براہ راست نشریات

عراق میں کرپشن کا دھماکا، اربوں دینار برآمد، ارکانِ پارلیمنٹ گرفتار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
عراق کرپشن کریک ڈاؤن

عراق میں بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے دوران خاتون رکنِ پارلیمنٹ عالیہ نصیف کے گھر سے اربوں دینار اور سونا برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ 67 موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ و حکام کو گرفتار کر لیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا۔

عراق میں بدعنوانی کے خلاف جاری ملک گیر مہم نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسے مناظر وائرل ہوئے جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کی کارروائیاں دکھائی گئیں۔ 

ان میں عراقی رکنِ پارلیمنٹ عالیہ نصیف بھی شامل ہیں، جن کے گھر سے بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہونے کی تصاویر نے عوام کو حیران کر دیا۔

اسی دوران ان کے بیٹے ساجد کے زیرِ ملکیت گھوڑوں کے فارم پر بھی سکیورٹی فورسز نے چھاپہ مارا۔ 

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق فارم میں موجود گھوڑوں کی مالیت 70 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

بہت سے صارفین نے ان افراد کو ’بڑی مچھلیاں‘ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری، مقدمات اور سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض نے طنزیہ انداز میں کہا کہ عوام معاشی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں اور سیاست دان اپنے گھروں میں دولت کے انبار جمع کرتے رہے۔

کئی افراد نے ان سیاست دانوں کی پرانی ویڈیوز بھی دوبارہ شیئر کیں، جن میں وہ خود کو دیانت دار قرار دیتے اور حرام مال سے دور رہنے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔

15.5 ملین ڈالر سے زائد نقدی اور سونا برآمد

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عالیہ نصیف کے گھر سے 20 ارب عراقی دینار ’تقریباً 15.5 ملین امریکی ڈالر‘ سے زائد نقد رقم اور بڑی مقدار میں سونا برآمد کیا۔ 

بعد ازاں انہیں ان کے بیٹے کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔ 

ان کا بیٹا ماضی میں سابق عراقی وزیر اعظم محمد السودانی کے دفتر میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے۔

گرین زون میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

یہ کارروائیاں اتوار کی صبح بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں کی گئیں، جہاں سفارت خانے، حکومتی دفاتر اور اہم ریاستی ادارے واقع ہیں۔ 

سکیورٹی فورسز نے اب تک تقریباً 67 موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور سرکاری عہدیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق تحقیقات اور گرفتاریاں بدستور جاری ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید درجنوں شخصیات بھی قانون کی گرفت میں آ سکتی ہیں۔

اعترافات سے بے نقاب ہوا مبینہ نیٹ ورک

یہ وسیع کارروائی سابق ڈپٹی وزیرِ تیل برائے ریفائننگ عدنان الجمیلی کے اعترافی بیانات کے بعد شروع کی گئی۔ 

انہیں گزشتہ ماہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، اور دورانِ تفتیش ان کے بیانات نے مبینہ طور پر بدعنوانی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ دیا۔

چند روز قبل انہی تحقیقات کے دوران حکام نے 67 ارب عراقی دینار اور 10 لاکھ امریکی ڈالر نقد بھی ضبط کیے تھے، جس کے بعد احتسابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں