رائٹرز کے سروے
میں تمام 104
ماہرین نے شرح
برقرار رہنے کی
توقع ظاہر کی
یہ امکان اتنا ضرور ہے کہ سرمایہ کار کسی حیران کن فیصلے کے لیے تیار رہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
اگر فیڈرل ریزرو شرح بڑھاتا ہے تو نیا دائرہ 3.75 سے 4.00 فیصد ہوجائے گا۔
اگر شرح برقرار رہتی ہے تو مارکیٹ کی توجہ فوری طور پر فیصلے کے ساتھ جاری ہونے والے بیان، اختلاف کرنے والے ارکان کی تعداد اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی پریس کانفرنس پر منتقل ہوجائے گی۔
اس لیے ممکن ہے اصل حیرت شرح کے عدد میں نہیں بلکہ اس پیغام میں ہو جو فیڈرل ریزرو اپنے فیصلے کے ساتھ دے گا۔
فیڈرل ریزرو کے سامنے پہلی بڑی مشکل توانائی کی قیمتیں ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے متعلق تازہ خدشات کے دوران خام تیل برینٹ کی قیمت آج 3 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 87.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یہ اضافہ شدید اتار چڑھاؤ کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے۔
گزشتہ ہفتے تیل بردار جہازوں پر حملوں اور خطے سے تیل کی برآمدی گزرگاہوں کے متاثر ہونے کے خدشات کے باعث برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔
تیل کی قیمت بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ فیڈرل ریزرو لازماً شرحِ سود بھی بڑھا دے گا۔ مرکزی بینک عام طور پر توانائی کی عارضی مہنگائی کو نظرانداز کرسکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں یقین ہو کہ قیمتیں جلد واپس آجائیں گی۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عارضی جھٹکا طویل مہنگائی میں تبدیل ہونے لگے۔ مہنگا تیل نقل و حمل، پیداوار، بجلی، خوراک اور روزمرہ اشیا کی لاگت بڑھاتا ہے۔
اس کے بعد بلند قیمتیں صارفین کی توقعات، اجرتوں اور کاروباری فیصلوں میں شامل ہونے لگتی ہیں۔
فیڈرل ریزرو کی جولائی میں جاری ہونے والی مالیاتی پالیسی رپورٹ کے مطابق رواں سال مہنگائی میں اضافہ ہوا اور وہ مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے بدستور بلند ہے۔
رپورٹ نے توانائی سمیت بعض شعبوں میں قیمتوں کے اضافے کی ایک وجہ رسد کے جھٹکوں کو قرار دیا۔
مارکیٹ اب بھی
شرح میں 25
بیسس پوائنٹس
اضافے کا
تقریباً 30 فیصد
امکان دیکھ
رہی ہے
مہنگائی کم ہوئی، مگر
دوسری طرف فیڈرل ریزرو کو کچھ حوصلہ افزا اعدادوشمار بھی ملے ہیں۔
امریکا میں صارف قیمتوں کی سالانہ مہنگائی جون میں کم ہوکر 3.5 فیصد رہ گئی، جو مئی میں 4.2 فیصد تھی۔
ماہرین اقتصادیات کے اندازوں کے مطابق بنیادی پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر انڈیکس بھی کم ہوکر تقریباً 3.3 فیصد رہا۔
یہ اعداد شرحِ سود برقرار رکھنے کے حق میں جاتے ہیں، مگر فیڈرل ریزرو کو مکمل اطمینان نہیں دلاتے۔
مہنگائی اب بھی 2 فیصد کے ہدف سے واضح طور پر زیادہ ہے۔
پالیسی ساز نہیں جانتے کہ جون میں ہونے والی کمی مستقل رجحان کا آغاز ہے یا تیل کی مہنگائی کے اگلے اثرات سے پہلے ایک مختصر وقفہ۔
آج کے فیصلے کی اصل پیچیدگی یہی ہے۔
شرحِ سود ابھی بڑھانا غیرضروری ثابت ہوسکتا ہے اگر مہنگائی کم ہونے کا سلسلہ جاری رہا، لیکن زیادہ انتظار تیل کے جھٹکے کو مہنگائی کی نئی لہر میں بدلنے کا موقع بھی دے سکتا ہے۔
کمزور ملازمتیں سخت فیصلے کی قیمت بڑھا رہی ہیں
فیڈرل ریزرو کے سامنے دوسری مشکل امریکی لیبر مارکیٹ کی رفتار میں کمی ہے۔
جون میں امریکی معیشت میں صرف 57 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد پر برقرار رہی۔
یہ اعداد لیبر مارکیٹ کے انہدام کی نشاندہی نہیں کرتے، لیکن ظاہر کرتے ہیں کہ ملازمتوں کی مضبوط رفتار کمزور پڑ رہی ہے۔
شرحِ سود میں اضافہ کمپنیوں اور صارفین دونوں کے لیے قرض مہنگا کردیتا ہے، جس سے سرمایہ کاری، بھرتیوں، مکانات کی خریداری اور صارف اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔
یوں فیڈرل ریزرو دو خطرات کے درمیان کھڑا ہے: شرح بڑھاکر پہلے ہی سست ہوتی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈالنا، یا انتظار کرکے تیل کی مہنگائی کو دوبارہ مضبوط ہونے دینا۔
سونا چار ہزار ڈالر کی لکیر پر
مالیاتی بے یقینی سب سے واضح طور پر سونے کی مارکیٹ میں دکھائی دے رہی ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی فوری قیمت آج بڑھ کر تقریباً 4,036 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ 4 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح کے قریب خریداری جاری ہے۔
سونا سیاسی اور اقتصادی کشیدگی میں عموماً محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مضبوط ہوتا ہے، مگر بلند شرحِ سود اور بانڈز کے زیادہ منافع سے دباؤ میں آتا ہے کیونکہ سونا خود کوئی باقاعدہ منافع ادا نہیں کرتا۔
اس وقت سونا دو مخالف قوتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے:
جنگ اور جغرافیائی کشیدگی اسے سہارا دے رہی ہے، جبکہ سخت امریکی مالیاتی پالیسی اسے نیچے دھکیل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شرح برقرار رکھنے کے ساتھ نرم پیغام سونے کو 4,100 ڈالر سے اوپر لے جاسکتا ہے۔
اس کے برعکس سخت بیان یا شرح میں اچانک اضافہ قیمت کو 3,941 ڈالر کے قریب دھکیل سکتا ہے، جو 2026 کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہوگی۔
3 ممکنہ منظرنامے
پہلا منظرنامہ: شرح برقرار، مگر لہجہ سخت
یہ سب سے زیادہ متوقع صورتحال ہے۔
فیڈرل ریزرو شرحِ سود 3.50 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھے، لیکن مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے خطرات پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ستمبر میں اضافے کا دروازہ کھلا رکھے۔
ایسی صورت میں شرحِ سود تبدیل نہ ہونے کے باوجود ڈالر اور بانڈز کے منافع میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ سونے اور اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ آسکتا ہے۔
دوسرا منظرنامہ: چوتھائی فیصد کا حیران کن اضافہ
یہ مارکیٹس کے لیے سب سے بڑا جھٹکا ہوگا۔
اس سے ڈالر اور امریکی بانڈز کے منافع میں تیزی آسکتی ہے، جبکہ سونا، حصص اور دیگر خطرے والے اثاثے نیچے جاسکتے ہیں۔
شرح میں اضافہ یہ پیغام دے گا کہ فیڈرل ریزرو تیل اور مہنگائی کے خطرے کو ملازمتوں کی کمزور رفتار سے زیادہ سنگین سمجھتا ہے۔
تیسرا منظرنامہ: شرح برقرار اور پیغام متوازن
اگر فیڈرل ریزرو واضح کرتا ہے کہ مہنگائی میں کمی اور ملازمتوں کی سست رفتار اسے مزید اعداد و شمار کا انتظار کرنے کی اجازت دیتی ہے تو ستمبر میں شرح بڑھنے کی توقعات کم ہوسکتی ہیں۔
اس صورت میں سونے اور اسٹاک مارکیٹس کو سہارا مل سکتا ہے، جبکہ ڈالر اور امریکی بانڈز کے منافع پر دباؤ پڑسکتا ہے۔
فیصلہ اہم، مگر پریس کانفرنس زیادہ اہم
شرحِ سود کا فیصلہ سعودی وقت کے مطابق رات 9 بجے جاری ہوگا، جبکہ چیئرمین کیون وارش کی پریس کانفرنس رات ساڑھے 9 بجے شروع ہوگی۔
مارکیٹس بنیادی طور پر 4 باتیں جاننے کی کوشش کریں گی:
- کیا فیڈرل ریزرو تیل کی مہنگائی کو عارضی سمجھتا ہے؟
- کیا ستمبر میں شرح بڑھانے کا اشارہ دیا جاتا ہے؟
- شرح برقرار رکھنے کے فیصلے سے کتنے ارکان اختلاف کرتے ہیں؟
- کیا کمزور ہوتی لیبر مارکیٹ کا خطرہ اب مہنگائی کے برابر پہنچ چکا ہے؟
ممکن ہے فیصلے کے فوراً بعد مارکیٹس ایک سمت میں چلیں، مگر پریس کانفرنس کے دوران مکمل طور پر رخ بدل لیں۔
اسی لیے شرحِ سود کی رات 9 بجے ختم نہیں ہوگی، اصل فیصلہ اس وقت واضح ہوگا جب فیڈرل ریزرو کے چیئرمین بیان میں نہ کہی جانے والی باتوں کی وضاحت مکمل کریں گے۔
کیونکہ آج مارکیٹس صرف شرحِ سود کا عدد نہیں دیکھ رہیں۔
وہ اس بڑے سوال کا جواب تلاش کررہی ہیں:
کیا شرح میں کمی کا دور ختم ہوچکا اور دنیا ایک نئی سخت مالیاتی پالیسی کے لیے تیار ہورہی ہے؟