غریب نائجیرین نوجوان کو برطانیہ میں اعضا کی خاطر انسانی اسمگلنگ کے پہلے تاریخی مقدمے تک کیسے لے گئی؟
3 مئی 2022 کو ایک نائجیرین نوجوان لندن کے اس فلیٹ سے نکلا جہاں اسے ٹھہرایا گیا تھا اور پھر واپس نہیں لوٹا۔
وہ شہر کی سڑکوں سے واقف نہیں تھا، اس کے پاس مناسب رقم بھی نہیں تھی، جبکہ اس کا پاسپورٹ ان لوگوں کے قبضے میں تھا جو اسے برطانیہ لائے تھے۔
اس نے دو راتیں کھلے آسمان تلے گزاریں۔
اسے خوف تھا کہ کہیں اسے دوبارہ نائجیریا لے جاکر وہاں اس کا ایک گردہ نہ نکال لیا جائے۔
5 مئی کو وہ مغربی لندن کے اسٹینز پولیس اسٹیشن پہنچا۔
وہ گھبرایا ہوا تھا اور اسے اپنی پوری کہانی بیان کرنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔
تاہم استقبالیہ پر موجود اہلکار اور ایک خاتون پولیس افسر نے اس کی بات توجہ سے سنی۔
مزید پڑھیں
اس نے جو کچھ بتایا، وہ ملازمت یا رہائش سے متعلق کوئی معمولی تنازع نہیں تھا، بلکہ انسانی اعضا کے لیے اسمگلنگ کے ایک ایسے منصوبے کا انکشاف تھا جو بعد میں برطانیہ کی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شامل ہوگیا۔
اس نوجوان کا نام ڈیوڈ نوامینی تھا۔
اس نے نائجیریا کے ایک غریب گاؤں میں پرورش پائی، جہاں بجلی اور
صاف پانی جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں۔
اس نے 15 سال کی عمر میں تعلیم چھوڑ دی اور روزگار کی تلاش میں لاگوس چلا گیا۔
وہاں وہ ایک بازار میں ریڑھی پر موبائل فون کے لوازمات فروخت کرتا تھا اور روزانہ تقریباً 3,500 نائرا کماتا تھا۔
★5 اہم ترین ہائی لائٹس ⌄
ایسے حالات میں زندگی گزارنے والے نوجوان کے لیے برطانیہ جانے کی پیشکش کسی خواب سے کم نہیں تھی۔
اسے بتایا گیا کہ وہ لندن جاکر نئی زندگی شروع کرسکتا ہے اور وہاں اسے کام بھی مل جائے گا۔ غربت سے نکلنے کا راستہ دکھائی دینے والی اس پیشکش کے پیچھے، مگر ایک بالکل مختلف مقصد چھپا ہوا تھا۔
برطانیہ روانگی سے پہلے ڈیوڈ کے خون کے ٹیسٹ کرائے گئے۔
اس کا خیال تھا کہ یہ معائنے ویزا اور سفر کے لیے ضروری ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا اس کا گردہ نائجیریا کے بااثر سیاست دان اور سابق نائب صدر سینیٹ ائیک ایکویریمادو کی بیٹی سونیا ایکویریمادو کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
سونیا گردوں کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھی اور اسے گردے کی پیوندکاری درکار تھی۔ قانونی طور پر کسی رضاکار عطیہ کنندہ کا انتظار کرنے یا خاندان میں کسی مناسب شخص کو تلاش کرنے کے بجائے، نائجیرین ڈاکٹر اوبینا اوبیٹا کی قیادت میں ایک منصوبہ بنایا گیا۔
اس منصوبے کے تحت ڈیوڈ کو خاندان کا رشتہ دار ظاہر کرکے برطانیہ لایا گیا۔
⚖فیکٹ باکس ⌄
ایسی دستاویزات تیار کی گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈیوڈ اور سونیا کزن ہیں، حالانکہ ڈیوڈ نہ سونیا کو جانتا تھا اور نہ ہی اس سے پہلے اس کے خاندان کے کسی فرد سے ملا تھا۔
اسی جھوٹی کہانی کی بنیاد پر اس کے ویزے کا انتظام کیا گیا۔
برطانیہ پہنچنے کے بعد اسے لندن کے رائل فری اسپتال لے جایا گیا، جہاں نجی طور پر گردے کی پیوندکاری کی تیاری تھی۔
اسپتال پہنچنے پر منصوبہ مشکلات کا شکار ہوگیا۔
طبی ماہرین نے محسوس کیا کہ ڈیوڈ نہ تو گردہ عطیہ کرنے کے عمل کو پوری طرح سمجھتا ہے اور نہ اسے ایک گردے کے ساتھ زندگی گزارنے کے ممکنہ طبی خطرات کا علم ہے۔
ڈاکٹروں کو اس کی ذہنی آمادگی، فیصلے کے محرکات اور سونیا کے ساتھ مبینہ رشتے پر بھی شبہ ہوا۔
بالآخر اسپتال نے پیوندکاری کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
؟یہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ مقدمہ بتاتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ صرف جبری مشقت یا جنسی استحصال تک محدود نہیں۔ غربت، بیرونِ ملک ملازمت کی خواہش اور ویزے کا لالچ استعمال کرکے کسی انسان کو اس کے جسمانی اعضا کے حصول کے لیے بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ بظاہر زندگی بدل دینے والی پیشکش کے پیچھے ایک خطرناک مجرمانہ منصوبہ چھپا ہوسکتا ہے۔
اس فیصلے نے ڈیوڈ کا گردہ تو بچا لیا، لیکن خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
لندن میں منصوبہ ناکام ہونے کے بعد ایک ڈاکٹر نے ڈیوڈ کا اس مقام پر معائنہ کیا جہاں اسے رکھا گیا تھا۔
اسے خدشہ پیدا ہوا کہ منصوبے میں شامل افراد اسے واپس نائجیریا لے جاکر وہاں آپریشن کراسکتے ہیں۔
اسی خوف کے باعث اس نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ اس مقام اور ان لوگوں کو چھوڑ کر نکل گیا جو اس کی نقل و حرکت، پاسپورٹ اور بنیادی ضروریات تک کو کنٹرول کررہے تھے۔
پولیس کو دی گئی اس کی اطلاع نے ایک وسیع تحقیقات اور پھر لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں تاریخی مقدمے کی بنیاد رکھی۔
شواہد نے متاثرہ نوجوان اور ملزمان کے درمیان طاقت اور دولت کے غیر معمولی فرق کو بھی نمایاں کردیا۔
ایک طرف وہ نوجوان تھا جو لاگوس سے ابوجا جانے کے لیے 25 پاؤنڈ کا کرایہ بھی ادا نہیں کرسکتا تھا، جبکہ دوسری جانب ایک دولت مند اور بااثر سیاست دان تھا جس کے متعدد ممالک میں اثاثے اور طاقتور حلقوں سے روابط تھے۔
⚠ملازمت کے خواہش مندوں کے لیے انتباہ ⌄
- ملازمت کی واضح اور قابلِ تصدیق تحریری پیشکش کے بغیر سفر نہ کریں۔
- غیر واضح مقصد کے لیے خون یا جسمانی ٹیسٹ کرانے سے انکار کریں۔
- کسی اجنبی شخص کو اپنا رشتہ دار ظاہر نہ کریں۔
- پاسپورٹ کسی ایجنٹ یا آجر کے مستقل قبضے میں نہ دیں۔
- ایسی دستاویز پر دستخط نہ کریں جس کا متن آپ سمجھتے نہ ہوں۔
- خطرہ محسوس ہو تو فوراً مقامی پولیس یا اپنے سفارت خانے سے رابطہ کریں۔
مارچ 2023 میں جیوری نے ائیک ایکویریمادو، ان کی اہلیہ بیٹرس اور ڈاکٹر اوبینا اوبیٹا کو انسان کو جسمانی عضو کے حصول کے لیے برطانیہ لانے اور اس کے استحصال کی سازش کا مجرم قرار دیا۔
یہ برطانیہ کے جدید غلامی ایکٹ کے تحت انسانی اعضا نکالنے کی غرض سے اسمگلنگ کی سازش میں پہلی سزا تھی۔
عدالت نے ڈاکٹر اوبیٹا کو 10 سال، ائیک ایکویریمادو کو 9 سال 8 ماہ اور ان کی اہلیہ بیٹرس کو 4 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔
سونیا، جس کے جسم میں ڈیوڈ کا گردہ لگایا جانا تھا، کو اسی الزام سے بری کردیا گیا۔
جج نے اعضا کے حصول کے لیے انسانوں کی اسمگلنگ کو غلامی کی ایک شکل قرار دیا، کیونکہ اس میں انسان اور اس کے جسمانی اعضا کو خرید و فروخت کی چیز بنادیا جاتا ہے۔
عدالت کے مطابق ڈیوڈ نے گردہ عطیہ کرنے کے لیے حقیقی رضامندی نہیں دی تھی، اسے طبی خطرات نہیں بتائے گئے تھے اور آپریشن کے بعد اس کی صحت کی دیکھ بھال کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
ایک منٹ میں کہانی ⌄
نائجیریا کا نوجوان ڈیوڈ نوامینی لاگوس کے بازار میں موبائل لوازمات فروخت کرتا تھا۔ اسے لندن میں ملازمت اور بہتر زندگی کی پیشکش کی گئی، مگر برطانیہ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس کا گردہ ایک بااثر سیاست دان کی بیٹی کے لیے درکار ہے۔ ڈاکٹروں کو صورتِ حال مشکوک لگی اور انہوں نے آپریشن روک دیا۔ ڈیوڈ کو خدشہ ہوا کہ اسے نائجیریا واپس لے جاکر گردہ نکالا جاسکتا ہے، اس لیے وہ فرار ہوگیا۔ دو راتیں سڑک پر گزارنے کے بعد وہ پولیس تک پہنچا۔ اس کی شکایت نے ایک تاریخی مقدمے کو جنم دیا اور تین افراد کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
ڈیوڈ نے بعد میں ملزمان سے مالی معاوضہ لینے سے انکار کردیا۔
اس کا مؤقف تھا کہ وہ ان لوگوں سے کچھ نہیں چاہتا جنہوں نے اسے نقصان پہنچایا۔
تاہم اسے ایک ایسی قیمت ادا کرنا پڑی جس کی پیمائش رقم سے نہیں کی جاسکتی۔
اسے خدشہ تھا کہ نائجیریا واپس جانے پر ملزمان کے حامی اس سے انتقام لے سکتے ہیں، اس لیے اسے اپنے خاندان اور دوستوں سے دور نئی زندگی شروع کرنا پڑی۔
اگست 2025 میں نائجیریا میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔
خاندان کے مطابق وہ کئی برس تک اپنے بیٹے کو دیکھنے یا اس سے بات کرنے سے محروم رہے۔ ڈیوڈ کے بھائی کا کہنا تھا کہ مقدمہ شروع ہونے کے بعد سے ان کے والد بیماری اور شدید صدمے کا شکار تھے۔
یوں ڈیوڈ اپنا گردہ بچانے میں تو کامیاب ہوگیا، مگر اس نے اپنی سابقہ زندگی، خاندان سے تعلق اور تحفظ کا احساس کھو دیا۔
◈خلاصہ ⌄
نائجیریا کے غریب نوجوان ڈیوڈ نوامینی کو برطانیہ میں ملازمت اور بہتر مستقبل کا خواب دکھایا گیا۔ لندن پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ اسے ایک بااثر سیاست دان کی بیٹی کے لیے گردہ عطیہ کرنے کی خاطر لایا گیا ہے۔ اسپتال نے مشکوک حالات کے باعث پیوندکاری روک دی، جس کے بعد ڈیوڈ فرار ہوکر پولیس تک پہنچا۔ اس کی گواہی نے برطانیہ میں انسانی اعضا کے لیے اسمگلنگ کی پہلی تاریخی سزا کی بنیاد رکھ دی۔
ڈیوڈ کی کہانی محض ایک غیر معمولی عدالتی مقدمہ نہیں، بلکہ ہر اس نوجوان کے لیے انتباہ ہے جسے اچانک بیرونِ ملک ملازمت کی پیشکش کی جائے، غیر واضح مقصد کے لیے خون کے ٹیسٹ کرانے کو کہا جائے، ایسی دستاویزات پر دستخط لیے جائیں جنہیں وہ سمجھتا نہ ہو، یا اجنبی افراد کے ساتھ جھوٹی رشتہ داری ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔
غربت، بیرونِ ملک جانے کا خواب اور بااثر افراد کی طاقت یکجا ہوجائیں تو بظاہر ’زندگی بدل دینے والا موقع‘ ایک خطرناک جال بن سکتا ہے۔
بعض اوقات مجرموں کو متاثرہ شخص کی محنت یا رقم نہیں، بلکہ اس کے جسم کا ایک حصہ درکار ہوتا ہے۔
⚖️
اصل اور بنیادی ذرائع
ڈیوڈ نوامینی، لندن کے گردہ اسمگلنگ منصوبے، تاریخی عدالتی فیصلے اور مقدمے کے بعد کی پیش رفت کے بنیادی ذرائع
9 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
ڈیوڈ نوامینی، لندن کے گردہ اسمگلنگ منصوبے، تاریخی عدالتی فیصلے اور مقدمے کے بعد کی پیش رفت کے بنیادی ذرائع