5 سال بعد بھی
کورونا کے اثرات ہماری زندگی میں ہیں،
کام، تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور خاندانی زندگی کیسے ہمیشہ کے لیے بدل گئی؟
کورونا وبا ختم ہوئے کئی برس گزر چکے ہیں، مگر اس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
آج ہم جس انداز میں کام کرتے، خریداری کرتے، سفر کرتے اور ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، اس کی جڑیں اسی دور میں ملتی ہیں۔
یہ رپورٹ ان بڑی تبدیلیوں کا جائزہ لیتی ہے جنہوں نے جدید زندگی کی نئی شکل بنائی اور آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کیا۔
آج صبح آپ ہر روز کی طرح بیدار ہوئے۔
بستر سے اٹھنے سے پہلے شاید آپ نے اپنا موبائل فون اٹھایا۔
ممکن ہے آپ نے بینک اکاؤنٹ چیک کیا ہو، دفتر کے پیغامات پڑھے ہوں، کوئی بل ادا کیا ہو، گاڑی بک کی ہو، کسی ڈاکٹر سے وقت لیا ہو یا کوئی چیز آن لائن خریدی ہو جو چند گھنٹوں بعد آپ کے دروازے پر پہنچنے والی ہو۔
پھر آپ گھر سے نکلے، یا شاید نکلنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی، کیونکہ آپ کا دفتر اب آپ کے گھر ہی کا ایک کمرہ ہے۔
شام کو ممکن ہے آپ نے کسی دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں موجود ساتھیوں کے ساتھ ویڈیو میٹنگ کی ہو، یا آپ کے بچے نے آن لائن کلاس لی ہو، جبکہ آپ نے موبائل ایپ کے ذریعے رات کا کھانا منگوا لیا ہو۔
مزید پڑھیں
یہ سب کچھ آج ہمیں بالکل معمول کی بات لگتی ہے۔
اتنا معمول کہ شاید ہم کبھی رک کر یہ سوال بھی نہیں کرتے:
آخر یہ ہماری روزمرہ زندگی کب بن گئی؟
اس سوال کا جواب 20 سال پہلے میں نہیں ملتا، نہ ہی 10 سال پہلے میں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کی بہت سی عادتیں ایک ایسے
دور میں تیزی سے پروان چڑھیں جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
کورونا وبا صرف ایک عالمی صحت کا بحران نہیں تھی۔
اس نے ہمارے کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے، خریداری کرنے، سفر کرنے، علاج کرانے، حتیٰ کہ وقت، صحت اور رشتوں کے بارے میں ہمارے سوچنے کا انداز بھی بدل دیا۔
بین الاقوامی معاشی اور سماجی مطالعات کے مطابق، اس وبا کے اثرات آج بھی عالمی معیشت، ملازمتوں کے انداز اور روزمرہ زندگی میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
2020 سے پہلے دفتر جانا معمول تھا، آمنے سامنے ملاقاتیں ہی اصل میٹنگ سمجھی جاتی تھیں، سرکاری کاغذات فائلوں میں جمع ہوتے تھے، اور بہت سے لوگ دکان پر جا کر خریداری کو آن لائن شاپنگ پر ترجیح دیتے تھے۔
آج تصویر مختلف ہے۔
ہم زیادہ ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں۔
زیادہ تیز رفتار دنیا میں۔
اور ایسی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا بنیادی حصہ بن چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی ہمیں اس لیے محسوس نہیں ہوئی کیونکہ یہ ایک ہی دن میں نہیں آئی۔
یہ آہستہ آہستہ ہمارے درمیان جگہ بناتی گئی۔
ایک نئی ایپ…
ایک نئی ڈیجیٹل سروس…
ایک نیا طریقۂ کار…
اور پھر ایک دن ہمیں احساس ہوا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو چند برس پہلے کی دنیا سے بالکل مختلف ہے۔
اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش یہ رپورٹ کرتی ہے:
اگر کورونا وبا ختم ہو چکی ہے، تو پھر اس کے اثرات آج بھی ہماری روزمرہ زندگی کے ہر گوشے میں کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
یہ رپورٹ لاک ڈاؤن، ماسک یا روزانہ سامنے آنے والے متاثرین کے اعداد و شمار کو یاد کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی۔
بلکہ اس لیے لکھی گئی ہے کہ یہ سمجھا جا سکے:
صرف چند برس جاری رہنے والی ایک وبا نے انسانی زندگی کے انداز کو اتنی گہرائی سے کیسے بدل دیا کہ اس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے؟
دو برس میں 10 سال کا سفر
اگر کوئی شخص 2019 کے آخر میں دنیا چھوڑ کر کہیں چلا جاتا اور آج واپس آتا، تو شاید اسے عمارتوں، سڑکوں یا شہروں میں کوئی غیر معمولی فرق نظر نہ آتا۔
لیکن وہ فوراً محسوس کرتا کہ زندگی گزارنے کا انداز بدل چکا ہے۔
بینک میں لمبی قطاریں اب پہلے جیسی نہیں رہیں، کیونکہ زیادہ تر لین دین موبائل فون سے ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر مریض کو ویڈیو کال پر دیکھ رہا ہے۔
استاد ایک ہی وقت میں مختلف شہروں کے طلبہ کو پڑھا رہا ہے۔
اور ایک ملازم سمندر کنارے کسی کیفے میں بیٹھ کر وہی کام کر رہا ہے، جو کبھی صرف دفتر کی میز پر بیٹھ کر ممکن سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام تبدیلیاں کورونا کے ساتھ پیدا نہیں ہوئیں، لیکن کورونا نے انہیں کئی گنا تیز کر دیا۔
بعض ماہرینِ معاشیات کے مطابق دنیا نے جس ڈیجیٹل تبدیلی کو دس سال میں مکمل کرنا تھا، وہ صرف دو برس میں کر لی۔
بے شمار اداروں نے وہ منصوبے، جو آئندہ کئی برسوں میں نافذ ہونے تھے، چند مہینوں کے اندر مکمل کر دیئے تاکہ کاروبار بند نہ ہو۔
جب موبائل فون زندگی کی چابی بن گیا
ذرا اپنے آج کے دن کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔
آپ نے اپنا موبائل کتنی مرتبہ استعمال کیا؟
صرف کسی سے بات کرنے کے لیے نہیں…
بلکہ ادائیگی کرنے کے لیے۔
رقم منتقل کرنے کے لیے۔
بورڈنگ پاس دکھانے کے لیے۔
کسی عمارت میں داخل ہونے کے لیے۔
کھانا منگوانے کے لیے۔
ڈاکٹر سے وقت لینے کے لیے۔
یا کسی سرکاری خدمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے۔
دفتر اب ملازمت کی واحد پہچان نہیں رہا
چند برس پہلے تک ان میں سے ہر کام کے لیے الگ دفتر، الگ کاؤنٹر اور الگ قطار ہوتی تھی۔
آج یہ سب کچھ آپ کی ہتھیلی میں موجود ایک چھوٹے سے آلے میں سمٹ آیا ہے۔
یہ صرف سہولت نہیں، بلکہ جدید معیشت کی نئی بنیاد بن چکی ہے، جہاں حکومتیں، بینک، اسپتال اور نجی ادارے تیزی سے ڈیجیٹل خدمات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
دفتر اب ملازمت کی واحد پہچان نہیں رہا
آج سے چند سال پہلے اگر کسی کمپنی کے سربراہ سے کہا جاتا کہ اس کی پوری ٹیم مختلف شہروں، بلکہ مختلف ملکوں میں رہتے ہوئے بھی کامیابی سے کام کر سکتی ہے، تو شاید وہ اس خیال پر یقین نہ کرتا۔
مگر آج یہی حقیقت ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ:
آپ کہاں بیٹھ کر کام کرتے ہیں؟
بلکہ یہ ہے کہ:
آپ نے کیا کام مکمل کیا؟
کورونا کے بعد کمپنیوں نے محسوس کیا کہ پیداوار کا تعلق صرف دفتر میں موجود رہنے سے نہیں، بلکہ کارکردگی سے ہے۔
- سرکاری اور مالی خدمات تک موبائل کے ذریعے رسائی آسان ہوئی۔
- خاندان سے ویڈیو رابطہ پہلے سے زیادہ معمول اور مؤثر بن گیا۔
- آن لائن ملازمت، تربیت اور فری لانسنگ کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
- ڈیجیٹل مہارتیں ملازمت کی منڈی میں پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
اسی لیے دنیا کے بہت سے اداروں نے ہائبرڈ ورک یعنی دفتر اور گھر، دونوں جگہوں سے کام کرنے کا نظام اپنا لیا۔
اس تبدیلی نے لوگوں کو صرف سہولت ہی نہیں دی، بلکہ انہیں اپنی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے پر بھی مجبور کیا۔
کیا کامیابی صرف اعلیٰ عہدہ اور زیادہ تنخواہ ہے؟
یا پھر اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ذہنی سکون حاصل کرنا اور متوازن زندگی گزارنا بھی کامیابی کا حصہ ہے؟
خریداری کا انداز بھی بدل گیا
کورونا سے پہلے لوگ ضرورت کی چیز خریدنے بازار جاتے تھے۔
آج بہت سی چیزیں خود ان کے دروازے تک پہنچ جاتی ہیں۔
صرف چند سیکنڈ میں موبائل پر آرڈر دیں، اور چند گھنٹوں بعد کھانا، دوائیں، کپڑے یا روزمرہ استعمال کی اشیا آپ کے گھر پہنچ جاتی ہیں۔
ای کامرس اب ایک اضافی سہولت نہیں رہی، بلکہ عالمی معیشت کا اہم ستون بن چکی ہے، اور دنیا بھر میں اس شعبے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے…
اگر کام، ٹیکنالوجی اور معیشت سب بدل گئے، تو کیا صرف دنیا بدلی؟
یا انسان بھی بدل گیا؟
ہر تبدیلی اعداد و شمار میں نظر نہیں آتی۔
اعداد و شمار یہ بتا سکتے ہیں کہ کتنے لوگ اب گھر سے کام کرتے ہیں، آن لائن خریداری کتنی بڑھ چکی ہے، یا کتنی سرکاری خدمات ڈیجیٹل ہو گئی ہیں۔
لیکن ایک تبدیلی ایسی بھی ہے جسے نہ کسی چارٹ میں دکھایا جا سکتا ہے، نہ کسی جدول میں۔
وہ ہے… انسان کا بدل جانا۔
2020 سے پہلے زندگی ایک دوڑ تھی۔
کام پہلے۔
میٹنگ پہلے۔
کاروبار پہلے۔
چھٹیاں بعد میں۔
طبی معائنہ بعد میں۔
انسان نے جانا کہ صحت، وقت اور خاندان محض زندگی کے حصے نہیں بلکہ زندگی کی اصل بنیادیں ہیں۔ ٹیکنالوجی نے سہولت دی، مگر تعلقات اور ذہنی سکون نے زندگی کو معنی دیے۔
اور والدین یا دوستوں سے ملاقات بھی اکثر ’وقت ملا تو‘ کے سپرد کر دی جاتی تھی۔
پھر ایک ایسا وائرس آیا جسے نہ دیکھا جا سکتا تھا اور نہ روکا جا سکتا تھا۔
اس نے پوری دنیا کو اچانک رکنے پر مجبور کر دیا۔
کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ اربوں انسانوں کے پاس ایک ایسی چیز آ گئی جس کی انہیں ہمیشہ کمی رہتی تھی۔
وقت۔
اپنے بچوں کے لیے وقت۔
اپنے والدین کے لیے وقت۔
اپنے بارے میں سوچنے کا وقت۔
اور یہ احساس کہ زندگی صرف چند دنوں میں مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔
جب صحت سب سے قیمتی سرمایہ بن گئی
ایک زمانہ تھا جب کسی سے پہلی ملاقات میں سوال ہوتا تھا:
آپ کیا کرتے ہیں؟
آج زیادہ اہم سوال یہ ہے:
آپ خیریت سے ہیں؟
کورونا نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ سب سے قیمتی سرمایہ نہ دولت ہے، نہ کاروبار، نہ عہدہ۔
بلکہ صحت ہے۔
کورونا نے صرف دنیا کو نہیں بدلا، بلکہ انسان کے جینے، سوچنے اور مستقبل کو دیکھنے کا انداز بھی ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اسی لیے لوگوں نے ورزش، متوازن غذا، باقاعدہ طبی معائنوں اور ذہنی صحت کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وبا کے بعد بے چینی، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں بہت سے ممالک نے ذہنی صحت کی سہولیات کو اپنے قومی صحت کے نظام کا لازمی حصہ بنانا شروع کیا۔
خاندان... جسے ہم نے دوبارہ دریافت کیا
لاک ڈاؤن کے دن آسان نہیں تھے۔
مگر انہی دنوں دنیا بھر کے لاکھوں گھروں میں ایک منظر بار بار دکھائی دیا۔
ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہا ہے۔
ایک ماں پورے خاندان کے ساتھ کئی گھنٹے گزار رہی ہے۔
دادا، دادی، نانا اور نانی ویڈیو کال پر اپنے پوتوں اور نواسوں سے بات کر رہے ہیں۔
یہ سب شاید پہلے بھی ممکن تھا۔
لیکن زندگی کی رفتار نے ہمیں اس سے دور کر دیا تھا۔
کورونا نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم دوبارہ اپنے رشتوں کی طرف دیکھیں۔
اور بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ کامیاب زندگی صرف زیادہ آمدنی کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا نام بھی ہے جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔
کیا دنیا نے واقعی سبق سیکھ لیا؟
یہ شاید آج کا سب سے اہم سوال ہے۔
کورونا کے بعد دنیا نے ویکسین، جدید لیبارٹریوں، بیماریوں کی نگرانی کے نظام اور ہنگامی طبی تیاریوں پر اربوں ڈالر خرچ کئے۔
مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
دنیا پہلے سے زیادہ تیار ضرور ہے، لیکن کسی نئی وبا سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، مضبوط صحت کے نظام اور فوری ردعمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ایسا ورثہ جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا
کورونا اپنے پیچھے صرف ماسک، سینیٹائزر اور لاک ڈاؤن کی یادیں چھوڑ کر نہیں گئی۔
اس نے ایک نئی دنیا چھوڑ دی۔
زیادہ ڈیجیٹل دنیا۔
زیادہ تیز رفتار دنیا۔
اور ایسی دنیا جہاں ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
اس نے ایک نیا انسان بھی پیدا کیا۔
ایسا انسان جو صحت کو پہلے سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
جو وقت کی قدر پہلے سے زیادہ جانتا ہے۔
اور جو یہ سمجھ چکا ہے کہ زندگی ایک لمحے میں بدل سکتی ہے۔
شاید آنے والی نسلیں روزانہ کے کورونا کیسز، لاک ڈاؤن کی تاریخیں یا پریس کانفرنسیں یاد نہ رکھ سکیں۔
لیکن وہ ایک ایسی دنیا میں زندگی گزاریں گی جس کی شکل اسی وبا نے بدل دی۔
شاید یہی کورونا کا اصل ورثہ ہے۔
اس نے صرف دنیا کو نہیں بدلا… بلکہ انسان کے جینے، سوچنے اور مستقبل کو دیکھنے کا انداز بھی ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
🌍
اصل اور بنیادی ذرائع
کورونا کے بعد ذہنی صحت، ریموٹ ورک، ڈیجیٹل ادائیگیوں، تعلیم اور آئندہ وباؤں کی تیاری سے متعلق عالمی ذرائع
10 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
کورونا کے بعد ذہنی صحت، ریموٹ ورک، ڈیجیٹل ادائیگیوں، تعلیم اور آئندہ وباؤں کی تیاری سے متعلق عالمی ذرائع