براہ راست نشریات

سعودی عرب میں خواتین کی بے روزگاری تاریخ کی کم ترین سطح پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب بے روزگاری 2026

سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے انکشاف کیا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 6.4 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹس کم ہے۔

اتھارٹی کے مطابق سعودی مردوں میں بے روزگاری کی شرح 4.9 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ 5.6 فیصد تھی۔ 

اسی طرح سعودی خواتین میں بے روزگاری 9 فیصد تک آگئی، جو گزشتہ سہ ماہی کے 10.3 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔ 

اس طرح سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

مزید پڑھیں

آج منگل کو جاری کی گئی 2026 کی پہلی سہ ماہی کی لیبر مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مملکت کی مجموعی آبادی میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو سالانہ بنیاد پر 0.4 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ 

مجموعی مرد آبادی میں بے روزگاری 2.2 فیصد جبکہ مجموعی خواتین میں 7.2 فیصد رہی۔

علاقائی سطح پر ریاض میں سعودی شہریوں کی بے روزگاری کی سب 

سے کم شرح 3.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد مشرقی صوبہ 5 فیصد اور الجوف 5.9 فیصد کے ساتھ رہے۔ 

دوسری جانب شمالی سرحدی علاقے میں سب سے زیادہ بے روزگاری 9.9 فیصد جبکہ عسیر میں 8.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

سعودی لیبر مارکیٹ

سعودی عرب میں بے روزگاری تاریخی کم ترین سطح پر

2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی لیبر مارکیٹ نے مثبت اشارے دکھائے، جہاں سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 6.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

6.4%سعودیوں میں بے روزگاری
3.1%مجموعی بے روزگاری
49.0%سعودیوں کی شرکت
67.2%مجموعی شرکت

📊 اہم اعداد و شمار

🇸🇦 سعودی شہری

سعودیوں میں بے روزگاری کی شرح 6.4 فیصد رہی، مردوں میں 4.9 فیصد جبکہ خواتین میں 9.0 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

👥 مجموعی مارکیٹ

سعودی اور غیر سعودی افراد کی مجموعی بے روزگاری 3.1 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح بہتری ظاہر کرتی ہے۔

📉 سالانہ کمی

سعودیوں میں بے روزگاری کی شرح میں سالانہ بنیاد پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

👩 خواتین کی پیش رفت

سعودی خواتین میں بے روزگاری 9.0 فیصد تک کم ہوئی، جو لیبر مارکیٹ میں خواتین کی بڑھتی شرکت کا اہم اشارہ ہے۔

📈 لیبر فورس میں شرکت

سعودی شہری 49.0%
مجموعی شرح 67.2%

📌 اس کا مطلب کیا ہے؟

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں لیبر مارکیٹ اصلاحات، نجی شعبے کی سرگرمی، خواتین کی شرکت اور روزگار کے مواقع مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بے روزگاری میں کمی وژن 2030 کے معاشی اہداف کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے روزگار افراد کی جانب سے ملازمت تلاش کرنے کا سب سے عام طریقہ براہِ راست آجر یا کمپنی سے رابطہ کرنا رہا، جس کا تناسب 74.6 فیصد تھا۔ اس کے بعد قومی متحدہ روزگار پلیٹ فارم ’جدارات‘ کا استعمال 55.2 فیصد اور پیشہ ورانہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سی وی شائع یا اپ ڈیٹ کرنا 48.5 فیصد رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 95.8 فیصد بے روزگار سعودی شہری نجی شعبے میں ملازمت کی پیشکش قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

اسی طرح 60.4 فیصد خواتین اور 45.3 فیصد مرد اس بات پر آمادہ ہیں کہ وہ ملازمت کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کا سفر کریں، جبکہ 68.2 فیصد بے روزگار خواتین اور 82.8 فیصد بے روزگار مرد روزانہ 8 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے پر رضامند ہیں۔

دوسری جانب جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے آج منگل کو بتایا کہ مملکت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری FDI کی خالص آمد 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کم ہو کر تقریباً 23.1 ارب سعودی ریال رہ گئی، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تقریباً 23.7 ارب سعودی ریال تھی۔

سعودی خبریں، لیبر، اقامہ اور بزنس قوانین کی مزید خبروں کے لیے کلک کریں