فرانس سمیت مغربی یورپ کے بڑے حصے کو شدید گرمی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس صورتحال نے معمولاتِ زندگی کے ساتھ فرانس کے توانائی کے نظام، بالخصوص جوہری پاور پلانٹس کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
جوہری پلانٹس کی پیداوار میں کمی
فرانس کی معروف کمپنی الیکٹرک ڈی فرانس نے جنوب مغربی فرانس میں دریائے گارون کے کنارے واقع ’گولفیش‘ پلانٹ کا دوسرا ری ایکٹر بند کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ ’نوجان سور سین‘ اور ’بوجے‘ کے جوہری پلانٹس میں بھی بجلی کی پیداوار کو محدود کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے فرانس کی مجموعی جوہری بجلی کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 4.6 فیصد متاثر ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر گرمی کا سلسلہ جاری رہا تو ’بلائے‘ اور ’سان البان‘ کے پلانٹس کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے توانائی کی فراہمی پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پاور پلانٹس بند کیوں کیے جا رہے ہیں؟
جوہری ری ایکٹرز بجلی پیدا کرنے کے لیے یورینیم کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی حرارت کا استعمال کرتے ہیں جس سے بھاپ بنتی ہے۔
اس بھاپ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں یا سمندر کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ شدید گرمی میں دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہوتا ہے۔
ماحولیاتی قوانین کے تحت ری ایکٹرز سے خارج ہونے والا گرم پانی دریاؤں کے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب دریا کا پانی ایک خاص حد سے زیادہ گرم ہو جائے، تو پلانٹس کو حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط کے تحت بند کرنا پڑتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر
یہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں توانائی کے نظام کو کس قدر کمزور بنا رہی ہیں۔
ایک طرف شدید گرمی کے باعث ائر کنڈیشنرز کے استعمال سے بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف گرم پانی کی وجہ سے پیداواری صلاحیت کم ہو رہی ہے۔
فرانس میں گرمی کے دوران ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے بجلی کی طلب تقریباً 0.7 سے 1 گیگا واٹ بڑھ جاتی ہے۔
اگرچہ فرانس کے لیے سردیوں میں ہیٹنگ کی طلب زیادہ ہوتی ہے، مگر بدلتے موسموں نے اب تابکاری سے محفوظ جوہری توانائی کو بھی ماحولیاتی چیلنجز کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
فرانسیسی حکام کا اصرار ہے کہ یہ بندشیں نیوکلیئر سیفٹی کے خطرے کے بجائے ماحولیاتی قواعد کا حصہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں توانائی کی پالیسیوں کو موسمیاتی تغیرات اور پانی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے ازسرنو ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔