تقریباً 80 سائنسدانوں اور معاون عملے پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم تحقیقی جہاز ڈیوڈ ایٹنبرو کے ذریعے گرین لینڈ روانہ ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
اس 5 سے 6 ہفتے طویل مشن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا گرین لینڈ میں تیزی سے پگھلتی برف بحر اوقیانوس کے اہم سمندری کرنٹ کے نظام کو متاثر کر رہی ہے۔
یہ اہم سائنسی مہم برطانیہ سے روانہ ہوئی ہے، جہاں حال ہی میں جون تاریخ کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مغربی یورپ میں شدید گرمی کی لہر کے باعث بجلی کا نظام درہم برہم
ہو چکا ہے، تعلیمی ادارے بند رہے اور اموات کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس مشن کی قیادت برٹش انٹارکٹک سروے کی میرین جیو فزکس ماہر کیلی ہوگن کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ گرمی کی لہروں نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی معاشروں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے معمولی اثرات سے مطابقت پیدا کرنا بھی ایک انتہائی مشکل اور چیلنجنگ مرحلہ بن چکا ہے۔
یہ تحقیقی سفر 20 ملین پاؤنڈ مالیت کے پروجیکٹ ’جاینٹ‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد گرین لینڈ کی برفانی تہوں اور بحر اوقیانوس کے اہم ٹپنگ پوائنٹس کو سمجھنا ہے۔
سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ برف کے تودے ٹوٹ کر سمندر میں گرنے سے کیا ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ برف پگھلنے سے سمندر میں شامل ہونے والا تازہ پانی اس سمندری کرنٹ کے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے جو یورپ کے موسم کو متوازن رکھتا ہے۔
گرین لینڈ کی برفانی تہیں اور موسمیاتی خطرات
عالمی سائنسدانوں کا اہم ترین بحری مشن روانہ
بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم گرین لینڈ میں تیزی سے پگھلتی برف اور بحر اوقیانوس کے سمندری کرنٹ پر اس کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
🚢 سائنسی مہم
80عالمی ماہرین اور معاون عملہ جدید ترین تحقیقی جہاز کے ذریعے روانہ۔
⏳ مشن کی مدت
5-6ہفتوں طویل سفر جس کے دوران برفانی تہوں کے ٹوٹنے کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔
💰 مالیاتی حجم
20ملین پاؤنڈ مالیت کا پروجیکٹ 'جاینٹ' جو ماحولیاتی ماڈلز کو بہتر بنائے گا۔
🚨 ٹپنگ پوائنٹس
1مرکزی ہدف جس کا مقصد سمندر میں شامل ہونے والے تازہ پانی کے اثرات جاننا ہے۔
📉 گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار
توقع سے تیز🌍 یورپ کا موسم متوازن رکھنے والا نظام
شدید خطرے میں⚠️ عالمی سطحِ سمندر کا مستقبل
نمایاں اضافہاوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس خلل کے نتیجے میں شدید موسمیاتی واقعات اور سطح سمندر میں اضافے جیسے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جہاز کے کپتان میٹ نیل، جو 2011 سے موسمیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بدلتے ہوئے حالات میں درست ڈیٹا اکٹھا کرنا اور ماحولیاتی ماڈلز کو بہتر بنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران جمع کیا گیا ڈیٹا اگلی نسل کے کلائمیٹ ماڈلز اور گلیشیئرز کے ٹوٹنے کے ابتدائی انتباہی نظام کو تیار کرنے میں استعمال ہوگا۔
یہ تحقیق مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔