افغانستان میں تارکینِ وطن کی واپسی کی بڑی لہر کا نتیجہ صرف سماجی تبدیلی ہی نہیں ہے، بلکہ یہ معاشی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغانوں کی وطن واپسی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں تاجر اور صنعت کار بھی اپنے تجربات اور سرمایہ لے کر وطن لوٹ رہے ہیں۔
تجربہ، سرمایہ اور معاشی امکانات
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کے مطابق 2023 سے مئی 2026 تک 60 لاکھ سے زائد افغان وطن واپس آ چکے ہیں۔
یہ واپسی اگرچہ وسائل پر دباؤ کا باعث ہے، تاہم اس میں پروفیشنل افراد اور تاجروں کی موجودگی معیشت کے لیے ایک نئی امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔
سرکاری سطح پر سرمایہ کاری کا فروغ
سعودی حکومت کی طرز پر افغان وزارتِ صنعت و تجارت نے بھی مقامی معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
افغانستان میں اب تک 7 بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کی 26 ملین ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کو باضابطہ منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد صنعتی خود انحصاری ہے۔
بیرونی سرمایہ اور حکومتی اقدامات
افغان نائب وزیر صنعت و تجارت مولوی احمد اللہ زاہد کے مطابق حکومت نے واپس آنے والے سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سہولت کار کمیٹی قائم کی ہے۔
یہ کمیٹی سرمایہ کاروں کے قانونی و انتظامی امور کو فوری حل کر رہی ہے تاکہ پیداواری عمل کو جلد شروع کیا جا سکے۔
سرمایہ کاری کے نمایاں شعبے
افغانستان میں منظور شدہ سرمایہ کاری کے منصوبے صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس میں فوڈ انڈسٹری، پلاسٹک مصنوعات، کولڈ اسٹوریج اور دیگر اشیائے صرف کی تیاری شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات درآمدات پر انحصار کم اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نہایت ناگزیر ہیں۔
مواقع اور چیلنجز
ماہر معاشیات محمد محمدی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار حکومتی تعاون پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا موجودہ کمزور بینکنگ نظام اور محدود سرمایہ کاری ماحول ان منصوبوں کی پائیداری کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
صنعتی تبدیلی کی رفتار
افغان چیمبر آف کامرس کے مشیر خان جان الکوزی کے مطابق پاکستان میں قائم چھوٹی ورکشاپس کے مالکان اب اپنا کاروبار افغانستان منتقل کر رہے ہیں۔
یہ کاروباری سرگرمیاں فی الحال چھوٹی صنعتوں تک محدود ہیں، تاہم مستقبل میں ان کے وسیع تر اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان معیشت کا مستقبل تارکین وطن کی واپسی کو صرف بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے ایک اثاثے میں بدلنے سے وابستہ ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر حکومت انتظامی رکاوٹیں دُور کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ چھوٹی چھوٹی کاروباری سرگرمیاں ملک میں پائیدار معاشی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔