سائنس دانوں نے دنیا میں سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والے ممالیہ کی بقا کا راز دریافت کرلیا۔
اینڈیز کا یہ ننھا چوہا شدید سردی اور آکسیجن کی کمی میں بھی اپنے جسم کو گرم رکھتا ہے۔
اس کے جین محدود خوراک اور پودوں کے ممکنہ زہریلے مادوں سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ تحقیق انسانی دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
اینڈیز کی منجمد آتش فشانی چوٹیوں پر
آکسیجن نصف سے بھی کم ہے
مگر ایک ننھا چوہا
6 ہزار 739 میٹر کی بلندی پر نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس کا جسم سردی، بھوک
اور زہریلے پودوں سے مقابلے کے لیے حیرت انگیز طور پر بدل چکا ہے۔
سطحِ سمندر سے 6 ہزار 739 میٹر کی بلندی پر واقع یویّایاکو آتش فشاں کی چوٹی بظاہر زندگی کے لیے بالکل ناموزوں دکھائی دیتی ہے۔
چلی اور ارجنٹائن کی سرحد پر واقع اس مقام پر ہوا میں آکسیجن سطحِ سمندر کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے، درجۂ حرارت زیادہ تر نقطۂ انجماد سے نیچے رہتا ہے اور دور دور تک صرف برف، پتھر اور بنجر زمین دکھائی دیتی ہے۔
ایک تربیت یافتہ کوہ پیما مناسب تیاری کے بعد یہاں چند گھنٹے گزار سکتا ہے، مگر طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔
اس کے باوجود سائنس دانوں نے انہی منجمد چٹانوں کے درمیان ایک چھوٹا سا چوہا دریافت کیا، جس کے گول کان درخت کے پتوں سے مشابہ ہیں۔
مزید پڑھیں
ابتدا میں خیال کیا گیا کہ شاید یہ چوہا راستہ بھٹک کر چوٹی تک پہنچ گیا یا کسی پرندے نے اسے یہاں لا چھوڑا۔ لیکن بعد کی تحقیق میں مختلف بلند آتش فشانی چوٹیوں پر ان چوہوں کی موجودگی ثابت ہوگئی۔
یوں اینڈیز کا پتوں جیسے کانوں والا یہ چوہا دنیا میں سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والا معلوم ممالیہ قرار پایا۔
زندگی کی آخری سرحد تک سفر
اس دریافت کا اہم مرحلہ 2020ء میں آیا، جب یونیورسٹی آف نبراسکا لنکن کے ارتقائی حیاتیات کے ماہر جے اسٹورز کی قیادت میں ایک ٹیم یویّایاکو کی چوٹی تک پہنچی۔
محققین نے 6 ہزار 739 میٹر کی بلندی پر ایک زندہ چوہا پکڑا، جس نے ہمالیہ میں رہنے والے بڑے کانوں والے پیکا کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
تاہم اصل سوال دریافت کے بعد سامنے آیا:
اتنا چھوٹا جسم شدید سردی اور آکسیجن کی کمی کا بیک وقت مقابلہ کیسے کرتا ہے؟
6 اہم نکات
کھولیں
بند کریں
+
- اینڈیز کا یہ چوہا 6 ہزار 739 میٹر کی ریکارڈ بلندی پر زندہ پایا گیا۔
- اس مقام پر آکسیجن سطحِ سمندر کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
- بلند علاقوں کے چوہے شدید سردی میں جسمانی حرارت زیادہ بہتر برقرار رکھتے ہیں۔
- ان کے پٹھوں کے مائٹوکانڈریا محدود آکسیجن سے مؤثر انداز میں توانائی بناتے ہیں۔
- جینیاتی آثار بتاتے ہیں کہ ان کا جسم بعض نباتاتی زہریلے مادوں سے نمٹ سکتا ہے۔
- سائنس دان ابھی یہ نہیں جانتے کہ یہ چوہے چوٹیوں پر کیا کھاتے اور افزائش کیسے کرتے ہیں۔
سردی میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے مسلسل توانائی پیدا کرنا پڑتی ہے، جبکہ توانائی بنانے کے لیے آکسیجن درکار ہوتی ہے۔
لیکن اس بلندی پر آکسیجن انتہائی کم ہے۔
گویا چوہے کو خود کو منجمد ہونے سے بچانے کے لیے زیادہ توانائی چاہیے، مگر اسے توانائی بنانے کے لیے مناسب آکسیجن ہی دستیاب نہیں۔
پانچ خطرناک مہمات
اس راز کو سمجھنے کے لیے سائنس دانوں نے 2020ء سے 2023ء تک 5 دشوار اور خطرناک مہمات انجام دیں۔
انہوں نے چلی کے ساحلی علاقوں، درمیانی بلندیوں اور اینڈیز کی بلند چوٹیوں سے چوہے جمع کیے۔
یہ ایک ہی نسل سطحِ سمندر سے لے کر 6 ہزار 700 میٹر سے زیادہ بلندی تک پائی جاتی ہے۔ کسی دوسرے ممالیہ کی رہائش میں بلندی کا اتنا وسیع فرق ریکارڈ نہیں ہوا۔
اسی خصوصیت نے سائنس دانوں کو مختلف بلندیوں پر رہنے والے چوہوں کے جسمانی اور جینیاتی فرق جانچنے کا نادر موقع فراہم کیا۔
فیکٹ باکس
کھولیں
بند کریں
+
تحقیقی ٹیم نے 167 چوہوں کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کیا۔
چند چوہوں کو چلی یونیورسٹی منتقل کرکے ایسے ماحول میں رکھا گیا جہاں بیک وقت شدید سردی اور آکسیجن کی کمی پیدا کی گئی تھی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ بلند علاقوں کے چوہے میدانی علاقوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے مقابلے میں جسمانی حرارت زیادہ بہتر انداز میں برقرار رکھتے ہیں۔
جسم کے اندر قدرتی پاور ہاؤس
سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بلند چوٹیوں پر رہنے والے چوہوں کے پٹھوں میں موجود مائٹوکانڈریا زیادہ مؤثر انداز میں توانائی بناتے ہیں۔
مائٹوکانڈریا کو خلیوں کا پاور ہاؤس کہا جاتا ہے۔
جسم کیسے کام کرتا ہے؟
کھولیں
بند کریں
+
آکسیجن کا مؤثر استعمال
بلند علاقوں کے چوہوں کا جسم محدود آکسیجن سے نسبتاً زیادہ مؤثر انداز میں توانائی حاصل کرتا ہے۔
حرارت کی مسلسل پیداوار
ان کی بھوری چربی زیادہ مؤثر انداز میں چربی جلا کر جسم کو منجمد ہونے سے بچانے والی حرارت بناتی ہے۔
طاقتور مائٹوکانڈریا
پٹھوں کے خلیوں میں موجود مائٹوکانڈریا کم آکسیجن کے باوجود توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں۔
خوراک کے زہریلے مادوں سے مقابلہ
جینیاتی شواہد بتاتے ہیں کہ ان کا جسم بعض نباتاتی کیمیائی مادوں کو بے اثر کرنے کے لیے ڈھل چکا ہے۔
ان کے جسم میں موجود بھوری چربی بھی زیادہ مؤثر انداز میں چربی جلا کر حرارت پیدا کرتی ہے۔
سادہ الفاظ میں ان چوہوں کے پاس کوئی جادوئی پھیپھڑے نہیں، بلکہ ان کا جسم محدود آکسیجن سے زیادہ سے زیادہ توانائی اور حرارت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جینیاتی تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ یہ صرف عارضی طور پر ماحول سے مانوس ہونے کا نتیجہ نہیں۔
کئی جسمانی خصوصیات نسل در نسل منتقل ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرت نے طویل عرصے میں ان کے جسم کو انتہائی بلندی پر زندہ رہنے کے قابل بنایا۔
زہریلے پودے بھی خوراک؟
ان چوہوں کے لیے بھوک ایک اور بڑا چیلنج ہے۔
آتش فشانی چوٹیوں پر نباتات انتہائی کم ہیں اور دستیاب پودوں میں بعض ایسے دفاعی کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو جانوروں کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
ایک منٹ میں کہانی
کھولیں
بند کریں
+
چلی اور ارجنٹائن کی سرحد پر واقع ایک منجمد آتش فشانی چوٹی پر انسان چند گھنٹے ہی گزار سکتا ہے، مگر ایک ننھا چوہا 6 ہزار 739 میٹر کی بلندی پر زندہ پایا گیا۔ یہاں آکسیجن نصف سے کم، درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے اور خوراک تقریباً ناپید ہے۔ 167 چوہوں کے جینیاتی اور جسمانی تجزیے سے معلوم ہوا کہ بلند علاقوں کے چوہے محدود آکسیجن سے توانائی اور حرارت زیادہ مؤثر انداز میں پیدا کرتے ہیں۔ ان میں نباتاتی زہریلے مادوں سے نمٹنے سے متعلق جینیاتی تبدیلیاں بھی موجود ہیں۔ یہ دریافت بتاتی ہے کہ زندگی وہاں بھی اپنے لیے راستہ بنا سکتی ہے جہاں انسان کا زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہے۔
سائنس دانوں کو ان چوہوں میں ایسے جینیاتی آثار ملے جو نباتاتی زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرنے اور خلیوں کو نقصان سے بچانے سے متعلق ہیں۔
ممکن ہے اسی صلاحیت کے باعث وہ ایسی خوراک استعمال کرلیتے ہوں جسے دوسرے جانور آسانی سے ہضم نہیں کرسکتے۔
تاہم یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کہ وہ چوٹیوں پر کون سے پودے کھاتے ہیں یا کس مخصوص زہر کو بے اثر کرسکتے ہیں۔
محققین یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا یہ چوہے وہیں بچے پیدا کرتے ہیں، کتنی مدت چوٹی پر رہتے ہیں یا خوراک کی تلاش میں کبھی نیچے اترتے ہیں۔
یہ ننھا سا جانور مستقبل میں سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ممالیہ کا جسم مسلسل آکسیجن کی کمی سے کیسے نمٹتا ہے۔
شاید یہی علم کسی دن دل اور پھیپھڑوں کی ان بیماریوں کی تحقیق میں بھی کام آئے جن میں انسانی اعضا تک مناسب آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔
فی الحال اس دریافت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ زمین کے انتہائی ویران دکھائی دینے والے مقامات بھی زندگی سے خالی نہیں۔
جہاں انسان چند گھنٹوں سے زیادہ ٹھہر نہیں سکتا، وہاں ایک چھوٹے سے چوہے نے سردی، بھوک اور آکسیجن کی کمی کے خلاف اپنی بقا کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔
🐭
اصل اور بنیادی ذرائع
اینڈیز کے بلند پہاڑی چوہوں کی جسمانی و جینیاتی صلاحیتوں سے متعلق اصل تحقیق اور سرکاری وضاحتیں
6 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
اینڈیز کے بلند پہاڑی چوہوں کی جسمانی و جینیاتی صلاحیتوں سے متعلق اصل تحقیق اور سرکاری وضاحتیں