سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب کی خدماتی برآمدات 7.9 فیصد اضافے کے ساتھ 71.3 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جبکہ خدماتی درآمدات میں 6.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سیاحت، نقل و حمل اور ڈیجیٹل خدمات نے اس نمو میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سعودی عرب کی خدمات پر مبنی معیشت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مملکت کی خدماتی برآمدات بڑھ کر 71.3 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جبکہ 2025 کی آخری سہ ماہی میں یہ 66.1 ارب ریال تھیں۔
اس طرح صرف 3 ماہ میں 7.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سیاحت، نقل و حمل اور جدید خدمات کے شعبوں میں مسلسل توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب خدماتی درآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی۔
پہلی سہ ماہی کے دوران درآمدات 111.4 ارب ریال رہیں، جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ 119.6 ارب ریال تھیں، یعنی 6.9 فیصد کمی واقع ہوئی۔
مزید پڑھیں
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت مقامی خدماتی شعبے کو مضبوط بنانے اور بیرونی خدمات پر انحصار کم کرنے میں پیش رفت کر رہی ہے۔
آج پیر کے روز سعودی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سفری خدمات سعودی خدماتی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئیں۔ اس شعبے کی برآمدات 44.3 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جو مجموعی خدماتی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس رقم میں ذاتی سفر سے متعلق اخراجات کا حصہ 96.6 فیصد رہا، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مملکت میں آنے والے سیاحوں، زائرین اور عمرہ و دیگر مقاصد کے لیے آنے والے افراد کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
نقل و حمل کا شعبہ خدماتی برآمدات میں دوسرے نمبر پر رہا، جس کی مالیت 10.9 ارب ریال ریکارڈ کی گئی۔ اس شعبے میں فضائی نقل و حمل کا حصہ 39.9 فیصد رہا، جبکہ اس کے بعد سمندری اور زمینی نقل و حمل شامل رہے۔
یہ اعداد و شمار سعودی عرب کی خطے میں لاجسٹک اور فضائی رابطوں کے مرکز بننے کی حکومتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور معلوماتی خدمات کی برآمدات 2.6 ارب ریال تک پہنچ گئیں، جن میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کا حصہ 50.5 فیصد رہا۔
اسی طرح سرکاری خدمات کی برآمدات بھی 2.6 ارب ریال ریکارڈ کی گئیں۔
اس کے علاوہ دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات 2.4 ارب ریال رہیں، جن میں پیشہ ورانہ اور انتظامی مشاورتی خدمات کا حصہ تقریباً 51 فیصد تھا۔
تعمیراتی خدمات کی برآمدات تقریباً 2 ارب ریال جبکہ مالیاتی خدمات کی برآمدات 1.7 ارب ریال رہیں، جو سعودی معیشت میں خدمات کے متنوع شعبوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
📊 اہم معاشی نکات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مینوفیکچرنگ، انشورنس، پنشن، ذاتی، ثقافتی اور تفریحی خدمات نے بھی خدماتی برآمدات میں اپنا حصہ ڈالا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مملکت کا خدماتی شعبہ تیزی سے متنوع ہو رہا ہے۔
دوسری جانب خدماتی درآمدات میں بھی سب سے بڑا حصہ نقل و حمل کا رہا، جس کی مالیت 31.8 ارب ریال ریکارڈ کی گئی۔
اس شعبے میں سمندری نقل و حمل کا حصہ 40.9 فیصد رہا، جبکہ اس کے بعد فضائی اور زمینی نقل و حمل شامل رہے۔
یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی وژن 2030 کے تحت سیاحت، لاجسٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور پیشہ ورانہ خدمات کے فروغ کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
خدماتی برآمدات میں مسلسل اضافہ نہ صرف غیر تیلی آمدنی بڑھانے میں مدد دے رہا ہے بلکہ سعودی معیشت کو زیادہ متنوع اور پائیدار بنانے کے قومی ہدف کو بھی تقویت فراہم کر رہا ہے۔