براہ راست نشریات

مرحلہ وار جنگ: ایران، امریکا اور بدلتی عسکری حکمتِ عملی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
Iran US War

Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار - ریاض

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مرحلہ وار تصادم نے جدید جنگ کے کئی روایتی تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔
مضمون نگار کے مطابق ایران نے محدود فضائی صلاحیت کے باوجود ڈرونز، میزائلوں اور دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے امریکی عسکری برتری کا مقابلہ کیا، جبکہ آبنائے ہرمز اور مذاکرات کا محاذ بھی اس جنگ کے ممکنہ انجام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جنگ میں اترنے کے لیے صرف ساکھ اور اعتماد کافی نہیں ہوتے اور نہ ہی اسلحے کے بڑے ذخائر—خصوصاً جب وہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں—کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ 

جنگ سے پہلے مخالف کی حیثیت، عسکری طاقت اور دفاعی استعداد کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ 

اس معاملے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ ناقص اندازوں کا خمیازہ صرف ملک کو ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

جنگ کا ایک مسلمہ اصول یہ بھی ہے کہ جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ 

اگر جذبہ اور عزم موجود ہو تو عددی کمی اور اسلحے کی محدود دستیابی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

انسانی تاریخ میں اس حقیقت کا بارہا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ 

بالخصوص ظہورِ اسلام کے بعد مسلمانوں کو اکثر عددی قلت کا سامنا رہا، لیکن وہ جذبۂ ایمانی کی بدولت میدانِ جنگ میں کامیاب و کامران رہے۔

مزید پڑھیں

انقلابِ ایران کے بعد امریکا نے ایران پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا اور اس دوران ایران مختلف نوعیت کی پابندیوں کا شکار رہا۔ 

اس کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری سے اعراض نہیں برتا بلکہ بڑی حد تک انہیں مسلمانوں کی حمایت کے لیے بھی بروئے کار لاتا رہا۔ 

ایران کی اس پالیسی کو عالمی برادری اور خطے کے بعض مسلم ممالک

 پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

ایران پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے خطے کے مختلف ممالک میں اپنی پراکسیز قائم کرکے مسلکی بنیادوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ 

تاہم اس اختلاف کو ہوا دینے میں کسی حد تک ان غیر مسلم قوتوں کا بھی کردار رہا ہے جو نہیں چاہتیں کہ مسلمان متحد ہوں اور ان کے درمیان مسلکی اختلافات کی خلیج ختم ہو۔

یہ مضمون کیوں اہم ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان تصادم صرف دو ممالک تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات خلیجی ریاستوں، عالمی توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر سعودی عرب، پاکستان اور دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔

جب تک یہ خلیج موجود رہے گی، مسلمان ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار رہیں گے۔ 

ان کے باہمی اختلافات اور عدم اتحاد کے باعث غیر مسلم طاقتیں نہ صرف ان کے وسائل سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی بلکہ خود کو بھی محفوظ تصور کریں گی۔ 

البتہ ایسی ریشہ دوانیاں ہمیشہ کامیاب نہیں رہتیں۔ 

کسی نہ کسی موڑ پر فروعی اختلافات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں اور بچھڑے ہوئے بھائی دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

ایران کے خلاف حالیہ جارحیت کو اس تناظر میں بھی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ 

اگرچہ ایران کے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے، لیکن اس عمل کو روکنے کے لیے کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیاں حالیہ جارحیت میں بارآور ہوتی دکھائی نہیں دیں۔ 

مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک پر کئے گئے مبینہ فالس فلیگ آپریشنز کے باوجود بیشتر ممالک نے ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں الجھنے سے گریز کیا، ماسوائے متحدہ عرب امارات کے۔

اس دوران ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں نے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ 

بالخصوص سعودی عرب کا مؤقف انتہائی واضح رہا۔ 

تاہم بعض دیگر ریاستیں خواہش کے باوجود امریکا کو مکمل طور پر روک نہ سکیں، جس کے جواب میں ایران ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا رہا۔

اہم ترین نکات
  • جنگ میں اسلحے کے ساتھ درست معلومات، حکمتِ عملی اور قومی عزم بھی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔
  • دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو ترقی دی۔
  • ایران نے جدید فضائیہ کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈرونز اور زمینی دفاعی نظام پر انحصار کیا۔
  • سستے ڈرونز نے مہنگے امریکی فضائی دفاعی نظام اور اس کے ذخیرے پر دباؤ بڑھایا۔
  • آبنائے ہرمز میں ایران کی جغرافیائی برتری عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
  • مستقل معاہدہ نہ ہونے کے باعث تصادم دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

ایران کی محدود جوابی حکمتِ عملی

ایران کے خلاف باقاعدہ جارحیت کا آغاز اسرائیل نے کیا، جبکہ اس سے قبل بھی مختلف غیر اعلانیہ کارروائیوں کے ذریعے ایران کو اشتعال دلانے کی کوششیں کی جاتی رہی تھیں۔ 

تاہم ایران نے ابتدا ہی سے ایک اصولی مؤقف اختیار کیا کہ اس پر جتنا حملہ کیا جائے گا، وہ اتنا ہی جواب دے گا اور اس کا نشانہ صرف حملے کی ذمہ دار ریاست یا فریق ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران نے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ 

بعد میں ہونے والی بیشتر کارروائیوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد کی گئی تو ایرانی جوابی کارروائیاں بھی خطے میں موجود امریکی اڈوں تک محدود رہیں۔ 

البتہ ان حملوں کے نتیجے میں امریکی اثاثوں کو خاصا نقصان پہنچا اور امریکا کو اپنا کچھ سازوسامان سمیٹ کر اردن منتقل کرنا پڑا۔

امریکا اس وقت بلاشبہ ایک عالمی طاقت ہے، مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جارحیت سے پہلے واشنگٹن ایرانی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں کا مکمل ادراک نہیں کر سکا۔ امریکا کو فراہم کی جانے والی معلومات بھی ناقص دکھائی دیتی ہیں۔ 

ایک جانب وہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کے درپے ہے تو دوسری جانب اسے ایران کی حقیقی عسکری طاقت کا درست اندازہ نہیں ہو سکا۔

امریکی قیادت غالباً یہ سمجھتی رہی کہ کئی دہائیوں سے پابندیوں کا شکار ایران عسکری اور دفاعی میدان میں جدید امریکی ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور اسے چند روز میں زیر کر لیا جائے گا۔ 

تاہم اب تک یہ امریکی اندازہ خام خیالی ہی ثابت ہوا ہے۔

فیکٹ باکس
مرکزی فریقایران، امریکا اور اسرائیل
اہم خطہخلیج، مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز
جنگی ذرائعڈرونز، میزائل، لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام
ایران کی طاقتمیزائل، ڈرون، زمینی دفاع اور جغرافیائی برتری
ایران کی کمزوریمحدود اور نسبتاً پرانی فضائیہ
امریکا کی طاقتجدید فضائیہ، بحری قوت اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی
سب سے بڑا خطرہجنگ کا دیگر ممالک اور توانائی کے مراکز تک پھیلنا
ممکنہ راستہجنگ بندی، سفارت کاری اور مشروط معاہدہ

امریکا کو اپنی جس ٹیکنالوجی پر ناز تھا، ایران نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 

بالخصوص امریکی فضائی دفاعی نظام کی کمزوریاں سامنے آنے کے بعد اسرائیل کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔ 

پہلے حملے کے بعد اسرائیل براہِ راست ایران کے ساتھ دوبارہ محاذ آرائی سے گریزاں دکھائی دیتا ہے یا پھر اسے ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا ہے۔ 

فضائیہ کی کمی اور متبادل حکمتِ عملی

یہ حقیقت ہے کہ ایران کو کئی دہائیوں سے جدید فضائیہ کی کمی کا سامنا ہے۔ 

امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران جدید ترین لڑاکا طیارے حاصل نہیں کر سکا اور اسے دستیاب پرانے طیاروں ہی کو کسی حد تک استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ 

اسی طرح بحری طاقت کے اعتبار سے بھی ایران کو امریکا کا ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے باوجود ابتدائی 40 روزہ جنگ میں ایران نے نہ صرف اپنی سرزمین کا کامیابی کے ساتھ دفاع کیا بلکہ خطے میں موجود امریکی اڈوں اور وہاں رکھے گئے امریکی اسلحے اور سازوسامان کو درست نشانہ بناکر امریکا کو پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور کیا۔

دورِ جدید میں جنگ کا طریقۂ کار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ 

اب دشمن پر حملوں کے لیے زیادہ تر انحصار فضائی طاقت پر کیا جاتا ہے۔ 

امریکی فضائیہ کو اس حوالے سے دنیا کی جدید ترین فضائی قوتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

اس کے پاس اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین طیارے موجود ہیں اور امریکا کو اپنی اس برتری پر خاصا ناز بھی ہے۔

ایک منٹ میں مضمون

مضمون نگار کے مطابق امریکا نے ایران کی حقیقی دفاعی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ایران جدید فضائیہ میں امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا، لیکن اس نے ڈرونز، میزائلوں اور زمینی دفاعی نظام کے ذریعے اس کمی کو بڑی حد تک پورا کیا۔ سستے ایرانی ڈرونز نے مہنگے امریکی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جغرافیائی پوزیشن اسے اہم برتری فراہم کرتی ہے۔ جنگ عارضی طور پر رکی ہوئی ہے، لیکن مستقل معاہدہ نہ ہونے کے باعث دوبارہ تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

امریکی حکمتِ عملی غالباً اس مفروضے پر قائم تھی کہ ایران کے پاس مؤثر فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اس پر آسانی کے ساتھ بمباری کرکے اسے شدید نقصان پہنچایا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ 

تاہم امریکا کو ایران کی تبدیل شدہ دفاعی حکمتِ عملی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے جدید فضائیہ کی عدم موجودگی کا بڑی حد تک ازالہ کر دیا۔

ایران نے اپنی جوابی حکمتِ عملی میں سستے مگر مؤثر ڈرونز کا بھرپور استعمال کیا۔ 

ان ڈرونز کے مقابلے کے لیے امریکا کو اپنے انتہائی مہنگے دفاعی نظام کا بڑا ذخیرہ استعمال کرنا پڑا۔ 

اس صورتِ حال نے امریکی جنرلوں کو بھی اپنی ترجیحات پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کیا اور اب وہ اسرائیل کی بجائے پہلے امریکا کے دفاع کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے امریکی فضائیہ کی جدید ٹیکنالوجی کو بھی قابلِ ذکر نقصان پہنچایا۔ 

اس سے امریکی عسکری برتری کا تصور متاثر ہوا ہے۔ 

ایرانی حملوں میں مختلف امریکی اڈوں پر موجود جدید جنگی اور نگرانی کے طیاروں کو نقصان پہنچنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں اواکس جاسوس طیارے بھی شامل ہیں۔

! ادارتی وضاحت

نوٹ: یہ ایک تجزیاتی اور رائے پر مبنی کالم ہے۔ عسکری نقصانات، تباہ شدہ سازوسامان اور جنگی کامیابیوں سے متعلق بعض اعداد و شمار مصنف کے تجزیے یا زیرِ گردش دعوؤں پر مبنی ہیں۔ انہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق نہ سمجھا جائے۔

ان نقصانات میں ایف 15، ایف 18 اور ایف 35 طیاروں کے علاوہ تھاڈ اور پیٹریاٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو پہنچنے والے نقصان کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ 

سب سے زیادہ توجہ ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے مبینہ نقصان نے حاصل کی ہے۔ 

یہ انتہائی بلندی پر پرواز کرنے اور جدید نگرانی کی صلاحیت رکھنے والا ڈرون ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ایسے تقریباً 40 ڈرونز تباہ ہوئے، جس سے امریکی عسکری برتری کے تاثر کو شدید دھچکا پہنچا۔

آبنائے ہرمز اور بحری محاذ

بحری محاذ پر بھی ایران کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ 

امریکی بحری بیڑے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے گریزاں ہیں اور امریکی سینٹرل کمانڈ اپنی ساکھ بچانے کے لیے آبنائے ہرمز سے باہر ناکہ بندی کیے بیٹھی ہے۔

اس کے برعکس آبنائے ہرمز کے اندر اصل کنٹرول ایران کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے۔ 

صورتِ حال یہ ہے کہ امریکی جہاز تو دور کی بات، کسی بھی ملک کا بحری جہاز ایران کی اجازت اور اس کے مقرر کردہ راستے کے بغیر آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

جنگ اپنے دوسرے مرحلے کے بعد، تادمِ تحریر، موقوف ہے۔ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ایران کو سخت وارننگ دے کر اسے ایسے معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں امریکی شرائط کو بالادستی حاصل ہو۔ 

تاہم ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی کو مذاکرات کی میز پر گنوانے کے لیے تیار نہیں۔ 

وہ اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے اور امن کو موقع دینے کے لیے آمادہ ضرور دکھائی دیتا ہے۔

صدر ٹرمپ پہلی جنگ بندی کے بعد غالباً چوتھی مرتبہ ایران کو سخت وارننگ دے چکے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ یہ باور کرانا بھی نہیں بھولتے کہ ہر مرتبہ مذاکرات کی درخواست ایران کی جانب سے کی جاتی ہے۔ 

تاہم حقیقت کیا ہے، اس کا ایک پہلو پہلی جنگ بندی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے ابتدائی ایکس پیغام سے واضح ہو چکا ہے۔ 

بعد کے واقعات سے بھی یہی گمان ہوتا ہے کہ جنگ سے گریز کے لیے صدر ٹرمپ کسی نہ کسی دوسرے ملک یا رہنما کا کندھا استعمال کرتے رہے ہیں۔ 

ہم سے جڑے رہیں

منطقی انجام کی تلاش

تمام امریکی ناکامیوں کے باوجود صدر ٹرمپ اب بھی بین السطور ایک تباہ کن کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ 

ممکنہ امریکی کارروائی صرف ایران کے توانائی کے شعبے یا بنیادی ڈھانچے کی تباہی تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ صدر ٹرمپ آخری حد تک جانے سے بھی گریز نہ کریں۔ 

تاہم ضروری نہیں کہ ایسی کارروائی کا انجام امریکی خواہشات کے مطابق ہی ہو۔

جنگیں صرف طاقت، اسلحے اور ٹیکنالوجی کے بل پر نہیں جیتی جاتیں۔ 

درست معلومات، مؤثر حکمتِ عملی، قومی عزم اور زمینی حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ 

ایران کے خلاف جاری مرحلہ وار جنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ کمزور سمجھے جانے والے فریق کو محض ظاہری عسکری برتری کی بنیاد پر نظرانداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بہرحال، مرحلہ وار جاری یہ جنگ بظاہر کسی منطقی انجام تک پہنچے بغیر ٹلتی دکھائی نہیں دیتی۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔