امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات غیر متوقع طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
اس دوران واشنگٹن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو کسی بھی خطرے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات اچانک معطل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ تکنیکی اجلاس مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاہم اس فیصلے کی وجوہ یا مذاکرات دوبارہ کب شروع ہوں گے، اس بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں
چند روز قبل واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کر کے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار، ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کے جزوی اجراء جیسے معاملات پر بات کریں گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات معاہدے
کے تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر مرکوز ہوں گے، جبکہ مفاہمتی یادداشت پر آئندہ 60 روز کے اندر عمل درآمد شروع کیا جائے گا، اور انہیں امید ہے کہ ایران اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
آبنائے ہرمز پر امریکی سخت مؤقف
مذاکرات کی معطلی کے ساتھ ہی امریکہ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے Fox News Sunday کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران سمجھتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی اجازت دیں گے، تو وہ مکمل طور پر غلط فہمی میں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ عالمی بحری تجارت اور آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
اختلافات بدستور برقرار
گزشتہ چند روز کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات نمایاں ہوئے ہیں، جن میں ایران کے منجمد فنڈز کے استعمال کا طریقہ، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے معائنہ کاروں کی واپسی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا مستقبل شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بہت بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور بعد ازاں کہا کہ تہران میری تمام شرائط مان رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے متعدد مرتبہ امریکی حکام کے بعض دعوؤں کی تردید کی، خصوصاً اس مؤقف کی کہ آزاد کیے جانے والے ایرانی فنڈز امریکی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے۔
اب تک نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے مذاکرات کی معطلی کی وجہ یا دوبارہ آغاز کی ممکنہ تاریخ کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت بدستور مؤثر ہے۔
1 تبصرہ
میرا خیال ہے دونوں طرف سے زیادتی ہے۔