براہ راست نشریات

قیامت کا گلیشیئر: انٹارکٹکا تا کراچی سمندر کے نیچے چھپا بڑا خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
انٹارکٹکا کا پگھلتا ہوا تھوائٹس گلیشیئر اور سمندری پانی کے کٹاؤ کا منظر
تھوائٹس کا نکاسی آب کا علاقہ تقریباً 192 ہزار مربع کلومیٹر ہے، یعنی تقریباً برطانیہ کے برابر
🧊

فیکٹ باکس: قیامت کے گلیشیئر کے 5 حیران کن حقائق

مغربی انٹارکٹیکا کا قدرتی کارک

02

تھوائٹس پورے مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادر کو سمندر میں گرنے سے روکنے والا تالہ ہے۔ اگر یہ ٹوٹا تو ہمسایہ گلیشیئرز کا بند ٹوٹ جائے گا جس سے سمندر بالآخر 3.3 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔

نیچے 6 کلومیٹر اندر تک گرم پانی

03

2024 کے ریڈار ڈیٹا نے انکشاف کیا کہ مدوجزر کے دوران گرم اور نمکین سمندری پانی گلیشیئر کے نیچے گراؤنڈنگ زون سے 6 کلومیٹر اندر تک داخل ہو کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

پگھلاؤ میں 5 گنا ہوشربا اضافہ

04

تازہ ماڈلنگ کے مطابق تھوائٹس کی برف کھونے کی سالانہ رفتار 1990 کی دہائی سے 5 گنا بڑھ چکی ہے، اور پیش گوئی کے مطابق یہ سالانہ 180 سے 200 ارب ٹن برف گنوانے کی طرف جا رہا ہے۔

150 سال کا خودکار عمل

05

سائنسی تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر سمندری گرم پانی کا نیچے سے داخلہ آج مکمل طور پر بند بھی کر دیا جائے، تب بھی تھوائٹس اپنے اندرونی جھکاؤ کی وجہ سے اگلے 150 برس تک مسلسل پسپا ہوتا رہے گا۔

دنیا کے آخری سرے یعنی مغربی انٹارکٹیکا میں برف کا ایک ایسا دیوقامت دریا موجود ہے جسے سائنس دان کئی دہائیوں سے بے چینی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

اس کا نام تھوائٹس گلیشیئر ہے، مگر دنیا اسے ’قیامت کے گلیشیئر‘ کے نام سے جانتی ہے، جس کی وجہ حجم ہی نہیں، بلکہ وہ سلسلہ ہے جو اس کے کمزور ہونے سے پورے مغربی انٹارکٹیکا میں شروع ہو سکتا ہے۔

برطانیہ جتنا برفانی خطہ

تھوائٹس کا نکاسی آب کا علاقہ تقریباً 192 ہزار مربع کلومیٹر ہے، یعنی تقریباً برطانیہ کے برابر۔

Overseas Post
قیامت کا گلیشیئر: انٹارکٹکا سے کراچی تک سمندری خطرہ
تھوائٹس گلیشیئر کے نیچے گرم پانی کا داخلہ؛ عالمی سطحِ سمندر میں اضافے سے پاکستانی ساحل نشانے پر

انٹارکٹیکا کے تھوائٹس گلیشیئر کا بنیادوں سے تیز پگھلاؤ عالمی سطحِ سمندر میں کئی میٹر اضافے اور کراچی سمیت نشیبی ساحلی علاقوں کے ڈوبنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

🌊 بنیادوں سے پگھلاؤ کا انکشاف ⚠️
6 کلومیٹر

سیٹلائٹ ریڈار کے مطابق گرم اور نمکین سمندری پانی گلیشیئر کے نیچے گہرائی تک داخل ہو کر اس کی مضبوط برفیلی بنیادوں کو نیچے سے مسلسل پگھلا رہا ہے۔

📈 برف پگھلنے کی رفتار ⚡
5 گنا

سائنسی ماڈلز کے مطابق گلیشیئر سے برف کے زیاں کی سالانہ رفتار 1990 کی دہائی کے تقابل میں غیر معمولی حد تک تیز ہو چکی ہے۔

🌐 سطحِ سمندر میں اضافہ 🌊
3.3 میٹر

تھوائٹس کے پگھلاؤ سے سمندر میں 65 سینٹی میٹر، جبکہ ملحقہ خطے کے غیر مستحکم ہونے سے مجموعی اضافہ سوا تین میٹر سے تجاوز کر سکتا ہے۔

🇵🇰 کراچی اور ساحلی پٹی پر خطرات 🚨
192 ہزار کلومیٹر

برطانیہ کے برابر پھیلے اس گلیشیئر کے خاتمے سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین اور انڈس ڈیلٹا کے نشیبی ساحل سمندری کٹاؤ اور شدید سیلاب کی مستقل زد میں آ سکتے ہیں۔

یہ گلیشیئر دنیا میں سطحِ سمندر کے موجودہ اضافے میں تقریباً 4 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ اگر تھوائٹس کی تمام برف ختم ہو جائے تو عالمی سطحِ سمندر تقریباً 65 سینٹی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کو اصل خوف بعد کا ہے، کیونکہ تھوائٹس مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادر کا ایک دروازہ ہے۔ 

پاکستان کا پرچم

پاکستان کے لیے پریشانی؟ کراچی تک پہنچنے والا خطرہ

🌊

انٹارکٹیکا اگرچہ پاکستان سے ہزاروں میل دور ہے، مگر بحیرہ عرب جڑے ہوئے عالمی سمندر کا حصہ ہے۔ سطحِ سمندر میں چند انچ کا اضافہ بھی کراچی اور ملحقہ ڈیلٹا کے لیے طوفانی لہروں کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

کراچی کے نشیبی ساحلوں کا ڈوباؤ

ڈیفنس تا کورنگی کریک

عالمی بینک کے مطابق کراچی سمندر کی بڑھتی سطح کے خطرے کی فرنٹ لائن پر ہے۔ کلفٹن، فیز 8، ماہی گیر جزائر اور ملحقہ کچی آبادیاں طوفانی مدوجزر کے دوران مستقل نکاسی کے مسائل اور کٹاؤ کا سامنا کریں گی۔

انڈس ڈیلٹا میں کھارے پانی کی یلغار

ٹھٹھہ اور بدین

سمندر چڑھنے سے سندھ کی ساحلی پٹی میں زیرِ زمین میٹھے پانی کے ذخائر نمکین ہو رہے ہیں۔ زرخیز زرعی اراضی پہلے ہی بنجر ہو رہی ہے جس سے لاکھوں کسان اور ماہی گیر نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

مون سون اور اربن فلڈنگ کی شدت

ڈرینیج فالٹ

جب سمندر کی عمومی سطح بلند ہوگی تو شہر کے برساتی نالوں کا قدرتی اخراج رک جائے گا۔ تیز بارشوں کے دوران سمندر الٹا پانی شہر کی طرف دھکیلے گا جس سے کراچی میں سیلاب کی صورتِ حال بدترین ہو جائے گی۔

ساحلی انفراسٹرکچر اور پورٹس کو خطرہ

معاشی نقصان

کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی برتھوں سمیت بحری دفاعی تنصیبات کو اونچی لہروں سے بچانے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے حفاظتی پشتے تعمیر کرنے پڑیں گے، ورنہ ملکی تجارت براہِ راست متاثر ہوگی۔

اگر اس کا پگھلاؤ ہمسایہ گلیشیئرز کو بھی غیر مستحکم کر دے تو اس پورے خطے میں موجود برف بالآخر سمندر کی سطح تقریباً 3.3 میٹر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ عمل چند برسوں کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔

خطرہ اوپر نہیں، نیچے سے بڑھ رہا ہے

تھوائٹس کا بڑا حصہ ایک ایسی سمندری تہہ پر ٹِکا ہے جو اندرونِ براعظم کی طرف مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ یہی ساخت اسے خاص طور پر کمزور بناتی ہے۔

یعنی گرم اور نمکین سمندری پانی برف کے نیچے پہنچ کر اسے بنیادوں  سے پگھلاتا ہے۔

🌐

دنیا کے کون سے شہر سب سے پہلے متاثر ہوں گے؟

عالمی خطرے کا زون

جنوبی ایشیا: کراچی اور ممبئی

نشیبی گنجان آباد ساحل

بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع یہ دونوں گنجان ترین میٹروپولیٹن شہر اونچی لہروں، نکاسی کی بندش اور پینے کے پانی میں سمندری آمیزش کے سبب معاشی و انسانی سطح پر سب سے نازک ترین صورتِ حال کا شکار ہوں گے۔

جنوب مشرقی ایشیا: ڈھاکہ اور جکارتہ

ڈوبتے ہوئے ڈیلٹا

بنگلہ دیش کا ساحلی بیلٹ اور انڈونیشیا کی گنجان آبادیاں زمین کے قدرتی دھنسنے اور سمندر کے ابھار کے دوہرے عذاب میں ہیں۔ جکارتہ کا بڑا حصہ پہلے ہی زیرِ آب آنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

امریکی ساحلی پٹی: میامی اور نیویارک

کھربوں ڈالر کا اثاثہ

فلوریڈا کے پوروس چونا پتھر پر بسے شہر میامی میں سمندر نیچے سے ابل پڑتا ہے۔ معمولی لہریں بھی میامی بیچ کے گلی کوچوں کو ڈبو دیتی ہیں جبکہ نیویارک کے سب وے سسٹمز کو مستقل خطرہ لاحق رہے گا۔

مشرقِ وسطیٰ و افریقہ: اسکندریہ و نیل ڈیلٹا

تاریخی زرعی نقصان

بحیرہ روم کی سطح میں اضافہ مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ اور نیل کی زرخیز زرعی زمینوں کو کھارے پانی کے سمندر میں تبدیل کر کے خطے میں خوراک کی شدید قلت اور نقل مکانی پیدا کر سکتا ہے۔

2024ءمیں شائع تحقیق نے سیٹلائٹ ریڈار سے دکھایا کہ مدوجزر کے ساتھ سمندری پانی گلیشیئر کے نیچے کئی کلومیٹر اندر تک داخل ہو رہا ہے۔ 

بعض مقامات پر یہ پانی معمول کی ’گراؤنڈنگ زون‘ سے مزید تقریباً 6 کلومیٹر آگے پہنچا۔ سائنس دانوں کے مطابق اس سے برف پہلے کے اندازوں سے زیادہ حساس ہو سکتی ہے۔

2025ءکی تحقیق میں ایک اور حیران کن پہلو سامنے آیا کہ گلیشیئر کے نیچے موجود پانی جب خارج ہوا تو اس نے عارضی طور پر نیچے سے پگھلنے کی رفتار تقریباً دگنی کر دی۔

یعنی تھوائٹس کو صرف سمندر کی گرمی نہیں، اس کے اپنے نیچے چھپا آبی نظام بھی متاثر کر رہا ہے۔

اگر تھوائٹس پگھل گیا تو پھر کیا ہوگا؟

01

پہلا مرحلہ: 65 سینٹی میٹر کا براہِ راست سمندری ابھار

تھوائٹس کے مکمل پگھلاؤ کا فوری اثر یہ ہوگا کہ دنیا بھر کی ساحلی پٹیوں پر پانی اوسطاً 2 فٹ سے زائد بلند ہو جائے گا۔ دنیا کے ہر ساحلی قصبے کے نقشے بدلیں گے اور نشیبی بندرگاہیں مستقل طور پر جزوی زیرِ آب آ جائیں گی۔

02

دوسرا مرحلہ: ڈومینو اثر اور 3.3 میٹر کا طوفان

تھوائٹس کے غائب ہوتے ہی مغربی انٹارکٹیکا کا قدرتی دفاع ختم ہو جائے گا۔ اس کے ملحقہ گلیشیئرز جیسے پائن آئی لینڈ کی برفیلی دیواریں تیزی سے سمندر میں گریں گی، جس سے سمندری سطح میں مجموعی اضافہ 10 فٹ (3.3 میٹر) تک پہنچ سکتا ہے۔

03

تیسرا مرحلہ: صدیوں پر محیط عالمی جغرافیائی انخلا

برٹش انٹارکٹک سروے کے مطابق یہ تباہی کسی ایک رات میں نہیں بلکہ 21ویں اور 22ویں صدی کے تسلسل میں رونما ہوگی۔ ساحلی میٹروپولیٹن شہروں کو اندرونِ ملک منتقل کرنا پڑے گا جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی و پناہ گزین نقل مکانی ہوگی۔

تازہ تحقیق نے تشویش کیوں بڑھائی؟

2026ءمیں شائع ماڈلنگ تحقیق کے مطابق تھوائٹس کی برف کھونے کی رفتار 1990 کی دہائی کے مقابلے میں 5 گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

کچھ ماڈلز میں 2067 تک سالانہ برف کے نقصان کی شرح 180 سے 200 ارب ٹن تک پہنچتی دکھائی گئی، اگرچہ یہ ایک پیش گوئی ہے، یقینی نتیجہ نہیں۔

اسی سال ایک الگ تحقیق نے ایک انتہائی فرضی تجربہ کیا کہ اگر سمندر کے نیچے سے پگھلنا مکمل طور پر روک بھی دیا جائے، تب بھی ماڈلز میں تھوائٹس اگلے 150 برس تک برف کھوتا رہا، اگرچہ رفتار کم ہوتی گئی۔

اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ماضی میں شروع ہونے والی تبدیلیاں اب خود بھی اس نظام کو آگے دھکیل رہی ہیں۔

🔍

اصل خطرہ کہاں ہے؟ برف کے نیچے چھپی کہانی

سمندری خطرہ: ریٹروگریڈ سلوپ

الٹی ڈھلوان اور گرم پانی کی اندرونی سرنگیں

تھوائٹس گلیشیئر جس سمندری چٹان پر ٹکا ہے، وہ خشکی کی طرف جانے کے ساتھ نیچے کی جانب مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ اس جغرافیائی خامی کی وجہ سے گہرا، گرم اور نمکین سمندری پانی مدوجزر کے دباؤ کے تحت برف کے نیچے گراؤنڈنگ لائن سے کلومیٹر اندر تک گھس کر اسے بنیاد سے کاٹ رہا ہے، جس کے آگے کوئی قدرتی رکاوٹ موجود نہیں۔

اندرونی ہائیڈرولوجی: پگھلاؤ کا دگنا ہونا

زیرِ زمین میٹھے پانی کا تیز رفتار اخراج

2025 کی تحقیق نے ثابت کیا کہ خطرہ صرف سمندری پانی نہیں ہے، بلکہ گلیشیئر کے اپنے نیچے جمع ہونے والے میٹھے پانی کے تیز بہاؤ نے بھی نیچے سے پگھلنے کی رفتار کو عارضی طور پر دگنا کر دیا ہے۔ یہ اندرونی آبی نظام برف کو پھسلنے میں مدد دیتا ہے، جس سے گلیشیئر سمندر کی گہرائیوں میں تیزی سے سرک رہا ہے۔

لیکن اس تصویر کا رُخ صرف ایک نہیں ہے۔

برٹش انٹارکٹک سروے کے مطابق اگلی چند دہائیوں میں تھوائٹس کے اچانک ختم ہو جانے کا امکان کم ہے، کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی پسپائی جاری رہنے اور 21ویں و 22ویں صدی میں تیز ہونے کے شواہد مضبوط ہیں۔

کیا کراچی بھی اس کہانی میں شامل ہے؟

انٹارکٹیکا پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دُور ہے، مگر سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

عالمی سطحِ سمندر میں اضافہ کراچی، ٹھٹھہ، بدین اور انڈس ڈیلٹا جیسے نشیبی ساحلی علاقوں کے لیے زیادہ ساحلی سیلاب، کٹاؤ اور کھارے پانی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

عالمی بینک بھی کراچی اور پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بڑھتی سمندری سطح سے متاثرہ خطوں میں گنتا ہے۔

اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ تھوائٹس صرف برف کی ایک دیوار نہیں، بلکہ یہ زمین کے ساحلی مستقبل کا ایک بڑا امتحان ہے اور سوال یہ نہیں کہ یہ کل ٹوٹے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی مسلسل پسپائی دنیا کو آنے والی صدیوں میں کتنی تیزی سے بدل سکتی ہے۔

🧊 اصل ذرائع اور سائنسی تحقیق 🔬 PRIMARY SOURCES تھوائٹس گلیشیئر، سطحِ سمندر اور پاکستان کے ساحلی خطرات سے متعلق بنیادی تحقیقی اور ادارہ جاتی حوالہ جات 8 معتبر ذرائع
📰 اصل عربی خبر
الجزیرہ — تھوائٹس، دنیا کے ساحل بدلنے والا گلیشیئر اس فیچر رپورٹ کا بنیادی عربی ماخذ، جس میں تھوائٹس گلیشیئر کے حجم، جغرافیہ، پگھلاؤ، سمندری سطح میں اضافے اور اس پر ہونے والی تاریخی تحقیق کا تفصیلی جائزہ موجود ہے۔ بنیادی خبر اصل خبر کھولیں ↗
🌍 تھوائٹس پر عالمی تحقیقی پروگرام
British Antarctic Survey — International Thwaites Glacier Collaboration برطانیہ اور امریکا کے مشترکہ تحقیقی پروگرام کا سرکاری صفحہ۔ یہاں تھوائٹس کے تقریباً 4 فیصد عالمی سطحِ سمندر اضافے میں کردار، مکمل برف ختم ہونے کی صورت میں تقریباً 65 سینٹی میٹر اضافے اور مستقبل کی تحقیق کی تفصیل موجود ہے۔ United Kingdom United States سرکاری تحقیقی پروگرام تحقیقی پروگرام دیکھیں ↗ British Antarctic Survey — تھوائٹس کے مستقبل پر اہم سائنسی بریفنگ 2024 کی جامع سائنسی بریفنگ جس میں بتایا گیا کہ تھوائٹس کی پسپائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ مغربی انٹارکٹیکا کی پوری برفانی چادر میں اتنی برف موجود ہے جو عالمی سطحِ سمندر تقریباً 3.3 میٹر بڑھا سکتی ہے۔ United Kingdom اہم سائنسی بریفنگ اصل بریفنگ کھولیں ↗
🔬 اصل سائنسی تحقیقات
PNAS — تھوائٹس کے نیچے سمندری پانی کی دراندازی 2024 کی peer-reviewed تحقیق جس میں سیٹلائٹ ریڈار ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ مدوجزر کے دوران سمندری پانی گلیشیئر کے نیچے کئی کلومیٹر تک داخل ہو رہا ہے، جس سے گرم پانی کے باعث برف پگھلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ United States Peer-reviewed Research اصل تحقیق کھولیں ↗ Nature Communications — برف کے نیچے پانی نے پگھلاؤ دوگنا کردیا مارچ 2025 میں شائع تحقیق کے مطابق تھوائٹس کے نیچے موجود جھیل سے پانی کے اخراج کے ایک واقعے نے عارضی طور پر برفانی شیلف کے نیچے سمندری پگھلاؤ کی شرح تقریباً دوگنی کردی۔ Nature Communications اصل مقالہ کھولیں ↗ Geophysical Research Letters — اگلے 50 برس کا خطرہ مارچ 2026 میں شائع تحقیق کے مطابق تھوائٹس کی برف کھونے کی رفتار 1990 کی دہائی کے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ بعض ماڈلز 2067 تک سالانہ نقصان 180 سے 200 ارب ٹن تک پہنچنے کا امکان دکھاتے ہیں۔ 2026 Research اصل تحقیق کھولیں ↗ Geophysical Research Letters — پگھلاؤ رک بھی جائے تو؟ جولائی 2026 کی تحقیق میں ایک انتہائی فرضی ماڈل کے ذریعے سمندر سے ہونے والا پگھلاؤ صفر کردیا گیا، مگر تھوائٹس پھر بھی تقریباً 150 برس تک برف کھوتا رہا۔ تحقیق ماضی میں شروع ہونے والی تبدیلیوں کے طویل اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ United Kingdom تازہ تحقیق 2026 اصل مقالہ کھولیں ↗
🇵🇰 پاکستان اور سمندر کی بڑھتی سطح
World Bank — پاکستان کے لیے Sea Level Projections پاکستان کے Exclusive Economic Zone کے لیے مستقبل میں سمندر کی سطح بڑھنے، ساحلی سیلاب، زیرِ آب آنے والے علاقوں اور کھارے پانی کی دراندازی سے متعلق IPCC اور NASA ڈیٹا پر مبنی پروجیکشنز۔ Pakistan پاکستانی تناظر پاکستانی ڈیٹا دیکھیں ↗
📌 ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں اصل الجزیرہ رپورٹ کے ساتھ British Antarctic Survey، International Thwaites Glacier Collaboration، PNAS، Nature Communications، Geophysical Research Letters اور World Bank Climate Change Knowledge Portal کے بنیادی تحقیقی اور ادارہ جاتی ذرائع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ SOURCE WIDGET BY: overseaspost.net