یورپ شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہیں، جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ہیٹ ویو صحت، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ طویل دورانیے کی گرمی سے اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
یورپ اور مصر اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ہیٹ ویو نہ صرف انسانی صحت بلکہ بنیادی ڈھانچے، زراعت اور توانائی کے شعبے کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
جرمنی میں محکمہ موسمیات کے مطابق فرانسیسی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت ابتدائی طور پر 41.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو رواں موسم گرما کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور سوئٹزرلینڈ بھی ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جبکہ یہی گرم ہوائیں اب مشرق کی جانب پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
فرانس میں شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
شدید درجہ حرارت نے ریلوے نظام اور بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا، متعدد اسکول بند کر دیے گئے، کھلے میدانوں میں ہونے والی تقریبات ملتوی کر دی گئیں اور سڑکوں و ریلوے لائنوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
دوسری جانب مصر میں بھی محکمہ موسمیات اور ماہرین نے آئندہ کم از کم دس روز تک جاری رہنے والی شدید گرمی کی لہر سے خبردار کیا ہے۔
وزارت زراعت کے موسمیاتی تبدیلی مرکز کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی فہیم کے مطابق ملک بیک وقت تین موسمی عوامل سے متاثر ہوگا، جن میں مسلسل شدید گرمی، سورج کی تیز شعاعیں اور صبح کے وقت نمی میں نمایاں اضافہ شامل ہیں، جس سے گرمی کی شدت مزید محسوس ہوگی۔
جرمن محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ انسانی جسم کسی حد تک گرمی سے مطابقت اختیار کر لیتا ہے، لیکن جب رات کے وقت بھی درجہ حرارت کم نہ ہو تو جسم کو بحالی کا موقع نہیں ملتا، نیند متاثر ہوتی ہے اور اگلے دن گرمی برداشت کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق جوں جوں ہیٹ ویو طویل ہوتی جاتی ہے، اموات کا خطرہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔
خاص طور پر دل اور خون کی شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد میں ہیٹ ویو کے گیارہویں اور بارہویں دن اموات کی شرح معمول کے مقابلے میں 18 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ ابتدائی دنوں میں یہ اضافہ تقریباً 8.5 فیصد رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جرمنی سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آ رہی ہیں، جس کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔