براہ راست نشریات

تیل سستا، پیٹرول پھر بھی مہنگا: اس کھیل کا راز کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اور فیول اسٹیشن پر ایندھن ڈلوانے کا منظر
ایندھن کی مارکیٹ میں قیمت خام تیل سے کہیں زیادہ تیز دوڑتی ہے
OVERSEAS POST  |  PREMIUM BUSINESS STORY

پاکستان میں پیٹرول یا ڈیزل مہنگا ہو تو پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کتنے کا ہے؟

مزید پڑھیں

لیکن اصل بات یہ ہے کہ پیٹرول پمپ پر مقرر قیمت کا تعلق صرف ایک بیرل کے نرخ سے نہیں ہوتا، بلکہ خام تیل دراصل اس عالمی کہانی کا پہلا باب ہے، آخری نہیں۔

اس صورت حال کی فی الحال تازہ ترین مثال شام ہے۔ 13 ستمبر سے وہاں ڈیزل 40 فیصد اور 95 آکٹین پیٹرول تقریباً 28.3 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔

فروری سے پیٹرول تقریباً 86 فیصد بڑھ چکا، ڈیزل کی قیمت دگنی سے 

زیادہ ہوگئی، جبکہ اسی عرصے میں برینٹ خام تیل تقریباً 44 فیصد مہنگا ہوا۔ یعنی ایندھن کی قیمت خام تیل سے کہیں تیز بھاگ سکتی ہے۔

🛢️

خام تیل سستا، پٹرول پھر بھی مہنگا کیوں؟

بنیادی اصول: بیرل سے پمپ تک کا پیچیدہ سفر

خام تیل صرف پہلا خام مال ہے، تیار شدہ ایندھن الگ پروڈکٹ ہے

گاڑی میں براہِ راست کچا تیل نہیں ڈالا جاتا بلکہ اسے ریفائنری میں پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر ریفائنریوں کی گنجائش کم ہو یا تیار ایندھن کی قلت ہو تو خام تیل کی قیمت گرنے کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کے پمپ ریٹس تیزی سے اوپر جا سکتے ہیں۔

ریفائننگ مارجن کا غیر معمولی اضافہ

01

خام تیل کو صاف کرنے کی فیس (Crack Spread) تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ خام تیل سستا ہونے کے باوجود ریفائنریوں کے منافع کا مارجن 22 ڈالر سے بڑھ کر 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جس نے لاگت برقرار رکھی۔

فریٹ چارجز اور بحری انشورنس

02

سمندری گزرگاہوں میں کشیدگی کے باعث آئل ٹینکرز کے کرایوں اور جنگی انشورنس پریمیم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اخراجات خام تیل کی بنیادی قیمت میں شامل ہو کر ایندھن کو مہنگا بناتے ہیں۔

کرنسی کی گراوٹ اور ڈالر کا ریٹ

03

اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل 5 فیصد سستا ہو مگر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 7 فیصد گر جائے تو سستے تیل کا کوئی فائدہ مقامی صارف تک منتقل نہیں ہو پاتا بلکہ درآمدی بل بڑھ جاتا ہے۔

حکومتی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی

04

اکثر حکومتیں مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر فکسڈ لیوی اور ٹیکس نافذ کرتی ہیں۔ تیل سستا ہونے پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس سے پمپ پر قیمت نیچے نہیں آتی۔

ایک بیرل سے پمپ تک کئی قیمتیں

خام تیل کو پہلے ریفائنری میں پیٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول اور دوسری مصنوعات میں بدلا جاتا ہے۔

پھر ذخیرہ، بندرگاہ، جہاز، ٹرانسپورٹ، ڈسٹری بیوشن، ڈیلر مارجن، کرنسی کی قدر اور حکومتی ٹیکس یا لیوی اس کی قیمت میں شامل کیے جاتے ہیں۔

Overseas Post
تیل سستا، پیٹرول مہنگا: ایندھن کا پوشیدہ بحران
خام تیل کی قیمت محض عنوان؛ ریفائنریوں پر دباؤ اور ترسیلی لاگت پمپ کے نرخ طے کرتے ہیں

پمپ پر ایندھن کی قیمت صرف خام تیل پر نہیں بلکہ ریفائننگ گنجائش، شپنگ اخراجات اور کرنسی پر منحصر ہے، جس سے بیرل سستا ہونے پر بھی ریلیف نہیں ملتا۔

📊 خام تیل بمقابلہ ایندھن: قیمتوں کا تقابلی تضاد
مارکیٹ شرح تناسب
تیار پیٹرول کی قیمت میں مجموعی اضافہ 86%
برینٹ خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ 44%
🏭 ریفائننگ کا تاریخی دباؤ ⚠️
87 ڈالر

ایشیا میں کم سلفر ڈیزل کا ریفائننگ مارجن 22 ڈالر سے چھلانگ لگا کر 87 ڈالر فی بیرل کی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔

🚢 برآمدات میں تیز گراوٹ 📉
60%

خلیجی خطے سے تیار پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی برآمدات میں شدید کمی آئی، جس سے دنیا بھر میں ڈیزل کی سپلائی لائن خطرے میں پڑ گئی۔

⛽ بیرل سے پمپ تک کے اخراجات 🔄

خام تیل صرف بنیادی جزو ہے؛ سمندری فریٹ، بندرگاہ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر، ڈیلر مارجن اور حکومتی لیوی مل کر حتمی قیمت بناتے ہیں۔

🇵🇰 پاکستان میں ٹارگٹڈ ریلیف 🛵
100 روپے

عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے مخصوص ماہانہ کوٹے پر فی لیٹر حکومتی ریلیف اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔

پاکستان میں بھی اوگرا کا منظور شدہ قیمتوں کا فارمولہ عرب گلف کی مصنوعات کی قیمت، پریمیم اور فریٹ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرح، اندرونِ ملک فریٹ، ڈسٹری بیوشن مارجن، ڈیلر کمیشن، پیٹرولیم لیوی اور قابلِ اطلاق ٹیکس کو شامل کرتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ خام تیل میں ہونے والی معمولی کمی پیٹرول پمپ پر اسی تناسب سے نظر نہیں آتی۔

پاکستان کا پرچم

پاکستان میں پٹرول کی اصل قیمت بنتی کیسے ہے؟

📊

اوگرا کے منظور شدہ ضابطے کے تحت پاکستان میں پمپ پر ملنے والے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 7 دن کے اوسط بین الاقوامی عرب گلف ریٹ اور ملکی ترسیلی اخراجات کا مجموعہ ہوتی ہے۔

عرب گلف ریٹس اور بنیادی امپورٹ لاگت

FOB امپورٹ پرائس

پلاٹس (Platts) کے مطابق خلیجی منڈی میں تیار شدہ ایندھن کے نرخ لیے جاتے ہیں، جس میں بین الاقوامی کارگو پریمیم اور سمندری فریٹ جوڑ کر درآمدی قیمت بنتی ہے۔

ڈالر کا شرح مبادلہ (Exchange Rate)

روپیہ بمقابلہ ڈالر

تمام درآمدات ڈالرز میں خریدی جاتی ہیں۔ لیٹر کی قیمت بناتے وقت اسٹیٹ بینک کے کمرشل ایکسچینج ریٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے تاکہ روپے میں حقیقی قیمت طے ہو سکے۔

ان لینڈ فریٹ اور کمپنیوں کا مارجن

IFEM اور کمیشن

پورٹ سے ملک بھر کے ڈپوز تک تیل پہنچانے کا مساوی فریٹ (IFEM)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کا منافع اور پمپ مالکان کا ڈیلر کمیشن شامل کیا جاتا ہے۔

حکومتی پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز

حکومتی ریونیو

آئی ایم ایف اہداف کے تحت فی لیٹر پر عائد فکسڈ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اور دیگر کسٹمز ڈیوٹیز شامل ہوتی ہیں، جو حتمی خوردہ قیمت کا ایک بڑا حصہ بنتی ہیں۔

شام کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

شام کا مسئلہ صرف مہنگا خام تیل نہیں۔ وہاں بانیاس ریفائنری مرمت کے لیے بند اور مقامی ریفائننگ محدود ہوئی، جس کی وجہ سے ملک کو اپنی ڈیزل ضرورت کا تقریباً 74 فیصد اور پیٹرول کا 81 فیصد درآمد کرنا پڑا۔

شامی خام تیل کا ایک حصہ بھاری بھی ہے، جو دستیاب ریفائنریوں کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں۔

اس لیے نتیجہ واضح ہے کہ  کسی ملک کے پاس خام تیل ہونا کافی نہیں، بلکہ اسے مناسب ریفائنری، جہاز، محفوظ تجارتی راستے، ڈالر اور مسلسل سپلائی بھی چاہیے۔

ڈیزل مہنگا ہو تو پورا بازار کیوں ہلتا ہے؟

زرعی لاگت: ٹریکٹر اور ٹیوب ویل

پیداواری لاگت

زرعی معیشت کا پہیہ مکمل طور پر ڈیزل پر منحصر ہے۔ زمین کی تیاری، بوائی، کٹائی اور ڈیزل ٹیوب ویل سے آبپاشی مہنگی ہونے سے گندم، چاول اور سبزیوں کی ابتدائی لاگت فوری بڑھ جاتی ہے۔

مال بردار ٹرک اور منڈیوں کے کرائے

سپلائی چین لاگت

ملک بھر میں خام مال اور خوراک کی ترسیل ہیوی ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ فیول چارجز بڑھتے ہی ٹرانسپورٹرز کرائے بڑھا دیتے ہیں، جس کا بوجھ ہول سیل اور ریٹیل کی ہر شے پر منتقل ہوتا ہے۔

صنعتی جنریٹرز اور کیپٹیو پاور

فیکٹری آپریشنز

بجلی کے لوڈشیڈنگ بریک ڈاؤن سے نمٹنے کے لیے فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل یونٹس ہائی کپیسٹی ڈیزل جنریٹرز چلاتے ہیں۔ مہنگا فیول فیکٹری مصنوعات اور برآمدات کی قیمتوں کو غیر مسابقتی بنا دیتا ہے۔

عوامی ٹرانسپورٹ اور عمومی مہنگائی

سی پی آئی انفلیشن

بین الصوبائی اور انٹرسٹی بسوں کے کرایوں میں اضافے سے عام شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت مہنگی ہوتی ہے، جس سے افراطِ زر کا اثر براہِ راست نچلے متوسط طبقے کی جیب پر پڑتا ہے۔

اصل بحران ڈیزل کے گرد کیوں گھوم رہا ہے؟

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اگست 2026 میں عالمی ریفائنریوں نے تقریباً 8 کروڑ 14 لاکھ بیرل یومیہ تیل پراسیس کیا، جو ایک سال پہلے سے تقریباً 42 لاکھ بیرل یومیہ کم تھا۔

خلیج سے تیار پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی برآمدات فروری کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد کم رہیں۔

اس وقت زیادہ تشویش ڈیزل کی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق خلیجی ممالک اور روس کی ڈیزل اور گیس آئل کی مشترکہ خالص برآمدات اگست میں فروری کے مقابلے میں 16 لاکھ بیرل یومیہ کم تھیں۔

فروری میں یہ دونوں خطے عالمی سمندری تجارت کے تقریباً 45 فیصد کے برابر حصہ رکھتے تھے۔

🌐

دنیا میں ایندھن کی سپلائی کہاں پھنس رہی ہے؟

01

ریفائنریوں کی مرمت اور صلاحیت میں کمی

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق عالمی ریفائنریوں کی یومیہ پروسیسنگ پچھلے سال سے 42 لاکھ بیرل کم رہ گئی ہے۔ شامی بانیاس ریفائنری سمیت متعدد پلانٹس کی تکنیکی بندش نے تیار ڈیزل و پیٹرول کی قلت پیدا کی۔

02

خلیج اور روس کی برآمدات میں 16 لاکھ بیرل کا خسارہ

دنیا کی سمندری ڈیزل سپلائی کا 45 فیصد حصہ رکھنے والے خلیجی ممالک اور روس سے ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات میں شدید گراوٹ آئی ہے، جس نے یورپی اور ایشیائی تجارتی حبس کو ایندھن کے قحط سے دوچار کر رکھا ہے۔

03

بھاری خام تیل اور ریفائنری عدم مطابقت

کئی خطوں میں پیدا ہونے والا خام تیل ضرورت سے زیادہ گاڑھا یا سلفر زدہ ہے جس سے جدید انجنوں کے معیار کا پیٹرول نکالنا مشکل ہوتا ہے؛ خام تیل کا ذخیرہ ہونے کے باوجود موزوں ریفائننگ کی عدم موجودگی سپلائی روک دیتی ہے۔

اسی دباؤ کے باعث 16 ستمبر کو ایشیا میں کم سلفر ڈیزل کی ریفائننگ مارجن 87 ڈالر فی بیرل سے اوپر تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تقریباً 22 ڈالر تھی۔

یہی وہ نکتہ ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یعنی مسئلہ خام تیل کی قیمت نہیں بلکہ اسے ڈیزل میں تبدیل کرنے اور پھر مطلوبہ مارکیٹ تک پہنچانے کی صلاحیت بھی ہو سکتی ہے۔

ڈیزل مہنگا، مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ

ڈیزل صرف گاڑی کا ایندھن نہیں ہے۔ ٹرک، بسیں، زرعی مشینری اور متعدد صنعتی سرگرمیاں اسی پر چلتی ہیں۔ اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے سے سبزی، اناج، تعمیراتی سامان اور دوسری اشیا کی ترسیل بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔

یہ اضافی خرچ کہیں ٹرانسپورٹر کے منافع سے نکلتا ہے اور کہیں کرایوں و اشیا کی قیمت میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزل کا بحران پیٹرول کے مقابلے میں معیشت کے زیادہ حصوں کو چھو سکتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آخر کب کم ہوں گی؟

عالمی ریفائنریوں کا مکمل آپریشن

پہلی شرط

قیمتوں میں پائیدار کمی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خلیجی اور ایشیائی ریفائنریاں اپنی مرمت مکمل کر کے 8 کروڑ 50 لاکھ بیرل یومیہ کی معمول کی پیداوار پر واپس نہ آ جائیں اور ریفائننگ مارجن معمول پر نہ آئے۔

بحری راستوں کا تحفظ اور سستا فریٹ

دوسری شرط

بحیرہ احمر اور اہم تجارتی گزرگاہوں میں سکیورٹی کشیدگی ختم ہونے سے آئل ٹینکرز کے بھاری فریٹ چارجز اور انشورنس رسک پریمیم نیچے آئیں گے، جس سے امپورٹ لاگت میں فوری ریلیف ملے گا۔

روپے کی قدر میں پائیدار استحکام

تیسری شرط

پاکستانی صارف کے لیے قیمت تب ہی کم ہوگی جب زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر مستحکم رہے، ورنہ عالمی منڈی میں سستا تیل بھی ملکی سطح پر مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز میں رعایت

چوتھی شرط

جب تک حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے لیوی کی بلند ترین شرح نافذ رکھے گی، اس وقت تک عالمی ریلیف کا بڑا حصہ سرکاری خزانے میں جائے گا؛ پمپ پر حقیقی ریلیف کے لیے لیوی کم کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستانی صارف کے لیے کیا اہم ہے؟

پاکستان میں بھی 16 ستمبر کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھائی گئی ہیں۔

حکومت نے اسی دوران کم آمدنی والے مخصوص صارفین کے لیے ٹارگٹڈ فیول ریلیف اسکیم بھی جاری کی ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والے اہل صارفین کو محدود مقدار پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا منصوبہ ہے۔

پاکستانی پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں کے موجودہ نظام میں 7 دن کی اوسط کو استعمال کیا جارہا ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

قیمتیں کب نیچے آئیں گی؟

مختصر جواب یہ ہے کہ قیمتیں نیچے لانے کے لیے صرف خام تیل کا سستا ہونا ہی کافی نہیں ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ریفائنریاں پوری صلاحیت سے چلیں، ڈیزل کی برآمدات معمول پر آئیں، شپنگ راستے محفوظ ہوں، ذخائر بہتر ہوں اور درآمدی لاگت کم ہو تو پمپ پر حقیقی ریلیف کے امکانات بڑھتے ہیں۔

اس فرق کی ایک دلچسپ مثال 16 ستمبر کو سامنے آئی، جب برینٹ خام تیل کم ہوکر تقریباً 107.45 ڈالر فی بیرل ہوا، مگر اسی وقت یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب تھیں۔

یہی موجودہ ایندھن بحران کا خلاصہ ہے کہ بیرل کی قیمت صرف عنوان ہے، جبکہ آپ (یعنی عام صارف) کی جیب سے نکلنے والی اصل قیمت اس پوری سپلائی چین کو برداشت کرتی ہے۔

📚 اصل ذرائع: پٹرول کی قیمت کی پوری کہانی VERIFIED SOURCES عالمی تیل، ڈیزل بحران، ریفائننگ اور پاکستان میں قیمتوں سے متعلق بنیادی اور سرکاری حوالہ جات 7 معتبر ذرائع
📰 اصل بنیادی رپورٹ
الجزیرہ — کیا ایندھن کی قیمت صرف خام تیل طے کرتا ہے؟ شام سے شروع ہونے والی تفصیلی رپورٹ جس میں خام تیل، ریفائننگ، درآمدی لاگت، ڈیزل کی قلت، عالمی سپلائی چین اور صارف تک پہنچنے والی اصل قیمت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 📰 اصل رپورٹ 🌍 عالمی تناظر رپورٹ کھولیں ↗
🌍 عالمی تیل اور ڈیزل مارکیٹ
IEA — ستمبر 2026 عالمی آئل مارکیٹ رپورٹ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی بنیادی رپورٹ؛ خلیج اور روس سے ڈیزل و گیس آئل کی برآمدات میں کمی، ریفائنری پیداوار، ہرمز میں رکاوٹوں اور عالمی سپلائی کے اعدادوشمار اسی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ 🌐 عالمی توانائی 📊 بنیادی ڈیٹا IEA رپورٹ کھولیں ↗ امریکی EIA — تیل اور ڈیزل کا تازہ عالمی آؤٹ لک امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی Short-Term Energy Outlook رپورٹ؛ ڈیزل کے کم ہوتے ذخائر، ریفائننگ، عالمی پیداوار اور آنے والے مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں کے ممکنہ رجحان کا بنیادی ماخذ۔ 🇺🇸 سرکاری امریکی ماخذ 📈 مارکیٹ آؤٹ لک EIA ڈیٹا دیکھیں ↗ روئٹرز — ایشیا میں ڈیزل ریفائننگ مارجن ریکارڈ سطح پر 16 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی کم سلفر ڈیزل کا ریفائننگ مارجن 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے کئی گنا زیادہ ہے۔ 🔥 ڈیزل بحران 📊 LSEG ڈیٹا روئٹرز رپورٹ کھولیں ↗
🇵🇰 پاکستان میں پٹرول کی قیمت اور ریلیف
پاکستان پیٹرولیم ڈویژن — قیمت طے کرنے کا نیا نظام حکومتِ پاکستان کی سرکاری بریفنگ جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سپلائی صورتحال اور قیمت کے تعین کے لیے سات روزہ Rolling Average نظام کی وضاحت کی گئی ہے۔ 🇵🇰 سرکاری پاکستانی ماخذ ⛽ قیمتوں کا طریقہ کار سرکاری تفصیل دیکھیں ↗ اوگرا — پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی سرکاری قیمتیں اوگرا کا آفیشل پورٹل جہاں پٹرول اور ڈیزل کی نوٹیفائیڈ قیمتیں، Ex-Depot قیمت، فریٹ، IFEM اور قیمت کے مختلف اجزا سے متعلق سرکاری دستاویزات دستیاب ہیں۔ 🏛️ ریگولیٹری ماخذ 💰 Price Build-up اوگرا ڈیٹا دیکھیں ↗ وزارتِ خزانہ — ہدفی فیول ریلیف اسکیم 14 ستمبر 2026 کی سرکاری پریس ریلیز میں کم آمدنی والے صارفین، موٹر سائیکل و رکشا مالکان اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والوں کے لیے منظور شدہ ہدفی فیول ریلیف کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ 🇵🇰 حکومتی اعلامیہ 💸 فیول ریلیف اعلامیہ دیکھیں ↗
🔎 ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں اصل الجزیرہ رپورٹ کے ساتھ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA)، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA)، روئٹرز، پاکستان کی پیٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور وزارتِ خزانہ کے سرکاری ریکارڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ مختلف ذرائع کو اس لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ خام تیل، ریفائننگ، ڈیزل کی عالمی قلت اور پاکستان میں صارف تک پہنچنے والی قیمت کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔ SOURCE WIDGET • overseaspost.net