براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز پر ایران کا دعویٰ: جہاز رانی صرف ہم بحال کر سکتے ہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
آبنائے ہرمز

امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے بعد اگرچہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی دوبارہ شروع ہو گئی ہے، لیکن اس اہم آبی گزرگاہ کا مستقبل اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایران نے نہ صرف مستقبل میں جہازوں سے فیس وصول کرنے کا عندیہ دیا ہے بلکہ پیشگی اجازت کے نظام اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں اپنے مرکزی کردار پر بھی زور دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی اور ایرانی حملوں کے تبادلے نے عالمی شپنگ کمپنیوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بحال ہونے کے باوجود دنیا کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ کا مستقبل تاحال غیر یقینی ہے۔ ایک جانب اس کے انتظامی نظام پر مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر جنرل محسن رضائی نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ تہران مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کرے گا۔ 

ان کے مطابق ان خدمات میں جہاز رانی کا تحفظ، سمندری ماحول کی حفاظت اور بحری حادثات سے نمٹنے کے انتظامات شامل ہیں، اور ان کے اخراجات ایرانی عوام کے بجائے گزرنے والے جہازوں کو برداشت کرنے چاہئیں۔

مزید پڑھیں

ابتدائی امریکی، ایرانی مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ممالک نے 30 سے 60 روزہ عبوری مدت کے دوران تجارتی جہاز رانی بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس عرصے میں کسی بھی جہاز سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ تاہم عبوری مدت کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام کا حتمی طریقۂ کار آئندہ 60 روزہ مذاکرات میں طے کیا جائے گا، جن میں ایران، سلطنت عمان اور خلیجی ساحلی ممالک شریک ہوں گے تاکہ بین 

الاقوامی قانون کے مطابق مستقل انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران نے بحری جہازوں سے آبنائے ہرمز عبور کرنے سے پہلے پیشگی اجازت لینا بھی لازمی قرار دینا شروع کر دیا ہے اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ChatGPT Image 27 يونيو 2026، 01 56 55 ص

 امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ سے قبل ایسا نظام موجود نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سمندری گزرگاہ پر اپنا انتظامی اختیار مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی حملوں نے بھی بحری نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔ 

اگرچہ جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تاہم عالمی شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے خلیج میں پھنسے جہازوں کے انخلا کی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے آبنائے ہرمز میں خطرے کی سطح مزید بڑھا دی ہے کیونکہ تجارتی جہاز اب بھی حملوں کی زد میں ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک 500 سے زائد جہازوں کو محفوظ انداز میں آبنائے ہرمز سے گزارنے میں مدد دی جا چکی ہے، تاہم دستیاب بحری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جہازوں کی آمدورفت اب بھی جنگ سے پہلے کی معمول کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کو سرکاری دورے پر بغداد پہنچے، جہاں انہوں نے عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ رکاوٹیں دور ہوتے ہی آبنائے ہرمز میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا صرف ایران کی ذمہ داری ہے۔

ChatGPT Image 28 يونيو 2026، 02 29 05 م

انہوں نے عراق کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے نئی عراقی حکومت کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین نے کہا کہ عراق خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے انہیں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی حالیہ مفاہمت سے آگاہ کیا ہے۔ 

ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراقی تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں، اس لیے ضروری ہے کہ یہ اہم بحری راستہ ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک رہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو پورا خطہ تباہ کن نتائج سے دوچار ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر فوجی حملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ 

امریکی فوج نے جنوبی ایران میں نئے فضائی حملے کیے، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور مزید کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ 

آبنائے ہرمز

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکہ دوبارہ جنگ پر مجبور ہوا تو اس کے نتائج ایران کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔

واضح رہے کہ 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی، متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کی تشکیل، آبنائے ہرمز کے مستقبل، ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں جیسے اہم معاملات پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ 

ان تکنیکی کمیٹیوں کے آئندہ دنوں میں قطر اور اسلام آباد میں اجلاس متوقع ہیں۔

1 تبصرہ

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے