مضمون میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا موجودہ آئی پی اوز واقعی سرمایہ کاری کا سنہری موقع ہیں یا پھر وہ زیادہ تر بڑے شیئر ہولڈرز کو فائدہ اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مصنف کا مؤقف ہے کہ مضبوط نگرانی، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے بغیر سرمایہ مارکیٹ پر اعتماد کمزور ہوتا جائے گا۔
ایسے حالات میں سرمایہ کار کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ کیا کمپنی کی اصل مالی تصویر مکمل طور پر پیش کی گئی تھی؟ کیا حصص کی قیمت کا تعین حقیقت پسندانہ تھا؟
کسی بھی مالیاتی منڈی کی کامیابی کا معیار صرف نئے آئی پی اوز کی تعداد نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد، شفافیت، مضبوط نگرانی اور طویل المدت سرمایہ کاری کا فروغ ہوتا ہے۔
اگر نئے آئی پی اوز مسلسل چھوٹے سرمایہ کاروں کے خوابوں کو خساروں میں بدلتے رہے تو نقصان صرف سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری مارکیٹ کی ساکھ متاثر ہوگی۔
مالیاتی منڈیوں کو ایسی کمپنیوں کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے حقیقی دولت پیدا کریں، نہ کہ ایسے آئی پی اوز جو امیدیں بیچ کر بعد میں مایوسی اور خسارے کا سبب بن جائیں۔