براہ راست نشریات

شرح برقرار، خطرہ بڑھ گیا، فیڈ کےتین ارکان فوری اضافے کے حامی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Federal Reserve interest rate decision

مارکیٹس کی توجہ اب 16 ستمبر کے اجلاس اور آئندہ مہنگائی و ملازمتوں کے اعداد پر ہے

امریکی فیڈرل ریزرو نے مسلسل پانچویں اجلاس میں شرحِ سود تبدیل نہیں کی۔
تاہم 9 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے ہونے والے فیصلے میں 3 پالیسی سازوں نے چوتھائی فیصد اضافے کا مطالبہ کیا۔
چیئرمین کیون وارش نے واضح کردیا کہ مہنگائی کا ہدف صرف 2 فیصد ہے، جس کے بعد ستمبر کا اجلاس عالمی مارکیٹس کے لیے فیصلہ کن بن گیا ہے۔

سعودی وقت کے مطابق آج رات 9 بجے امریکی فیڈرل ریزرو نے وہی فیصلہ سنایا جس کی بیشتر ماہرین کو توقع تھی: 

شرحِ سود تبدیل نہیں کی گئی۔ 

لیکن اصل خبر فیصلے میں نہیں، اس کے حق اور مخالفت میں ڈالے گئے ووٹوں میں چھپی تھی۔

فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 12 میں سے 3 ارکان نے شرح برقرار رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا مطالبہ کیا۔ 

یوں فیصلہ 9 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے منظور ہوا۔

اس اختلاف نے واضح کردیا کہ فیڈرل ریزرو نے اگرچہ جولائی میں شرح نہیں بڑھائی، لیکن مہنگائی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی۔ 

اگلا اجلاس، جو ستمبر میں ہوگا، اب عالمی مارکیٹس کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم بن گیا ہے۔

مزید پڑھیں

فیڈرل ریزرو نے مسلسل پانچویں اجلاس میں اپنی بنیادی شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھی ہے۔ مگر 3 اختلافی ووٹوں نے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے دیا کہ شرح برقرار رہنے کو نرم مالیاتی پالیسی یا مستقبل میں کمی کا آغاز نہیں سمجھا جاسکتا۔

شرح میں اضافے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک، منیاپولس فیڈ کے صدر نیل کشکاری اور ڈیلس فیڈ

 کی صدر لوری لوگن شامل ہیں۔

یہی تینوں پالیسی ساز اپریل کے اجلاس میں بھی فیڈرل ریزرو کے نسبتاً نرم اشارے سے اختلاف کرچکے تھے۔ 

مگر اس مرتبہ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے باقاعدہ طور پر شرح میں چوتھائی فیصد اضافے کی حمایت کی۔

6 اہم نکات
  1. امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔
  2. یہ مسلسل پانچواں اجلاس ہے جس میں شرحِ سود تبدیل نہیں کی گئی۔
  3. فیصلہ 9 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے منظور ہوا۔
  4. تین ارکان نے شرح میں فوری طور پر 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی حمایت کی۔
  5. چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ مہنگائی کا ہدف صرف 2 فیصد ہے۔
  6. مارکیٹس کی توجہ اب 16 ستمبر کے اگلے اجلاس پر منتقل ہوگئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 9 کے مقابلے میں 3 کا ووٹ محض رسمی اختلاف نہیں۔ 

یہ فیڈرل ریزرو کے اندر بدلتی سوچ کا اشارہ ہے۔ 

کمیٹی کا ایک قابلِ ذکر حصہ اب سمجھتا ہے کہ موجودہ شرح مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف تک واپس لانے کے لیے کافی نہیں۔

فیصلے سے پہلے مارکیٹس تقریباً ایک تہائی امکان دیکھ رہی تھیں کہ فیڈرل ریزرو جولائی میں ہی شرح بڑھا دے گا۔ 

دوسری طرف رائٹرز کے سروے میں شریک تمام 104 ماہرین نے شرح برقرار رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

فیصلہ ماہرین کی توقع کے مطابق آیا، مگر اندرونی اختلاف توقع سے زیادہ اہم ثابت ہوا۔

فیڈرل ریزرو نے شرح کیوں نہیں بڑھائی؟

شرح برقرار رکھنے کے پیچھے 3 بڑی وجوہ دکھائی دیتی ہیں۔

پہلی وجہ جون میں مہنگائی کی رفتار میں آنے والی کمی ہے۔ 

امریکا میں سالانہ صارف مہنگائی مئی کے 4.2 فیصد سے کم ہوکر جون میں 3.5 فیصد رہ گئی۔ اگرچہ یہ اب بھی فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد ہدف سے زیادہ ہے، لیکن ایک ہی اجلاس میں فوری کارروائی کے بجائے مزید اعدادوشمار کا انتظار کرنے کی گنجائش پیدا ہوگئی۔

فیکٹ باکس
  1. فیصلہ: شرحِ سود برقرار
  2. موجودہ شرح: 3.50 سے 3.75 فیصد
  3. ووٹنگ: 9 ارکان حمایت، 3 مخالفت
  4. اختلافی مطالبہ: 25 بیسس پوائنٹس اضافہ
  5. مہنگائی کا ہدف: 2 فیصد
  6. اگلا اجلاس: 16 ستمبر 2026
  7. اختلاف کرنے والے ارکان: بیتھ ہیمک، نیل کشکاری اور لوری لوگن

دوسری وجہ امریکی لیبر مارکیٹ ہے۔ 

جون میں صرف 57 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد رہی۔ شرح بڑھانے سے قرض مزید مہنگا ہوتا، جس سے کمپنیوں کی سرمایہ کاری، نئی بھرتیوں، مکانات کی خریداری اور صارف اخراجات پر اضافی دباؤ پڑسکتا تھا۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی کا ایک بڑا حصہ توانائی اور رسد کے جھٹکوں سے جڑا ہوا ہے۔ 

بلند شرحِ سود صارفین کی طلب کم کرسکتی ہے، لیکن وہ آبنائے ہرمز کھول نہیں سکتی، تیل کی بند سپلائی بحال نہیں کرسکتی اور جنگ سے متاثرہ جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ نہیں بناسکتی۔

اسی لیے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ توانائی کے جھٹکے کے جواب میں شرح بڑھانا معیشت کو نقصان تو پہنچا سکتا ہے، مگر تیل کی بنیادی قلت کو حل نہیں کرسکتا۔

بیان میں تبدیلی نہیں، مگر ووٹ نے سب کچھ بدل دیا

فیڈرل ریزرو نے اپنے جولائی کے بیان میں امریکی معیشت کے متعلق جون کے جائزے کو تقریباً لفظ بہ لفظ برقرار رکھا۔

مرکزی بینک نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیاں مضبوط رفتار سے بڑھ رہی ہیں، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بہتری ہے، ملازمتوں میں اضافہ افرادی قوت کی رفتار کے مطابق ہے اور بے روزگاری کی شرح میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ

فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود برقرار رکھ کر امریکی معیشت اور لیبر مارکیٹ کو مزید وقت دیا ہے، لیکن 9 کے مقابلے میں 3 کا منقسم فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کے خلاف صبر کم ہورہا ہے۔

تین ارکان کی جانب سے فوری اضافے کا مطالبہ معمولی اختلاف نہیں بلکہ فیڈرل ریزرو کے اندر سخت مالیاتی پالیسی کی بڑھتی حمایت کا اشارہ ہے۔

جولائی کا فیصلہ وقتی وقفہ ہے۔ اگر تیل مہنگا رہا اور اگلے دو ماہ میں مہنگائی دوبارہ بڑھی تو ستمبر میں شرحِ سود میں اضافہ مضبوط ترین امکان بن سکتا ہے۔

مگر فیڈرل ریزرو نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مہنگائی بدستور اس کے 2 فیصد ہدف سے بلند ہے اور توانائی سمیت بعض شعبوں میں رسد کے جھٹکے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

اگر صرف بیان دیکھا جائے تو جولائی کا فیصلہ جون سے زیادہ مختلف نہیں۔ 

لیکن جون میں شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ متفقہ تھا، جبکہ جولائی میں 3 ارکان نے کھل کر اضافے کا مطالبہ کردیا۔ یہی تبدیلی مستقبل کی پالیسی کے لیے سب سے اہم اشارہ ہے۔

کیون وارش: مہنگائی کا ہدف صرف 2 فیصد

فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے پریس کانفرنس میں کسی نرم پالیسی کا وعدہ نہیں کیا۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی بینک نے مہنگائی کے لیے کوئی غیرعلانیہ یا نرم ہدف مقرر نہیں کیا۔

ان کے مطابق فیڈرل ریزرو کا ہدف صرف 2 فیصد ہے اور مسلسل 5 سال سے بلند مہنگائی کا مسئلہ چند ہفتوں یا ایک ماہ کے بہتر اعدادوشمار سے ختم نہیں ہوسکتا۔

!
یہ کیوں اہم ہے؟
  1. امریکی شرحِ سود دنیا بھر میں قرض، سرمایہ کاری اور کرنسیوں کی سمت متاثر کرتی ہے۔
  2. شرح برقرار رہنے کے باوجود قرض فوری طور پر سستا ہونے کا امکان محدود ہے۔
  3. تین اختلافی ووٹ ستمبر میں ممکنہ اضافے کی طرف واضح اشارہ ہیں۔
  4. بلند امریکی شرح پاکستان جیسی ابھرتی معیشتوں سے سرمایہ باہر لے جاسکتی ہے۔
  5. ڈالر، سونا، بانڈز اور عالمی اسٹاک مارکیٹس اگلے اعدادوشمار پر زیادہ حساس رہیں گی۔

وارش نے شرح کے آئندہ راستے کی واضح پیش گوئی دینے سے انکار کیا، لیکن کہا کہ ضرورت پڑنے پر فیڈرل ریزرو کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

یہ پیغام بظاہر متوازن، مگر اندر سے سخت تھا۔ 

فیڈرل ریزرو نے جولائی میں شرح نہیں بڑھائی، لیکن چیئرمین نے مارکیٹس کو یہ اطمینان بھی نہیں دلایا کہ اضافہ ٹل گیا ہے۔

ستمبر اب اگلا فیصلہ کن میدان

جولائی کا اجلاس ختم ہوتے ہی مارکیٹس کی توجہ 16 ستمبر کے اجلاس پر منتقل ہوگئی ہے۔

فیصلے سے پہلے فیوچرز مارکیٹ اس صورت میں ستمبر میں اضافے کا تقریباً مکمل امکان دیکھ رہی تھی کہ جولائی میں شرح برقرار رہتی ہے۔ اب 3 اختلافی ووٹ اس امکان کو مزید سنجیدہ بناتے ہیں۔

سونے اور مارکیٹس پر اثر
  1. شرح برقرار رہنا سونے کے لیے فوری طور پر نسبتاً مثبت خبر ہے۔
  2. تین اختلافی ووٹ اور ستمبر میں اضافے کا خطرہ سونے کی تیزی محدود کرسکتا ہے۔
  3. مہنگائی میں کمی سونے کو دوبارہ 4,100 ڈالر کی طرف لے جاسکتی ہے۔
  4. بلند بانڈ منافع اور ممکنہ شرح اضافہ سونے کو 4,000 ڈالر سے نیچے دھکیل سکتا ہے۔
  5. فیصلے کے بعد ڈالر کمزور ہوا، جبکہ امریکی حصص مجموعی طور پر دباؤ میں رہے۔
  6. تیل اور آئندہ امریکی مہنگائی رپورٹ مارکیٹس کی اگلی سمت متعین کریں گے۔

ستمبر سے پہلے فیڈرل ریزرو کو مہنگائی اور ملازمتوں کی دو مزید ماہانہ رپورٹس مل جائیں گی۔ 

اگر جولائی اور اگست میں مہنگائی دوبارہ بڑھتی ہے، تیل مہنگا رہتا ہے اور لیبر مارکیٹ شدید کمزوری سے بچی رہتی ہے تو شرح میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ مضبوط ترین امکان بن سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر بنیادی مہنگائی تیزی سے 2 فیصد کے قریب آنے لگتی ہے یا ملازمتوں کی صورتحال اچانک خراب ہوتی ہے تو فیڈرل ریزرو ایک مرتبہ پھر انتظار کرسکتا ہے۔

ایک ماہر نے رائٹرز کو بتایا کہ ستمبر میں اضافہ روکنے کے لیے لیبر مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ یا بنیادی مہنگائی میں توقع سے کہیں زیادہ کمی ضروری ہوگی۔

اس لیے جولائی کا فیصلہ اختتام نہیں، صرف مہلت ہے۔

ڈالر کمزور، اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں

فیصلے کے فوری بعد امریکی حصص نے اپنے کچھ نقصانات کم کیے اور شرح کے لیے حساس دو سالہ بانڈز کے منافع میں پہلے آنے والی تیزی محدود ہوگئی۔ 

ڈالر بھی بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں نیچے آیا۔

سعودی عرب کے لیے کیا مطلب ہے؟
  1. امریکا میں شرح برقرار رہنے سے سعودی عرب پر فوری نئے اضافے کا براہِ راست دباؤ پیدا نہیں ہوا۔
  2. سعودی ریال ڈالر سے منسلک ہونے کے باعث امریکی بلند شرح کا اثر مقامی مالیاتی حالات تک پہنچتا ہے۔
  3. گھر، گاڑی اور کاروباری فنانسنگ فوری طور پر سستی ہونے کا امکان محدود رہے گا۔
  4. بینک ڈپازٹس اور بعض بچت مصنوعات پر بہتر منافع برقرار رہ سکتا ہے۔
  5. ستمبر میں امریکی شرح بڑھنے سے سعودی مالیاتی پالیسی پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
  6. بلند تیل قیمتیں آمدنی کے لیے مثبت، مگر علاقائی کشیدگی کاروبار کے لیے خطرہ ہے۔

دستیاب مارکیٹ اعداد کے مطابق:

  • ڈاؤ جونز انڈیکس تقریباً 1.55 فیصد نیچے تھا۔
  • ایس اینڈ پی 500 میں تقریباً 0.50 فیصد کمی آئی۔
  • نیسڈیک تقریباً 0.37 فیصد کم ہوا۔
  • دو سالہ امریکی بانڈ کا منافع 4.277 فیصد کے قریب رہا۔
  • دس سالہ بانڈ کا منافع بڑھ کر تقریباً 4.641 فیصد ہوگیا۔
  • ڈالر انڈیکس 0.25 فیصد کم ہوکر 101.17 کے قریب آگیا۔

تاہم اسٹاک مارکیٹ کی تمام گراوٹ کو صرف فیڈرل ریزرو سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ 

مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کی بھاری سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نتائج اور مشرق وسطیٰ کی جنگ بھی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہورہی تھی۔

اسی دوران جنگی کشیدگی اور امریکی تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا۔ 

یہ اضافہ فیڈرل ریزرو کے لیے نئی پریشانی ہے کیونکہ مہنگا تیل ستمبر تک قیمتوں کے دباؤ کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ 

سونے کے لیے راحت بھی، خطرہ بھی

سونا فیصلے سے پہلے تقریباً 4117 ڈالر فی اونس کے قریب آگیا تھا۔ 

بلند امریکی بانڈ منافع، مضبوط ڈالر اور شرح بڑھنے کے خدشات نے قیمت پر دباؤ ڈالا تھا۔

شرح برقرار رہنا اصولی طور پر سونے کے لیے ایک مختصر مثبت خبر ہے، کیونکہ فوری طور پر اس پر مزید بلند شرح کا بوجھ نہیں پڑا۔ 

لیکن 3 اختلافی ووٹ اور ستمبر میں اضافے کا خطرہ سونے کی تیزی کو محدود کرسکتا ہے۔

پاکستان اور پاکستانیوں پر اثر
  1. شرح برقرار رہنا پاکستان کے لیے فوری طور پر نسبتاً کم نقصان دہ فیصلہ ہے۔
  2. ستمبر میں ممکنہ اضافہ پاکستانی روپے پر نیا دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔
  3. مہنگا تیل پاکستان کا درآمدی بل اور زرمبادلہ کی ضرورت بڑھا سکتا ہے۔
  4. ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور درآمدی اشیا مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔
  5. کمزور روپیہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات کی مالیت بڑھا سکتا ہے، مگر مہنگائی فائدہ محدود کردے گی۔
  6. مقامی سونے کی قیمت عالمی نرخ کے ساتھ ڈالر اور روپے کی قدر سے بھی متاثر ہوگی۔

سونے کے سامنے اب دو مخالف قوتیں ہیں:

  • جنگ، مہنگا تیل اور جغرافیائی خطرات اسے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دیتے ہیں۔
  • ممکنہ امریکی شرح اضافہ اور بلند بانڈ منافع اسے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔

اگر آنے والی امریکی مہنگائی رپورٹ توقع سے نرم آتی ہے تو سونا دوبارہ 4,100 ڈالر کی سطح عبور کرسکتا ہے۔ 

لیکن مہنگائی میں نئی تیزی اور ستمبر میں شرح بڑھنے کے پختہ اشارے اسے 4,000 ڈالر سے نیچے بھی لے جاسکتے ہیں۔

اسی لیے سونے کی اصل سمت فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے زیادہ آنے والے مہنگائی کے اعداد، تیل کی قیمت اور امریکی بانڈ منافع طے کریں گے۔

سعودی عرب کے لیے کیا مطلب ہے؟

فیڈرل ریزرو نے شرح تبدیل نہیں کی، اس لیے اس فیصلے سے سعودی مالیاتی پالیسی پر کسی فوری نئے اضافے کا براہِ راست دباؤ پیدا نہیں ہوا۔

لیکن سعودی ریال ڈالر سے منسلک ہونے کے باعث امریکی بلند شرح کا ماحول سعودی عرب میں بھی قرض اور فنانسنگ کی لاگت کو بلند رکھ سکتا ہے۔ 

اگر ستمبر میں فیڈرل ریزرو شرح بڑھاتا ہے تو سعودی مرکزی بینک کے لیے بھی عالمی مالیاتی حالات کے مطابق مناسب قدم اٹھانے کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟
  1. ستمبر سے پہلے مہنگائی اور ملازمتوں کی دو مزید ماہانہ رپورٹس جاری ہوں گی۔
  2. مہنگائی دوبارہ بڑھنے کی صورت میں شرح میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ ہوسکتا ہے۔
  3. تیل کی بلند قیمتیں فیڈرل ریزرو کو مزید سخت پالیسی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔
  4. لیبر مارکیٹ میں شدید کمزوری شرح میں اضافہ مؤخر کرسکتی ہے۔
  5. امریکی بانڈ منافع اور ڈالر ستمبر کی توقعات کے مطابق حرکت کریں گے۔
  6. اگلا بڑا فیصلہ 16 ستمبر کے اجلاس میں سامنے آئے گا۔

سعودی صارفین اور کاروباروں کے لیے اس کا مطلب ہے:

  • گھروں اور کاروبار کے لیے فنانسنگ فوری طور پر سستی ہونے کا امکان محدود رہے گا۔
  • قرض استعمال کرنے والی کمپنیوں کی لاگت بلند رہ سکتی ہے۔
  • بینک ڈپازٹس اور بعض بچت مصنوعات پر بہتر منافع برقرار رہ سکتا ہے۔
  • بینکوں کو بلند شرح سے فائدہ ہوسکتا ہے، مگر قرض کی طلب کم ہونے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔

دوسری طرف بلند تیل قیمتیں سعودی آمدنی کے لیے مثبت ہوسکتی ہیں، لیکن جنگ اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں سے علاقائی کاروبار، جہاز رانی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر اثر

فیڈرل ریزرو کا شرح برقرار رکھنا پاکستان کے لیے فوری طور پر نسبتاً کم نقصان دہ نتیجہ ہے، کیونکہ ڈالر پر نئی بلند شرح کا اضافی دباؤ نہیں آیا۔

لیکن ستمبر میں اضافے کا خطرہ اور تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد تیزی پاکستان کے لیے اصل تشویش ہے۔

ایک منٹ میں کہانی

امریکی فیڈرل ریزرو نے مسلسل پانچویں اجلاس میں شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھی، لیکن فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ تین ارکان نے فوری طور پر چوتھائی فیصد اضافے کا مطالبہ کیا۔

یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کے اندر مہنگائی کے خلاف سخت پالیسی کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ چیئرمین کیون وارش نے بھی واضح کیا کہ مرکزی بینک کا مہنگائی ہدف صرف 2 فیصد ہے۔

شرح برقرار رہنے سے مارکیٹس کو وقتی راحت ملی، مگر ستمبر میں اضافے کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ اگلے دو ماہ کے مہنگائی، ملازمتوں اور تیل کے اعداد اگلے فیصلے کی سمت طے کریں گے۔

پاکستان تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ مہنگا تیل:

  • درآمدی بل میں اضافہ کرسکتا ہے۔
  • زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
  • روپے کی قدر کو متاثر کرسکتا ہے۔
  • بجلی، ایندھن اور ٹرانسپورٹ مہنگی کرسکتا ہے۔
  • مقامی مہنگائی میں نئی تیزی پیدا کرسکتا ہے۔

اگر ستمبر میں امریکی شرح بڑھتی ہے تو سرمایہ امریکی ڈالر اور بانڈز کی طرف منتقل ہوسکتا ہے، جس سے پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کی کرنسیوں اور مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھے گا۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے کمزور روپیہ ترسیلات کی روپے میں مالیت بڑھا سکتا ہے، مگر یہ فائدہ اکثر مقامی مہنگائی، مہنگے ایندھن اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے کم ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت بھی صرف عالمی نرخ سے طے نہیں ہوتی۔ 

اگر عالمی سونا کم ہوجائے، مگر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہو تو مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بدستور بلند رہ سکتی ہے۔

فیصلہ ہوچکا، مگر خطرہ باقی ہے

فیڈرل ریزرو نے جولائی میں شرح بڑھانے سے گریز کرکے معیشت اور لیبر مارکیٹ کو مزید وقت دیا ہے۔ 

لیکن 9 کے مقابلے میں 3 کا ووٹ ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی بینک کے اندر مہنگائی کے خلاف صبر کم ہورہا ہے۔

شرح برقرار رہنے سے قرض لینے والوں اور مارکیٹس کو وقتی راحت ملی، مگر یہ راحت غیرمشروط نہیں۔ 

اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور اگلے دو ماہ میں مہنگائی دوبارہ بڑھی تو ستمبر کا اجلاس جولائی سے کہیں زیادہ سخت فیصلہ لاسکتا ہے۔

جولائی کی رات کا سب سے اہم نتیجہ یہی ہے: 

فیڈرل ریزرو نے شرح نہیں بڑھائی، مگر اس نے مستقبل کے اضافے کا دروازہ پوری طرح کھلا رکھا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ جولائی میں کیا ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ستمبر تک مہنگائی، تیل اور ملازمتوں کے اعداد فیڈرل ریزرو کو کس سمت لے جائیں گے۔

🏛️

اصل اور بنیادی ذرائع

فیڈرل ریزرو کے 29 جولائی فیصلے، اختلافی ووٹ، امریکی معیشت اور عالمی مارکیٹ کے مستند ذرائع

10 بنیادی ذرائع
فیڈرل ریزرو کا اصل فیصلہ
امریکی فیڈرل ریزرو — 29 جولائی کا اصل بیان شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے، 9 کے مقابلے میں 3 ووٹوں اور شرح بڑھانے کی حمایت کرنے والے تین پالیسی سازوں کا بنیادی سرکاری ماخذ۔ سب سے اہم سرکاری ماخذ
اصل فیصلہ ↗
فیڈرل ریزرو — فیصلے پر عمل درآمد کی تفصیلات ریزرو بیلنس پر 3.65 فیصد، اوور نائٹ ریپو پر 3.75 فیصد، ریورس ریپو پر 3.50 فیصد اور بنیادی کریڈٹ پر 3.75 فیصد شرح کی تفصیلات۔ سرکاری Implementation Note
تفصیلات پڑھیں ↗
فیصلہ، اختلافی ووٹ اور ستمبر
رائٹرز — فیصلے، اختلافی ووٹ اور ستمبر کا امکان تین علاقائی فیڈ صدور کے فوری اضافے کے مطالبے، سخت پالیسی کی بڑھتی حمایت اور ستمبر میں ممکنہ شرح اضافے کی تفصیلی رپورٹ۔ بنیادی صحافتی رپورٹ
اصل رپورٹ ↗
کیون وارش — مہنگائی کا ہدف صرف 2 فیصد چیئرمین کیون وارش کی جانب سے غیرعلانیہ نرم ہدف کی تردید، پانچ سالہ مہنگائی کے مسئلے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کے مؤقف کی تفصیلات۔ پریس کانفرنس کی رپورٹ
بیان پڑھیں ↗
امریکی مہنگائی اور لیبر مارکیٹ
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس — جون کی مہنگائی سالانہ مہنگائی 3.5 فیصد، بنیادی مہنگائی 2.6 فیصد، توانائی میں 15.7 فیصد اور پٹرول کی قیمتوں میں 26.7 فیصد اضافے کے سرکاری اعداد۔ سرکاری مہنگائی ڈیٹا
اصل اعداد ↗
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس — ملازمتوں کی رپورٹ جون میں 57 ہزار نئی ملازمتیں، 4.2 فیصد بے روزگاری، افرادی قوت میں 7 لاکھ 20 ہزار اور مجموعی روزگار میں 5 لاکھ 7 ہزار کی کمی کے اعداد۔ سرکاری روزگار ڈیٹا
رپورٹ پڑھیں ↗
عالمی مارکیٹس کا ابتدائی ردعمل
رائٹرز — حصص، بانڈز، ڈالر اور تیل ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500، ڈالر انڈیکس، دس سالہ امریکی بانڈ منافع اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران تیل کی قیمتوں کے ابتدائی ردعمل کا بنیادی ماخذ۔ عالمی مارکیٹ رپورٹ
مارکیٹس دیکھیں ↗
رائٹرز — ڈالر کا ردعمل ڈالر انڈیکس میں تقریباً 0.3 فیصد کمی، یورو اور پاؤنڈ میں اضافے اور ستمبر کے فیصلے کی طرف منتقل ہوتی کرنسی مارکیٹ کی توجہ۔ عالمی کرنسی مارکیٹ
رپورٹ پڑھیں ↗
رائٹرز — فیصلے سے قبل سونے کی پوزیشن سونے کا چار ہزار ڈالر فی اونس کے قریب رہنا، بلند بانڈ منافع، مضبوط ڈالر اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات۔ سونے کی مارکیٹ
اصل رپورٹ ↗
فیصلے سے قبل ماہرین کی توقع
رائٹرز — 104 ماہرینِ اقتصادیات کا سروے فیصلے سے قبل سروے میں شریک تمام 104 ماہرین کی جانب سے شرحِ سود برقرار رہنے کی متفقہ پیش گوئی۔ فیصلے سے قبل اتفاقِ رائے
سروے پڑھیں ↗
SOURCES • overseaspost.net