عراق میں بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے دوران خاتون رکنِ پارلیمنٹ عالیہ نصیف کے گھر سے اربوں دینار اور سونا برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ 67 موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ و حکام کو گرفتار کر لیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا۔
عراق میں بدعنوانی کے خلاف جاری ملک گیر مہم نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایسے مناظر وائرل ہوئے جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کی کارروائیاں دکھائی گئیں۔
ان میں عراقی رکنِ پارلیمنٹ عالیہ نصیف بھی شامل ہیں، جن کے گھر سے بڑی مقدار میں نقد رقم برآمد ہونے کی تصاویر نے عوام کو حیران کر دیا۔
اسی دوران ان کے بیٹے ساجد کے زیرِ ملکیت گھوڑوں کے فارم پر بھی سکیورٹی فورسز نے چھاپہ مارا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق فارم میں موجود گھوڑوں کی مالیت 70 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
أكثر من 20 مليار دينار عراقي نحو 15 مليونا ونصف المليون دولار تقريبا وكميات من الذهب عُثر عليها في منزل النائبة العراقية عالية نصيف التي تم اعتقالها مع ابنها الذي كان يشغل مدير مكتب رئيس الوزراء العراقي السابق محمد السوداني pic.twitter.com/3xvjmOZM55
— العربية (@AlArabiya) June 28, 2026
بہت سے صارفین نے ان افراد کو ’بڑی مچھلیاں‘ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری، مقدمات اور سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض نے طنزیہ انداز میں کہا کہ عوام معاشی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں اور سیاست دان اپنے گھروں میں دولت کے انبار جمع کرتے رہے۔
کئی افراد نے ان سیاست دانوں کی پرانی ویڈیوز بھی دوبارہ شیئر کیں، جن میں وہ خود کو دیانت دار قرار دیتے اور حرام مال سے دور رہنے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔
15.5 ملین ڈالر سے زائد نقدی اور سونا برآمد
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عالیہ نصیف کے گھر سے 20 ارب عراقی دینار ’تقریباً 15.5 ملین امریکی ڈالر‘ سے زائد نقد رقم اور بڑی مقدار میں سونا برآمد کیا۔
بعد ازاں انہیں ان کے بیٹے کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔
ان کا بیٹا ماضی میں سابق عراقی وزیر اعظم محمد السودانی کے دفتر میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے۔
🔴 فقط في منزل النائب عالية نصيف
— مـحـمـد ألـخـطـاب (@alkatab83) June 28, 2026
🔺 شكراً أم حسين ماقصرتي pic.twitter.com/I2j3KoYsco
گرین زون میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں
یہ کارروائیاں اتوار کی صبح بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں کی گئیں، جہاں سفارت خانے، حکومتی دفاتر اور اہم ریاستی ادارے واقع ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے اب تک تقریباً 67 موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور سرکاری عہدیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق تحقیقات اور گرفتاریاں بدستور جاری ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید درجنوں شخصیات بھی قانون کی گرفت میں آ سکتی ہیں۔
اعترافات سے بے نقاب ہوا مبینہ نیٹ ورک
یہ وسیع کارروائی سابق ڈپٹی وزیرِ تیل برائے ریفائننگ عدنان الجمیلی کے اعترافی بیانات کے بعد شروع کی گئی۔
قيمة الخيول داخل المزرعة الخاصة للنائب عالية نصيف، مكافحة الفساد وعضو ائتلاف الاعمار والتنمية تفوق الـ ٧ مليون دولار https://t.co/kwFwBGlnD3
— Yasser Eljuboori - ياسر الجبوري (@YasserEljuboori) June 28, 2026
انہیں گزشتہ ماہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، اور دورانِ تفتیش ان کے بیانات نے مبینہ طور پر بدعنوانی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ دیا۔
چند روز قبل انہی تحقیقات کے دوران حکام نے 67 ارب عراقی دینار اور 10 لاکھ امریکی ڈالر نقد بھی ضبط کیے تھے، جس کے بعد احتسابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔