسی کرتی ہے۔
صرف ایک ماہ کی کمی کو سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی آمدنی یا رقم بھیجنے کی صلاحیت میں کمزوری کا قطعی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صحافتی طور پر طویل مدتی رجحان زیادہ اہم ہے۔
6 ماہ کے دوران سعودی عرب سے پاکستان آنے والی ترسیلات تقریباً 3 فیصد بڑھیں، جبکہ مملکت سے تمام غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات میں اسی مدت کے دوران 1.95 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان کی ترسیلات میں سعودی عرب بدستور پہلے نمبر پر
مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کو دنیا بھر سے ریکارڈ 41.585 ارب ڈالر کی ورکرز ریمیٹنسز موصول ہوئیں۔
گزشتہ مالی سال کے 38.299 ارب ڈالر کے مقابلے میں یہ 8.6 فیصد اضافہ ہے۔
🧮ہر 100 ریال کا حساب ⌄
یہ حساب حجم سمجھانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر 100 ریال میں سے لازماً 22.3 ریال پاکستانی شہریوں نے بھیجے، کیونکہ ساما نے قومیت کے لحاظ سے تقسیم جاری نہیں کی۔
سعودی عرب 9.783 ارب ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا اور پاکستان کی مجموعی ترسیلات میں اس کا حصہ 23.5 فیصد تھا۔ متحدہ عرب امارات 8.807 ارب ڈالر اور 21.2 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
دونوں خلیجی ممالک نے مل کر پاکستان کی مجموعی ترسیلات کا تقریباً 44.7 فیصد فراہم کیا۔
سعودی عرب کی یہ برتری پاکستانی افرادی قوت کے مسلسل مملکت جانے کے رجحان سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 2025 میں 530,256 پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب گئے۔
اسی سال مختلف ممالک میں جانے والے رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں کی مجموعی تعداد 762,499 تھی۔
🇵🇰پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ ⌄
- سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت کی بڑھتی تعداد ترسیلات کے تسلسل کو سہارا دے رہی ہے۔
- کم فیس اور بہتر شرحِ مبادلہ سے خاندانوں کو ملنے والی اصل رقم بڑھ سکتی ہے۔
- آسان قانونی ڈیجیٹل چینلز ہنڈی اور حوالہ پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔
- 2025 میں بیرونِ ملک جانے والے ہر دس رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں میں سے تقریباً سات کی منزل سعودی عرب تھی۔
گویا بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے ہر 10 میں سے تقریباً 7 پاکستانیوں کی منزل سعودی عرب تھی۔
ترسیلات میں اضافے کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟
سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ترسیلات میں اضافے کا بنیادی سبب ہے، کیونکہ ہر سال نئے کارکن اس مالیاتی راستے میں شامل ہو رہے ہیں۔
روپے کی قدر میں نسبتی استحکام نے بھی رقم روک کر بہتر شرحِ مبادلہ کا انتظار کرنے کی ترغیب کم کی ہے۔
تیسرا اہم عامل غیر قانونی ہنڈی اور حوالہ نیٹ ورکس اور ڈالر کی غیر رسمی تجارت کے خلاف کارروائی کے بعد رقوم کے ایک حصے کا بینکوں اور لائسنس یافتہ ترسیلی کمپنیوں کی طرف منتقل ہونا ہے۔
اس کے باوجود سرکاری اعداد و شمار یہ نہیں بتا سکتے کہ اب بھی کتنی رقم ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے منتقل ہو رہی ہے، کیونکہ غیر رسمی رقوم مرکزی بینکوں کے ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتیں۔
اس لیے سعودی عرب سے موصول ہونے والے 9.783 ارب ڈالر صرف باضابطہ طور پر ریکارڈ شدہ ترسیلات ہیں، دونوں ملکوں کے افراد کے درمیان منتقل ہونے والی تمام ممکنہ رقم نہیں۔
🔎کیا ثابت ہے، کیا نہیں؟ ⌄
✓ تصدیق شدہ
- ششماہی غیر ملکی ترسیلات 85.291 ارب ریال تھیں۔
- پاکستان کو جنوری تا جون 5.068 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
- سعودی عرب پاکستان کا سب سے بڑا ترسیلاتی ذریعہ رہا۔
! ابھی ثابت نہیں
- 22.3 فیصد رقم لازماً پاکستانی شہریوں نے بھیجی۔
- سرکاری ڈیٹا ہنڈی اور حوالہ کی مکمل رقم دکھاتا ہے۔
- جون کی کمی آمدنی میں مستقل کمزوری کی علامت ہے۔
اسٹیٹ بینک کی پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ نے ایک اہم تضاد کی طرف بھی اشارہ کیا ہے:
سعودی عرب پاکستان کی ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن یہاں سے رقم بھیجنے کی لاگت بھی نسبتاً زیادہ ہے۔
اس لیے فیس میں کمی، بہتر شرحِ مبادلہ اور تیز رفتار ڈیجیٹل ترسیل کی سہولتیں مزید رقوم کو ہنڈی کے بجائے قانونی اور باضابطہ ذرائع کی طرف منتقل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
نتیجہ
مشترکہ سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جون میں محدود کمی کے باوجود 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سعودی عرب سے غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات میں اضافہ برقرار رہا۔
⏱️ایک منٹ میں کہانی ⌄
سعودی عرب سے غیر ملکیوں نے 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 85.291 ارب ریال بیرونِ ملک منتقل کیے۔ اسی مدت میں پاکستان کو سعودی عرب سے 5.068 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 19 ارب ریال موصول ہوئے۔ یہ رقم گزشتہ سال سے 3 فیصد زیادہ اور مجموعی غیر ملکی ترسیلات کے تقریباً 22.3 فیصد کے مساوی ہے۔
مگر یہ پاکستانی شہریوں کی سرکاری حصہ داری نہیں، بلکہ ساما اور اسٹیٹ بینک کے الگ ڈیٹا کا محتاط موازنہ ہے۔ پورے مالی سال میں سعودی عرب 9.783 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستان کی ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
اسی عرصے میں پاکستان کو سعودی عرب سے تقریباً 5.068 ارب ڈالر، یعنی 19 ارب ریال کے مساوی رقم موصول ہوئی۔
یہ گزشتہ سال کی اسی مدت سے تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔
پاکستان کو موصول ہونے والی یہ رقم سعودی عرب سے غیر ملکیوں کی مجموعی ترسیلات کے تقریباً 22.3 فیصد کے مساوی ہے، لیکن یہ تناسب دونوں ملکوں کے ڈیٹا پر مبنی تجزیاتی موازنہ ہے، قومیتوں کے لحاظ سے جاری کردہ کوئی سرکاری سعودی تقسیم نہیں۔
سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب بدستور پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی سب سے بڑی شہ رگ ہے۔
مملکت میں روزگار، اجرتوں اور رقم بھیجنے کی لاگت میں ہونے والی ہر مثبت تبدیلی کے اثرات پاکستان کے لاکھوں خاندانوں، زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی کھاتوں اور مقامی قوتِ خرید تک پہنچتے ہیں۔
💸
اصل اور بنیادی ذرائع
سعودی عرب سے غیر ملکیوں اور پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر، افرادی قوت اور مالی سال کے سرکاری اعدادوشمار
6 سرکاری ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
سعودی عرب سے غیر ملکیوں اور پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر، افرادی قوت اور مالی سال کے سرکاری اعدادوشمار