براہ راست نشریات

سعودی ڈیلٹا پروجیکٹ: افغانستان کے لیے توانائی کا گیم چینجر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
افغانستان میں سعودی ڈیلٹا پروجیکٹ کے تحت گیس تلاش اور توانائی منصوبے کا خاکہ
اس معاہدے میں پہلے 8 سال تلاش کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ ابتدائی سرمایہ کاری 200 ملین ڈالر ہے
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

کابل میں 7 ستمبر کو ہونے والا ایک معاہدہ بظاہر 200 ملین ڈالر کی گیس تلاش ڈیل ہے، مگر اس کے پیچھے کی کہانی اس معاہدے سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

مزید پڑھیں

سعودی کمپنی ڈیلٹا انٹرنیشنل نے افغان وزارتِ کان کنی و پیٹرولیم کے ساتھ ہرات اور بادغیس کے درمیان کوشک۔تیرپل طاس میں گیس کی تلاش اور ممکنہ پیداوار کا 25 سالہ معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے میں پہلے 8 سال تلاش کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ ابتدائی سرمایہ کاری 200 ملین ڈالر ہے۔ افغان حکومت کے مطابق معاہدے میں 7 بلاکس اور تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ شامل ہے۔

سعودی عرب کا پرچم

200 ملین سے 60 ارب ڈالر تک: اصل کھیل کیا ہے؟

مرحلہ اول: 200 ملین ڈالر ایکسپلوریشن

پہلے 8 سال

کوشک۔تیرپل بیسن کے 7 بلاکس اور 22 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر سیسمک سروے، جیولوجیکل جانچ اور ابتدائی کنوئیں کھود کر گیس کی موجودگی کی سائنسی تصدیق کی جائے گی۔

مرحلہ دوم: 10 ارب ڈالر کا سینٹ گیس منصوبہ

700 کلومیٹر لائن

کامیاب دریافت کی صورت میں ہرات کے غوزرہ سے قندھار اور پاک افغان سرحد اسپین بولدک تک 700 کلومیٹر پائپ لائن کے لیے 10 سال میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔

مرحلہ سوم: بجلی گھر اور ہرات انڈسٹری

لوکل یوٹیلیٹی

منصوبے کا تیسرا بازو گیس فائرڈ پاور پلانٹس اور ہرات کے صنعتی زون کو براہِ راست سستی توانائی کی فراہمی ہے تاکہ افغانستان کی بجلی کی درآمدی محتاجی کم ہو۔

60 ارب ڈالر کا فرضی اسکیل

مشروط تخمینہ

یہ رقم کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھی رقم یا سعودی سرکاری امداد نہیں بلکہ اگر پورٹ فولیو 11 بلاکس تک پھیلا اور خطے کو سپلائی شروع ہوئی تو متوقع مجموعی اقتصادی حجم ہے۔

اصل کہانی: 200 ملین ڈالر سے آگے

ڈیلٹا کا منصوبہ صرف کنویں کھودنے تک محدود نہیں، بلکہ کمپنی ہرات کے صنعتی علاقے اور شہر میں مقامی گیس کے استعمال، بجلی کی پیداوار اور متعلقہ انفرااسٹرکچر کے امکانات بھی دیکھ رہی ہے۔

Overseas Post
سعودی ڈیلٹا منصوبہ: افغانستان کا نیا توانائی دور
دو سو ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری اور پاکستان کی سرحد تک 700 کلومیٹر طویل مجوزہ گیس پائپ لائن کا روڈ میپ

افغانستان اور سعودی کمپنی کے مابین 25 سالہ گیس معاہدہ خطے میں متبادل توانائی راہداری اور پاکستان کے لیے نئے سپلائی روٹس کے امکانات روشن کرتا ہے۔

📊 کلیدی اعداد و شمار اور پروجیکٹ اسکیل
افغان کان کنی ڈیٹا
200 ملین ڈالر
ابتدائی سرمایہ کاری
25 سال
معاہدے کی کل مدت
700 کلومیٹر
مجوزہ گیس پائپ لائن
🇵🇰 پاکستان کے لیے تزویراتی اہمیت 🌐

سپین بولدک تک مجوزہ پائپ لائن اور تاپی منصوبے کی پیش رفت سے پاکستان کو ایل این جی کے مہنگے عالمی سودوں کے مقابلے میں سستا علاقائی متبادل مل سکتا ہے۔

📑 کاروباری معاہدہ بمقابلہ سرکاری امداد ⚖️

یہ پیش رفت سعودی حکومت کا سرکاری امدادی پیکیج نہیں بلکہ نجی کمپنی کا تجارتی رسک ہے، جس کا حتمی دارومدار زیرِ زمین گیس کے کمرشل ذخائر کی تصدیق پر ہوگا۔

سب سے دلچسپ حصہ تقریباً 700 کلومیٹر طویل مجوزہ گیس پائپ لائن ہے، جو ہرات کے قریب غوزرہ سے قندھار کے راستے پاکستان کی سرحد کے قریب سپین بولدک تک پہنچ سکتی ہے۔

کمپنی نے اسے ’CentGas – Corridor of Prosperity‘ کا نام دیا ہے اور اس پر 10 سال میں تقریباً 10 ارب ڈالر تک ممکنہ سرمایہ کاری کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کا پرچم

پاکستان اس افغان گیس منصوبے سے کیا حاصل کر سکتا ہے؟

🛣️

مجوزہ 700 کلومیٹر طویل ’سینٹ گیس‘ پائپ لائن کا رخ ہرات سے قندھار ہوتے ہوئے سیدھا پاک افغان سرحد پر واقع اسپین بولدک (چمن بارڈر) کی جانب ہے۔ یہ جغرافیہ پاکستان کے لیے سستی زمینی گیس کا نیا دروازہ کھول سکتا ہے۔

مہنگی ایل این جی پر انحصار میں کمی

سستی گیس متبادل

بین الاقوامی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ سے پاکستان کو بھاری زرمبادلہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ سرحد سے براہِ راست زمینی گیس ترسیل لاگت میں نمایاں کمی لائے گی۔

بلوچستان اور جنوبی نیٹ ورک کو ایندھن

چمن تا کوئٹہ گرڈ

اگر اسپین بولدک پر پائپ لائن پاکستان کے سوئی گیس گرڈ سے جڑتی ہے تو کوئٹہ، پشین اور آس پاس کے شدید گیس بحران کے شکار علاقوں کو فوری اور وافر گیس ملنا ممکن ہو سکتا ہے۔

تاپی (TAPI) پائپ لائن کے ساتھ ہم آہنگی

علاقائی کوریڈور

ترکمانستان تاپی گیس لائن پر ہرات کے قریب پہلے ہی کام جاری ہے۔ سینٹ گیس منصوبے کی پیش رفت سے مغربی افغانستان تا جنوبی ایشیا ایک مشترکہ توانائی راہداری کا اثر مزید مضبوط ہوگا۔

تجارتی و معاشی باہمی انحصار

سرحدی استحکام

توانائی کا زمینی اشتراک دونوں ممالک کے باہمی تجارتی اور سفارتی تعلقات کو معاشی مفادات سے جوڑ کر طویل مدتی استحکام اور سرحدی سیکیورٹی کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔

اس معاہدے میں اس سے بھی بڑے اعداد 50 ارب اور 60 ارب ڈالر تک جاتے ہیں، لیکن یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے کہ یہ حتمی سرمایہ کاری نہیں بلکہ ممکنہ منصوبوں کے تخمینے ہیں۔

ان کا دارومدار گیس ملنے، ذخائر کے تجارتی طور پر قابلِ استعمال ہونے، فنانسنگ اور ضروری منظوریوں پر ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت؟

سپین بولدک تک پائپ لائن کا تصور پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر افغانستان میں تجارتی مقدار میں گیس ملتی ہے اور پائپ لائن بنتی ہے تو مستقبل میں جنوبی ایشیا کی توانائی تجارت کے لیے ایک نیا زمینی راستہ سامنے آ سکتا ہے۔

🔍

افغانستان کے نیچے کتنا تیل اور گیس چھپی ہے؟

USGS تخمینہ

امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے تاریخی ڈیٹا کے مطابق ہرات اور بادغیس کے کوشک۔تیرپل طاس میں غیر دریافت شدہ ہائیڈرو کاربن کے نمایاں اشارے پائے گئے ہیں، تاہم ان کی کمرشل تصدیق اب باقی ہے۔

قدرتی گیس کا امکانی تخمینہ

44.76 ارب مکعب فٹ

تیرپل بیسن میں اوسطاً 44.76 ارب مکعب فٹ قدرتی گیس کا اندازہ لگایا گیا ہے جو ملکی ضروریات اور ہرات کی صنعت کو ایک دہائی تک بجلی و ایندھن دینے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

خام تیل کے امکانی ذخائر

21.55 ملین بیرل

اسی جیولوجیکل بلاک میں اندازاً 21.55 ملین بیرل غیر دریافت شدہ تیل پائے جانے کا تخمینہ ہے، جس سے مقامی آئل ریفائننگ کی راہ ہموار ہونے کے مواقع موجود ہیں۔

قدرتی گیس مائعات (NGL)

9 لاکھ 10 ہزار بیرل

خشک گیس کے ساتھ ساتھ 910,000 بیرل قدرتی مائع گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو ایل پی جی اور پیٹروکیمیکل پیداوار کے لیے انتہائی قیمتی صنعتی فیڈ اسٹاک مانے جاتے ہیں۔

’امکان‘ اور ’ثابت شدہ‘ کا فرق

تکنیکی فرق

یہ تمام اعداد جیولوجیکل سروے کے سائنسی قیاس ہیں۔ جب تک نئے کنوئیں کھود کر گیس کا پریشر اور مسلسل بہاؤ نہ جانچا جائے، تب تک یہ ذخائر حتمی دولت نہیں بنتے۔

یہ منصوبہ TAPI پائپ لائن سے الگ ہے، مگر دونوں کا جغرافیہ دلچسپ ہے۔ 

ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کو ملانے والی TAPI پائپ لائن پر بھی مغربی افغانستان میں تعمیراتی کام جاری ہے۔ جون 2026 میں افغان وزارتِ کان کنی کے مطابق ہرات میں تقریباً 80 کلومیٹر پائپ بچھایا گیا تھا۔

یعنی افغانستان ایک طرف اپنی گیس تلاش کر رہا ہے اور دوسری طرف وسطی ایشیا کی گیس کو جنوبی ایشیا تک پہنچانے والی راہداری بننے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی LNG قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی اس کی درآمدی لاگت کو متاثر کرتی ہے۔

⚖️

سعودی کمپنی کا گیم چینجر منصوبہ: خطرہ کتنا، موقع کتنا؟

بڑا موقع: خود کفالت اور صنعتی انقلاب

مثبت امکان

افغانستان بجلی اور ایندھن کے لیے ازبکستان اور ایران پر انحصار کرتا ہے۔ ہرات میں مقامی گیس کا اخراج روزگار، فیکٹریاں اور قومی گرڈ کے لیے تاریخی مالی ریلیف بن سکتا ہے۔

بڑا موقع: خلیجی سرمایہ کاری کی انٹری

معاشی راہداری

سعودی کمپنی ڈیلٹا کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی سرمایہ کار وسطی ایشیائی ہائیڈرو کاربن کوریڈور میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس سے مزید بین الاقوامی پلیئرز متوجہ ہو سکتے ہیں۔

سنگین خطرہ: بین الاقوامی پابندیاں اور بینکنگ

مالیاتی رکاوٹ

افغان بینکنگ سسٹم پر عالمی پابندیوں اور تاحال عدم سفارتی تسلیم شدگی کے باعث اربوں ڈالرز کی ہیوی مشینری، فنانسنگ اور انشورنس حاصل کرنا سب سے کڑا امتحان ہے۔

سنگین خطرہ: 700 کلومیٹر سیکیورٹی روٹ

زمینی چیلنج

ہرات سے قندھار اور چمن بارڈر تک گیس پائپ لائن بچھانے اور دہائیوں تک اس کی بلاتعطل حفاظت کو یقینی بنانا ایک ایسا چیلنج ہے جس پر ماضی میں بھی بڑے منصوبے سست روی کا شکار رہے۔

ستمبر 2026 میں ایشیائی ایل این جی مارکیٹ میں قیمتوں کا شدید  اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے متبادل سپلائی روٹس کی اہمیت پھر نمایاں کی ہے۔

زمین کے نیچے واقعی کتنا خزانہ ہے؟

امریکی جیولوجیکل سروے نے 2009 میں تیرپل کے جائزہ علاقے میں اوسطاً 21.55 ملین بیرل غیر دریافت شدہ تیل، 44.76 ارب مکعب فٹ قدرتی گیس اور 9 لاکھ 10 ہزار بیرل گیس مائعات کا تخمینہ لگایا تھا۔

یاد رہے کہ ’غیر دریافت شدہ وسائل‘ اور ’ثابت شدہ ذخائر‘ ایک ہی چیز کے دو نام نہیں ہیں۔

اگلے 8 سال کے سروے، آزمائشی کھدائی اور زیرِ زمین ذخائر کے جائزے ہی بتائیں گے کہ یہ اعداد حقیقی کاروباری پیداوار میں بدل سکتے ہیں یا نہیں۔

اگلے 8 سال فیصلہ کریں گے: خواب یا حقیقت؟

01

ابتدائی 3 سال: تفصیلی تھری ڈی سیسمک سروے

پہلے مرحلے میں جدید آلات کے ذریعے زیرِ زمین فالٹ لائنز، چٹانوں کی ساخت اور گیس کے ممکنہ ٹریپس کا پتہ لگایا جائے گا تاکہ ڈرلنگ کے درست اہداف طے ہو سکیں۔

02

سال 4 تا 6: آزمائشی کھدائی اور فلو ٹیسٹ

مخصوص بلاکس میں گہرے ٹیسٹ ویلز کھودے جائیں گے۔ گیس پریشر، کیمیائی کوالٹی اور پانی کی مقدار کا جائزہ لے کر معلوم ہوگا کہ پیداوار اقتصادی طور پر فائدہ مند ہے یا نہیں۔

03

سال 7 تا 8: حتمی تجارتی فیصلہ اور فنانسنگ

اگر نتائج مثبت رہے تو 200 ملین ڈالر کا پروجیکٹ اربوں ڈالر کی پائپ لائن، فیلڈ ڈویلپمنٹ اور پاور جنریشن میں تبدیل ہوگا؛ ورنہ یہ تخمینے کاغذ تک محدود رہ جائیں گے۔

سعودی زاویہ کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے، جب سعودی عرب وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت اور توانائی شعبے کو زیادہ متنوع بنانے پر کام کر رہا ہے۔

اگرچہ تیل و گیس میں سرمایہ کاری بھی بدستور سعودی عرب کی توانائی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

البتہ ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ دستیاب افغان سرکاری دستاویزات اسے سعودی کمپنی ڈیلٹا کے ساتھ تجارتی معاہدہ قرار دیتی ہیں۔ یعنی یہ سعودی حکومت کا کوئی سرکاری اربوں ڈالر کا سرمایہ کاری پیکیج  نہیں ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

بڑے وعدوں کا اصل امتحان

ایک اور دلچسپ نکتہ اعداد و شمار کا فرق بھی ہے۔

افغان حکومت 7 بلاکس اور 22 ہزار مربع کلومیٹر بتاتی ہے، جبکہ ڈیلٹا کے وسیع پروگرام سے متعلق رپورٹس میں 11 بلاکس اور تقریباً 23 ہزار 317 مربع کلومیٹر کا ذکر ہے۔

ممکن ہے پہلا عدد دستخط شدہ معاہدے اور دوسرا کمپنی کے بڑے توانائی پروگرام سے متعلق ہو۔ فی الحال اہم چیز 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں بلکہ 200 ملین ڈالر سے شروع ہونے والی تلاش ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

اگر گیس واقعی تجارتی مقدار میں نکل آئی تو ہرات کی صنعت، بجلی، روزگار اور پاکستان کی سمت ایک نئی توانائی راہداری، یہ سب ایک بڑی علاقائی معاشی طاقت بن سکتے ہیں۔

اور اگر ذخائر توقع کے مطابق نہ نکلے تو اربوں ڈالر کے اعداد و شمار محض کاغذ سے آگے نہیں بڑھیں گے۔

افغانستان کے اگلے 8 سال اسی فرق کا فیصلہ کریں گے کہ زمین کے نیچے چھپی دولت اور واقعی فروخت ہونے والی توانائی کے درمیان کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ۔

📚 🔎 اصل ذرائع VERIFIED SOURCES افغان گیس معاہدے، سعودی ڈیلٹا منصوبے اور زیرِ زمین وسائل سے متعلق بنیادی اور سرکاری حوالہ جات 5 معتبر ذرائع
📌 سورس چیک: اس رپورٹ میں استعمال ہونے والے اہم حقائق کی تصدیق افغانستان کے سرکاری اداروں، امریکی جیولوجیکل سروے اور اصل تحقیقی رپورٹ سے کی گئی ہے۔ افغانستان سعودی عرب
🤝 معاہدہ: سب سے اہم سرکاری ریکارڈ
افغانستان افغان حکومت — کوشک تیرپل معاہدے کا سرکاری اعلان 7 ستمبر 2026 کو سعودی ڈیلٹا انٹرنیشنل کے ساتھ معاہدے، ابتدائی 200 ملین ڈالر سرمایہ کاری، 7 گیس بلاکس اور تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر رقبے کی بنیادی سرکاری تفصیلات۔ 🏛️ سرکاری افغان ماخذ ✓ بنیادی حوالہ سرکاری اعلان کھولیں ↗
🛢️ معاہدے سے پہلے کیا ہو رہا تھا؟
افغانستان وزارتِ کان کنی — ڈیلٹا سے آخری مذاکرات 5 ستمبر 2026 کی سرکاری خبر، جس میں افغان وزیرِ کان کنی ہدایت اللہ بدری اور ڈیلٹا کے چیف ایگزیکٹو شاہر التقی کے درمیان تیل و گیس کی تلاش، جائزے اور پیداوار پر مذاکرات کی تفصیل موجود ہے۔ ⛏️ وزارتِ کان کنی 🕒 معاہدے سے 2 دن پہلے سرکاری خبر کھولیں ↗ افغانستان نائب وزیر اعظم کا دفتر — مذاکرات کہاں سے شروع ہوئے؟ اکتوبر 2025 میں ملا عبدالغنی برادر اور ڈیلٹا کے شاہر التقی کی ملاقات کا سرکاری ریکارڈ، جس میں گیس کی تلاش، پیداوار اور پائپ لائنوں کی توسیع پر ابتدائی بات چیت کی گئی تھی۔ 🏛️ سرکاری ریکارڈ 🧭 مذاکراتی پس منظر اصل ریکارڈ کھولیں ↗
🪨 زمین کے نیچے واقعی کیا موجود ہو سکتا ہے؟
🌍 USGS — تیرپل کے تیل و گیس کا اصل سائنسی جائزہ امریکی جیولوجیکل سروے اور افغان وزارتِ کان کنی کی 2009 کی مشترکہ تحقیق، جس میں تیرپل علاقے کے غیر دریافت شدہ تیل، قدرتی گیس اور گیس مائعات کے وسائل کا سائنسی تخمینہ دیا گیا ہے۔ 🔬 ارضیاتی تحقیق 📊 بنیادی ڈیٹا USGS تحقیق کھولیں ↗
📰 مکمل منصوبہ، اربوں ڈالر اور پائپ لائن
📡 الجزیرہ — سعودی ڈیلٹا منصوبے کی مکمل تحقیق 700 کلومیٹر مجوزہ گیس پائپ لائن، سپین بولدک تک ممکنہ توانائی راہداری، 10 ارب، 50 ارب اور 60 ارب ڈالر کے مختلف سرمایہ کاری تخمینوں اور منصوبے کے خطرات و امکانات پر تفصیلی رپورٹ۔ 📰 اصل تحقیقی رپورٹ ⚡ علاقائی توانائی مکمل رپورٹ کھولیں ↗
📝 ادارتی نوٹ: 200 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری، 7 گیس بلاکس اور تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر رقبے کی معلومات افغان حکومت کے سرکاری ریکارڈ سے لی گئی ہیں۔ 10، 50 اور 60 ارب ڈالر کے بڑے اعداد کو ممکنہ سرمایہ کاری سمجھا جائے، کیونکہ ان کا انحصار گیس کی تلاش، تجارتی ذخائر، فنانسنگ، تکنیکی جائزوں اور حتمی منظوریوں پر ہے۔ SOURCE CHECK • overseaspost.net